سوشل میڈیا۔ کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا ؟

ایک مہذب، متمدن ، پُرامن اور ترقی یافتہ معاشرے کیلئے ضروری ہے کہ وہاں اخلاقی اقدار کی آبیاری کی جائے اور معاشرے کے ہر فرد خصوصاً نوجوانوں کو ہر سماجی برائی سے دُور رکھنے کی کوشش کی جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں اخلاقی اقدار کا فُقدان ہوتا ہے تو وہاں ہر قسم کی سماجی بُرائی آہستہ آہستہ اپنی جڑیں مضبوط کرنے لگتی ہے اور وہیں سے پھر اس معاشرے کا زوال شروع ہوتا ہے۔ کوئی معاشرہ چاہے مادی ترقی کے کتنے ہی عروج پر کیوں نہ ہو لیکن جب مختلف سماجی برائیاں لوگوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہیں اور جب یہ لوگ اللّٰہ کی عطا کردہ مختلف نعمتوں کا غلط استعمال کرتے ہیں تو اس معاشرے کا نتیجہ پھر تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ ہم سب اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ ہم دورِ جدید میں رہتے ہیں جس کو سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور بھی کہا جاتا ہے۔ قدرت نے ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی وساطت سے بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے۔ لیکن اِن ساری نعمتوں کو استعمال کرنے کے دو پہلو ہیں۔ جب ہم ان ایجادات کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہیں تو یہ ایجادات ہماری زندگی کے لئے آرام وآسائش کا سامان مہیا کرتی ہیں اور ہمارے لئے ترقی کی نئی راہیں ہموار کرتی ہیں، لیکن بدقسمتی سے جب کسی معاشرے کے لوگ ان نعمتوں کا غلط استعمال شروع کردیتے ہیں تو وہیں سے پھر اُس معاشرے میں جدید سماجی بُرائیاں جنم لیتی ہیں اور وہ معاشرہ سماجی اور تہذیبی زوال کی طرف اپنے قدم بڑھانا شروع کر دیتا ہے۔

ایسے معاشرے میں پھر اخلاقی اقدار کا جنازہ نکل جاتا ہے اور وہاں کے لوگ خصوصاًنوجوان مختلف سماجی بُرائیوں کے شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسے معاشرے کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ جدید سماجی برائیوں کو اپنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں اور ان برائیوں میں ملوث افراد کی خوب حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور انہیں اپنا رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے۔ وا حسرتا ! وہ معاشرہ اپنی بدمستی میں مست اپنے عنقریب زوال سے بالکل بےخبر ہوتا ہے۔ مشہور مؤرخ آرنلڈ جے ٹوئن بی (1889-1975) نے 12 جلدوں پر مشتمل اپنی کتاب مطالعہ تاریخ میں یہی نتیجہ اخذ کیا ہے کہ عظیم تہذیبوں کو کوئی ختم نہیں کرتا بلکہ یہ اپنے ہاتھوں خود اپنا خاتمہ کرتی ہیں۔

ہم سب جانتے ہیں کہ ہر قوم کی ترقی کا دارومدار اُس کے نوجوانوں پر ہوتا ہے جو اُس قوم کا سب سے انمول اثاثہ ہوتے ہیں اور جنہیں شاعر مشرق نے شاہین کے لقب سے نوازا ہے کیونکہ یہی نوجوان اپنی اونچی اُڑانوں سے اپنی قوم کو ترقی کے مختلف منازل کی سیر کرا سکتے ہیں۔ بقول اقبال؎

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

لیکن خدا نخواستہ اگر کسی قوم کے یہی نوجوان مختلف سماجی بُرائیوں اور بیہودگیوں میں ملوث ہوجائیں تو اس قوم کا زوال پھر طَے ہے اور ایسی قوم کے مستقبل کو جہالت اور تاریکی اپنے آغوش میں سمیٹ لیتی ہے۔

