سنتِ ابراہیمیؑ: فرائض ِبندگی کی روشن قندیل فکرو فہم

دانش احمد پرے

دنیا کی تاریخ میں اگر کوئی بہترین باپ کی اور بہترین تربیت یافتہ بیٹے کی مثال ہے تو وہ مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ہے۔ ان دونوں باپ اور بیٹے کی سیرت سے تقریباً ہر ایک مسلمان واقف ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیل ؑکی سیرت سے سنتِ ابراہیم(قربانی) کے علاوہ بھی کوئی ایسا عمل ہے جس پر ہر ایک مسلمان باپ اور بیٹے کو عمل کرنی چاہئے؟
جی ہاں! ان دونوں کی سیرت مسلمانوں بالخصوص مسلمان والدین اور اولاد کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ حضرت ابراہیمؑاور حضرت اسماعیلؑ کی زندگی والدین کوسکھاتی ہے کہ والدین کو اپنے اولاد کی تربیت کس طرح کرنی چاہئے اور ایک اولاد کو والدین کا کس قدر فرمانبردار ہونا چاہئے۔کیونکہ جب ہم ان دونوں کی سیرت مبارک پڑھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کیسے حضرت ابراہیمؑ کو اللہ نے تقریباً 85 برس کی عمر میں ایک نیک اولاد عطا کی اور پھر جب بیٹا تقریباً صرف 13 سال کا ہوا تو اللہ کی طرف سے فرمان آتا ہے کہ اب اپنے بیٹے کو قربان کرے۔ باپ نے اس قدر اپنے بیٹے کی تربیت کی تھی کہ بیٹے نے اُف تک نہ کیا اور اللہ کی راہ میں قربان ہونے کے لئے تیار ہوگیا۔آج والدین تو اپنے اولاد کو اسماعیلؑ کی طرح فرمانبردار دیکھنا چاہتےہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا والدین ابراہیمؑ کی طرح اپنے بچوں کی پرورش و تربیت کرتے ہیں؟
ہم بے راہ روی کے اس دور میں ہے جہاں بچے والدین کا خود خیال رکھنے کے بجائے اپنے ہی والدین کو اولڑ ایج ہوم میں ڈال دیتے ہیں اور پھر جب اولاد کی بدسلوکی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو والدین کو مجبور ہو کر قانونی اداروں کے دروازے کھٹ کھٹانے پڑتے ہیں۔اس اولاد سے میرا سوال ہے کہ قربانی کر کےآپ نے تو حضرت ابراہیم ؑاور حضرت اسماعیلؑ کی سنت پر عمل کیا، مگر کیا والدین کو تنہا چھوڑ کر قربانی کرنے کا کچھ فائدہ ہے؟سنتِ ابراہیم ؑ پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کے اُسی طرح فرمانبردار بن جائے، جس طرح حضرت اسماعیل ؑ اپنے والد حضرت ابراہیمؑ کے تھے۔آخر میں میرا والدین کے لئے یہی پیغام ہے کہ اپنے بچوں میں اسماعیلؑ کے جیسے اوصاف پیدا کرنے کے لئے پہلے خود میں ابراہیمؑ جیسے اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت اُسی طرح کرسکیں، جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پرورش و تربیت کی۔ انگریزی میں ایک بات بہت مشہور ہے کہ “Action speaks louder than words”۔لہٰذا اپنے اعمال درست کر لیں تو انشاءاللہ آپ کے اولاد بھی فرمانبردار بن جائیں گے۔
(رابطہ ۔ 8803250765)