یکم نومبر۲۰۲۱ء کو سرینگر کے ٹائیگور ہال میں جموں و کشمیر مہجور فائو نڈیشن کی طرف سے ایک شاندار ادبی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔اس موقع پر شاعر کشمیر غلام احمد مہجور کی نادرتصنیف ’’ حیات رحیم ‘‘ اشاعتِ دوم جس کو مصنف کے پوتے ابدال احمد مہجور نے ترتیب دیا ہے ،کی رسم رونمائی وادی کشمیر کے بعض معروف دینی علماء و ادبی شخصیات کے ہاتھوں عمل میں لائی گئی۔ ’حیات رحیم‘ نامی یہ نایاب کتاب مہجور صاحب کے اُن تصانیف کی لسٹ میں سرفہرست ہے جو تالیفات آپ اپنے دور حیات میں شائع کرکے ادبی دنیا میں ایک اعلیٰ مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔حالانکہ مہجور صاحب برصغیر ہندو پاک میں عوامی اور ادبی حلقے ایک انقلابی اور حُب الوطن شاعر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہوگا کہ آپ ایک عظیم شاعر ہونے کے علاوہ ایک اعلیٰ پایہ کے مصنف،تاریخ دان، صحافی اور خوش نویس بھی تھے۔جس طرح مہجور صاحب کا بیشتر شاعرانہ کلام کتابی صورتوںمیں شائع ہوچکا ہے، اُسی طرح آپ کی کئی نثری کتابیں بھی منظر عام پر آئی ہیں لیکن ستم ظریفی ہے کہ ان تالیفات کی نایابی کے سبب عوام الناس ادباء اور علماء ان کتابوں کے صفوں پر بکھرے بیش قیمتی علمی تاریخی اور ادبی اثاثے سے مستفید ہونے سے قاصر رہے ۔کلام مہجور ،پیام مہجور اور کلیات مہجور وہ شاعری مجموعے ہیں جن میں مہجور صاحب کا بیشتر کلام موجود ہے جبکہ حیات رحیمؒ،پٹھواری اور سفر نامہ لداخ آپ کی مقبول ترین نثری تصانیف ہیں ،جن کو علمی ،ادبی اور عوامی حلقوں میں خوب سراہا ہے۔ ’’گاش ‘‘ نام سے مہجور صاحب ایک کشمیری ہفتہ روزہ بھی اپنے دور حیات میں کئی برس تک جاری کرتے رہے، جو سیاسی ،تعلیمی، ادبی اور صحافتی حلقوں میں پسند کیا جا رہا تھا ۔مہجور صاحب کے کلام کے بعض انقلابی ،دعائیہ اور حب الوطنی پر مبنی مقبول عام نظمیں ہمارے شعبہ تعلیم نے تد ریسی کتابوں میں بھی شامل کرلئے ہیں اور بعض قومی وبین الاقوامی سطح کے کلام کو مختلف زبانوں بطور خاص انگریزی زبان میں ترجمہ کیا جاچکا ہے۔ یہاں میں یہ بات بتا نا ضروری سمجھتا ہوں کہ مہجور صاحب کے وارث ابدال صاحب نے علمی و ادبی حلقوں کی فرمائش پر اپنے دادا جان کی نایاب تصانیف کو از سر نو منظر عام پر لانے کا تہیہ کر رکھا ہوا ہے۔چند برس قبل انہوں نے مہجور صاحب کی ایک خاص اور نایاب تصنیف ’’پٹھواری‘‘ کو سر نو ترتیب دیکر منظر عام پر لاکر داد تحسین حاصل کی۔ یہ کتاب محکمہ مال میں کام کر رہے پٹھواری حضرات کیلئے کسی قیمتی تحفے سے کم نہیں ہے۔اخبار’’ گاش‘‘ کو بھی انہوں نے اب میگزین کی شکل میں نئے زمانے کے نئے تقاضوں کے عین مطابق سہ ماہی بنیادوں پر شائع کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔اب تک گاش نامی اس میگزین کے کئی شمارے جاری کئے جاچکے ہیں جن میں علم و ادب کا بیش بہا سرمایہ کئی زبانوں میں محفوظ کیا جاچکا ہے تاکہ علم و عرفان کے پیاسے لوگ مستفید ہوتے رہیں گے۔