دورِ حاضر میں سوشل میڈیا کا بول بالا ہے اور اس کے مختلف پلیٹ فارموں کا استعمال آج کل ہر کسی کے لئے ناگزیر بن گیا ہے۔ عمر، پیشہ، مذہب، جنس جیسی اوصاف کا فرق کئے بغیر ہم میں سے تقریباً ہر کوئی انسان کسی نہ کسی طریقے سے سوشل میڈیا کے ساتھ منسلک ہے۔ اگر ایک پہلو سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کا مثبت استعمال بہت ہی سودمند ثابت ہوسکتا ہے۔ خاص کر کووِڈ بحران کے پچھلے دو تین سالوں میں سوشل میڈیا طلباء، تجارت پیشہ لوگوں اور حکومتی اداروں کے لئے بہت ہی مددگار ثابت ہوا ہے۔لیکن جب یہی سوشل میڈیا منفی انداز میں استعمال کیا جاتا ہے تو یہ بداخلاقی اور بے حیائی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ اگر دنیا کے باقی خطوں کی بات کی جائے تو وہاں پر لوگ سوشل میڈیا سے کافی مستفید ہو رہے ہیں۔ اُن لوگوں نے سوشل میڈیا کو علم پھیلانے کے ساتھ ساتھ باقی ہنر سکھانے کا ایک اہم اور طاقتور ذریعہ بنایا ہے۔ وہ لوگ سوشل میڈیا کی وساطت سے مختلف علوم کے ساتھ ساتھ حالات حاضرہ سے بھی واقف رہتے ہیں۔ لیکن جب ہم اس معاملے میں اپنی وادی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں مایوسی کا شکار ہونا پڑتا ہے کیونکہ ہم سوشل میڈیا سے مستفید ہونے کے بجائے اس کو بداخلاقی اور بے حیائی پھیلانے کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔ ہمارے یہاں سوشل میڈیا خاص کر یو ٹیوب اور فیس بُک کو لوگوں کا مذاق اڑانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہاں روشٹنگ کے نام پر سوشل میڈیا سے جڑے لوگ دوسرے لوگوں کی خامیوں اور خرابیوں کو اُچھال کر اخلاقیات کا گلہ گھونٹ رہے ہیں اور عام لوگوں سے داد و تحسین حاصل کر رہے ہیں۔ اگر کچھ لوگ دماغی اور جسمانی طور پر خاص افراد کی بیہودہ اور بے معنی حرکات و سکنات کے ویڈیوز بناکر اِن کو سوشل میڈیا پر اَپلوڈ کر کے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں بداخلاقی اور بدتمیزی کی خوراک ڈال رہے ہیں تو وہیں کچھ لوگ ڈیلی لائف ویلا گنگ کے نام پر اپنی نجی زندگی اور اپنے خاندان کے پوشیدہ رازوں کا سرِعام تماشہ بناکر ہماری نوجوان نسل کا وقت بُرباد کرکے انہیں گمراہ کررہے ہیں اور ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بھی ایسے بےسود ویڈیوز دیکھ کر اپنے وقت کا زیاں کرکے اِن نام نہاد وِیلاگرز کی خوب حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا ایک افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ہم لوگ سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرکے پہلے فیاض سکارپیو اور شبیر کھنبلی جیسے ذہنی طور پر خاص افراد کو اپنی تفریح و تضحِیک کا سامان بناکر سوشل میڈیا پر اُن کا خوب مذاق اڑاتے ہیں اور اس طرح انہیں اور زیادہ ذہنی اذیت کا شکار بناتے ہیں۔ پھر جب ایسے لوگ پاگل پن کی حد تجاوز کرکے ہمارے دِین کی توہین کرتے ہیں یا ایسی ہی کسی دوسری غلطی کا ارتِکاب کرتے ہیں تو پھر ہم لوگ ہی غصے کا مظاہرہ کرکے انہیں بُرا بھلا کہنے لگتے ہیں۔ لیکن اصل میں ذہنی مریض وہ سارے لوگ ہیں جو اپنی تفریح کےلئے اُن کا استعمال کرتے ہیں۔ اُنہیں خصوصی تقاریب پر مہمان خصوصی کے طور پر بُلا کر اُن کا مذاق اڑاتے ہیں یا کسی بھی موقع پر انہیں پکڑ کر اُن کے ویڈیوز بناکر سوشل میڈیا پر اَپلوڈ کرتے ہیں۔ اگرچہ فیاض سکارپیو کے والد نے پہلے ہی لوگوں کو اس بات سے آگاہ کیا ہے کہ اُس کا بیٹا ذہنی طور پر خاص ہے اور لوگوں سے استدعا کی ہے کہ وہ اُس کے بیٹے کا مذاق نہ اُڑائیں، پھر بھی کچھ نام نہاد صحافی اور یوٹیوبرز اپنے چینلوں کی تشہیر کیلئے اُسکا مزاحیہ انٹرویو لے کر صحافت کے پیشے کا ہی مزاق اُڑا رہے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے کچھ یوٹیوبرز اور باقی سوشل میڈیا کے بااثر افراد اپنے ذاتی مفاد کے لئےبعض مزاحیہ کلا کاروں کا ناجائز اور غلط استعمال کرکے ان کے بے معنٰى اور بے مطلب ویڈیوز سوشل میڈیا پر اَپلوڈ کرکے نہ جانے سماج کو کون سا پیغام دے رہے ہیں۔ شاید ایسے جاہل اور غیر مہذب تعلیم یافتہ لوگ اس بات سے بے خبر ہیں کہ جو تعلیم انسان کے اخلاق کو پرواز بخش کے اُس کو بلندی عطا نہ کرے اور انسان کو اچھے اور بُرے میں تمیز کرنے کی صلاحیت نہ بخشے، ایسے تعلیم یافتہ انسان سے ایک اَن پڑھ اور غیر تعلیم یافتہ انسان بہتر ہے۔