جہاں تک حیات رحیم نامی تصنیف کا تعلق ہے یہ شاعر کشمیر مہجوؔر کی تذکرہ نویسی کا شاندار شاہکارہے۔ دراصل یہ کتاب مہجور صاحب کے پیرو مرشد حضرت شاہ عبدالرحیم قلندرؒ صفاپور جو رحیم بادشاہ اور سلطان الفقراء کے نام سے کشمیر میں مشہور و معروف ہیں، کی سوانح حیات ہے ۔جہاں کتاب ھٰذا میں مہجور صاحب نے سلطان الفقراء شاہ رحیم ؒ کے روحانی کمالات اور کشف و کرامات کا تذکرہ بڑی بیباکی سے کیا ہے وہیں اس تصنیف میں آپ نے انیسویں صدی کی آخری دہائیوں اور بیسویں صدی کے ابتدائی دورکے دوران خطہ کشمیر میں رونماء ہوچکے تاریخی و سماجی واقعات کو کتاب کا حصہ بنادیا گیا ہےتاکہ کتاب کی سماجی اہمیت اور تاریخی افادیت برقرار رہ پائے۔کشمیر کی عظیم الشان رُوحانی میراث اور صوفیانہ روایات کا عکس بھی کتاب ھٰذا میں خوب نظر آرہا ہے ۔حیات رحیم ؒمیں ما قبل ۱۹۱۷ء لگ بھگ پچاس برس کے دوران کشمیری مخلوط قوم بطور خاص مسلم سماج کو پیش آچکے گوناگوں سماجی ،معاشرتی ،اقتصادی اور مالی حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے، جس سے کتاب کی تاریخی اہمیت اور مولف کے دور اندیشانہ صفات اُجاگر ہورہے ہیں۔چنانچہ کتاب ھٰذا اُس زمانے میں ضبط تحریر لائی جاچکی ، جس دور میں جنگ عظیم اول وقوع پزیر ہوا ہےاوروادیٔ کشمیر میں سخت ترین قحط پڑااورہیضہ نامی موذی لاعلاج بیماری پھوٹ پڑی تھی ۔جبکہ شاہ رحیم ؒ کی طرف سے اُس دورِ پُر آشوب میںبے یارو مدد گار اور مفلوک الحال قوم ِ کشمیر کے تئیںپیش رکھی گئیں خدمات کو مہجور صاحب نے خصوصیت کے ساتھ اُجاگر کرکے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ایک مرد مومن کبھی بھی سماجی معاملات اور عوامی مسائل سے اپنی نظریں چُرا نہیں سکتا بلکہ مشکل اوقات میں اللہ کا بندہ امداد کے طلب گاروں کو راحت رسانی کیلئے ہمیشہ ہر اول دستے میں شامل ہواکرتا ہے ۔اس مشکل ترین دور میں شاہ رحیم ؒ نے کس جانفشانی اور صدق دلی سے عوام الناس کو امداد بہم پہنچانے کی کوششیں کیں،ان واقعات کا ذکر مہجور صاحب نے کتاب میں خوب کیا ہے۔ مصنف نے اور بھی کئی سماجی اور روحانی اہمیت کے حامل واقعات کو کتاب کی زینت بنادیا ہے جن کو مضمون ھٰذا میں شامل کرنا راقم کیلئےمضمون کو طوالت دینے کے مترادف ہوگا۔
حضرت پیر غیاث الدین شاہ ؒ یاری کلان چاڈورہ بادشاہ رحیم ؒ کے خلیفہ خاص رہ چکے ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ رحیم صاحب ؒ کی خدمت گزارا۔مرشد کامل شاہ رحیمؒ اور مرید صادق شاہ غیاث الدین ؒ کے درمیان نزدیکی قرابت داری سے روحانی توروحانی گھریلو رشتہ بھی اس قدر استوار ہوچکا تھا کہ ایک دوسرے کے گھریلو و سماجی معاملات میں دلچسپی لینا ان کا شعار بن چکا تھا۔ جس وقت پیر غیاث الدین ؒکو اپنی لخت جگر مسمات مہتاب بیگم کے رشتہ ازدواج کامسئلہ درپیش آیا تو بادشاہ رحیمؒ نے ہی باطنی طریقے سے غیاث صاحب کو اپنی دختر نیک اختر کا نکاح احمد صاحب (مہجور ) کے ساتھ طے کرنے کااشارہ دیا ۔یہ عقدہ نکاح با عمل آنے سے مہجور اور پیر غیاث الدینؒ کے درمیان پیر مریدی کے ساتھ ساتھ قرابت داری کا رشتہ بھی استوار ہوگیا ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ازدواجی رشتے کا یہ پیڑ ایک تناور درخت کی شکل اختیار کرگیا جس کافرحت بخش سایہ فی الوقت خطہ کشمیر کے اطراف و اکناف میں پھیل چکا ہے۔ حیات رحیم تصنیف میں مہجور صاحب اپنے والد نسبتی اور پیر کامل پیر غیاث الدین اور بادشاہ رحیم صاحب ؒکے درمیان باہمی اور روحانی تعلقات کا ذکر خیر نہایت ہی عقیدت کے ساتھ کرچکے ہیں۔