میرے نزدیک سوشل میڈیا کے ذریعے بد اخلاقی اور بے حیائی پھیلانے کے ذمہ دار صرف وہ لوگ نہیں ہیں جو ایسےبے ہودہ اور فضول ویڈیوز اَپلوڈ کرتے ہیں بلکہ اس جُرم میں معاشرے کے وہ سبھی لوگ برابر شامل ہیں جو ایسے ویڈیوز دیکھ کر انہیں شئیر کرکے دوسرے لوگوں تک پہنچاتے ہیں یا کسی بھی طریقے سے ایسے ویڈیوز اَپلوڈ کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرکے انہیں معاشرے میں بداخلاقی اور بے حیائی پھیلانے میں ان کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔ کیونکہ اگر ہم لوگ ایسے ویڈیوز دیکھیں گے اور نا ہی انہیں شئیر کر کے ان کی تشہیر کریں گے تو ایسے بےہودہ ویڈیوز خود ہی اپلوڈ ہونا بند ہو جائیں گے۔ معاشرے کے ہر فرد کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ سوشل میڈیا پر ہماری تمام سرگرمیوں کا ریکارڈ اللّٰہ کے پاس محفوظ رہتا ہے۔ ہم سوشل میڈیا پر کیا اَپلوڈ کرتے ہیں، کیا شئیر کرتے ہیں، کیا پسند کرتے ہیں، کیا ناپسند کرتے ہیں اور وہاں پر ہماری باقی کیا مصروفیات رہتی ہیں، اِن سب کے بارے میں کل یومِ حساب کے دن سخت پرسش ہوگی۔ لہٰذا ہم سب کو چاہئے کہ ایسے ویڈیوز دیکھنے اور شئیر کرنے سے گریز کریں اور جب بھی کسی سوشل سائٹ پر ایسا فضول مواد دیکھیں تو اخلاقی فرض سمجھ کر اُس کو فوراً رپورٹ کرکے ایک ذِی حس انسان اور اچھا شہری ہونے کا ثبوت دیں، کیونکہ کل روزِ قیامت ہم سب اپنے اعمال کے لیے جوابدہ ہوں گے اور ہمیں ہمیشہ اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں کل روزِ محشر کے دن اللّٰہ کے سامنے ہمارے اعمال ہماری شرمندگی کا باعث نہ بن جائیں۔ بقول شاعر؎

فرشتے سے بہتر ہے انسان ہونا

(رابطہ ۔موبائیل نمبر :  7006569430)

[email protected]