بہر کیف حیات رحیمؒ نامی اس پُر مغز کتاب کو شاعر کشمیر نے حضرت رحیم صاحب ؒ کے دور حیات میں بے حد مالی مشکلات کے باوجود۱۹۱۷ء میں لاہور سے شائع کراکے منظر عام پر لانے میں کامیابی حاصل کی تھی۔یہ وہ زمانہ تھا جب ملک کشمیر ایک الگ مملکت کی حیثیت سے متعلق العنان حکمرانوںکے زیر قبضہ دنیا کے نقشے پر نمایا ںتھی جبکہ بھارت پاکستان اور بنگلہ دیش متحدہ ہندوستان کی شکل میں ایک وشال دیش کی صورت میں تابان تھا۔ ۱۹۱۷ء میںشاعر مشرق علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال ؒ شاعرانہ اور ادیبانہ اُفق پر ایک درخشندہ ستارے کی مانند جلوہ افروز ہوچکے تھے۔مہجور صاحب اور اقبال صاحب کے باہمی تعلقات اور ادیبانہ مراسم نزدیک سے نزدیک تر ہوچکے تھے یہی وجہ تھی کہ مہجور صاحب نے اپنی اس نادر تصنیف کی پہلی کاپی ڈاکٹر اقبال ؒ کے نام ارسال کردی تاکہ ایک کشمیری مصنف کی طرف سے اردو زبان میں تحریر کئی گئی پہلی سوانح حیات کو حلقہ ہائے اردوادب و ثقافت میں پزیرائی حاصل ہو سکے۔اقبال ؒ کتاب ھٰذا کا مطالعہ کرنے کے بعد اس قدر متاثر ہوچکے تھے کہ آپ نے مہجور صاحب کے نام تین ماہ بعد در ماہ اپریل ۱۹۱۷ء ایک جوابی پوسٹ کارڈبھی ارسال کر دیا تھا جس میں ڈاکٹر صاحب نے مہجور صاحب کی کا وشوں کی خوب سراہنا کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مہجور صاحب کوکشمیر اور کشامرہ کے متعلق حالات و واقعات پرتصنیف و تالیف کا سلسلہ جاری رکھنے اور کشمیری شعراء کے تذکرے کی طرف جلد توجہ دینے کی تاکید فرمائی تھی۔ یہ پوسٹ کارڈ ایک تاریخی دستاویز کی صورت میں فی الوقت مہجور صاحب کے ورثاء کے پاس محفوظ ہے ۔ حیات رحیم ؒ اشاعت دوم کے ترتیب کار ابدال احمد مہجور نے خط ھٰذا کا عکس کتاب میں شائع کراکے اسکی قدرو منزلت اور تاریخی اہمیت بڑھا دی ہے۔ حیات رحیم تصنیف کو کئی امتیازات بھی حاصل ہیں۔پہلا یہ کہ اس کی پہلی کاپی حکیم الامت ڈاکٹر علامہ اقبال ؒ کو روانہ کی جاچکی تھی اور دوسرا یہ کہ جموں و کشمیر یونیورسٹی کے بانی ، ممتاز دانشور اور ماہر تعلیم خواجہ غلام احمد عشائی نے مہجور صاحب کو کتاب ھٰذا کی صحت و ترتیب میں اپنا بھر پور تعاون پیش کیا تھا۔تیسرا یہ کہ عظیم محقق و مورخ ِکشمیر جناب منشی محمد فوق جن کو علامہ اقبالؒ نے مُجددِ کشامرہ کا خطاب دیا تھا، نے کتاب کے مسودہ پر نظر ثانی فرمائی تھی۔چنانچہ پیر زادہ ابدال احمد مہجورنے حیات رحیم ؒ تصنیف میں درج تاریخی تہذیبی اور تحقیقی مسودے کو از سرنو ترتیب دیاہے۔ ۲۹۴ صفحات پر مشتمل اس کتاب کو انہوں نے کم و بیش ایک صدی کے بعد موجودہ زمانے کے تقاضوں اورتصورات کے پیرائے میں ڈالکر عاشقان علم و ادب کی پسند کا خاص خیال رکھا ہے ۔ کتاب کا گیٹ اپ دلکش اور پرنٹنگ دیدہ زیب ہے ۔ سرورق بادشاہ رحیم ؒ کے آستان عالیہ اور مہجور صاحب کی ایک خوبصورت تصویر سے سجایا گیا ہے ۔یہ دلکش اور دلفریب سر ورق کتاب بینوں کو اپنی طرف ایک دم مائل کرنے میں کامیاب ہوتاہے ۔ حیات رحیم ؒ کا یہ نیا ایڈیشن اس لحاظ سے بھی علمی و ادبی حلقوں کیلئے کافی سود مند ثابت ہوسکتا ہے کہ اس میں معروف دانشور مولانا شوکت حسین کینگ کا کتاب کے متعلق ’تفصیلی مقدمہ‘، معروف صاحب ِقلم محمد یوسف ٹینگ صاحب کا ’تجزیاتی مطالعہ ‘اور ابدال احمد مہجورکا’ حرف آغاز‘ شامل ہے۔ معروف قلم کار منشور بانہالی کا’ تبصرہ‘ بھی کتاب کی اہمیت اورافادیت میں اضافہ کرنے میں ا ہم کردار رہاہے۔ حیات رحیمؒ میںمہجور صاحب نے مولانا رومیؒ کے طرز پر پچاس اشعار پر مشتمل ایک خوبصورت مثنوی (نالہء مہجور) نام سے اپنے پیر کامل رحیم صاحب سوپوری کی شان میں نذرانہ عقیدت کی صورت میں شامل کر رکھی تھی۔ اس مثنوی کو فارسی مضمون کے اُستاد ڈاکٹر شاداب ارشد نے اردو زبان میںترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ حیات رحیمؒ کے دوسرے ایڈیشن کی رونق میں اضافہ کررہا ہے۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ حیات رحیمؒ کا دیباچہ اور تمہید جو مصنفِ کتاب مہجور صاحب نے از خود تحریر فرمایا تھا اس دیباچے اور تمہید کو ترتیب کار نے نئے ایڈیشن میں خصوصیت کے ساتھ شامل کر رکھا ہے ۔ مہجور صاحب نے اپنی اس تصنیف ’’حیات رحیم ‘‘کو حضرت رحیم ؒ صاحب کے خلیفہ خاص حضرت پیر غیاثُ الدین جو مہجور صاحب کے پیر کامل اور والد نسبتی بھی تھے کے نام نذر کرچکے تھے جبکہ اشاعت دوم کے ترتیب کار نے اس نئے ایڈیشن کو ڈاکٹر سر محمد اقبال ؒکے نام منسوب کر رکھ دیاہے۔
کتاب میں شامل عنوانات کوچار ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔باب اول میں’’ حرف آغاز‘‘ اور’’ اظہار تشکر‘‘کے ساتھ ساتھ کینگ صاحب کا’’ مقدمہ‘‘، ٹینگ صاحب کا’’ تجزیاتی مطالعہ ‘‘، شاداب ارشد صاحب کیطرف سے فارسی مثنوی ’نالۂ مہجور‘کا ’’اردو ترجمہ و تبصرہ‘‘ اور منشور بانہالی کا’’ تبصرہ‘‘رکھا گیا ہے۔ اس باب میں پیر زادہ غلام احمد مہجور کی طرف سے پیر غیاث الدین ؒکے نام انتساب میں لکھا گیا نذر بھی شامل ہے۔باب دوم میں مہجور صاحب کا تحریرکردہ دیباچہ، تمہید اور مثنوی نالۂ مہجور کوشامل رکھاہے۔ آخری باب میں ترتیب کار نے اپنے علاوہ پیر عبدالعزیز شاہؒ،پیر بشیر الحق اور انجان کشمیر کی طرف سے بادشاہ رحیمؒ کے نام منسوب نذ رانہ عقیدت کو شامل کرکے کتاب کی خوبصورتی دوبالا کردی ہے۔ اصل حیات رحیمؒ تصنیف کے دیباچہ کا عکس بھی کتاب ھٰذا میں من و عن شامل ہے جو نئے ایڈیشن کو تاریخ ساز بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کتاب میں ترتیب کار نے آستان عالیہ رحیم صاحب صفاپوری ،مرکدہ غلام احمد مہجور کے علاوہ کئی تاریخی تصویریں بھی شامل رکھی ہیں، جن سے یہ کتاب بہت دلکش بن چکی ہے ۔ابدال صاحب کی اس قابل تعریف کوشش کو ادبی ثقافتی تعلیمی اورعوامی حلقوں میں خوب سراہا جارہا ہے۔
(خانصاحب بڈگام کشمیر)