ایس ایس پی رام بن کا دورہ سناسر، کہا فورنسک ٹیم کی مدد سے تحقیقات جاری
محمد تسکین
بانہال// ضلع رامبن اور ضلع ادھمپور کی حدود میں واقع خوبصورت سیاحتی مقام سناسر میں نامعلوم شرپسند عناصر نے گزشتہ تین روز کے دوران چار موسمی دھوکوں (عارضی جھونپڑیوں) کو آگ لگا دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ڈھوک ضلع رامبن کی حدود میں جبکہ تین دیگر ملحقہ ضلع ادھمپور کی حدود میں نذرِ آتش کیے گئے ہیں اور یہ تمام ڈھوک ضلع رامبن اور ادہمپور وغیرہ سے یہاں آنے والی گوجر بکروال برادری سے تعلق رکھنے والے خانہ بدوش خاندانوں کی ملکیت تھے ، جو ہر سال گرمیوں کے موسم میں مویشیوں کو چرانے کی غرض سے سناسر کا رخ کرتے ہیں۔ اس واقعہ کے بعد متاثرہ خاندانوں میں شدید تشویش اور خوف پایا جا رہا ہے کیونکہ یہ عارضی ڈھانچے ان کے موسمی قیام کا اہم سہارا ہوتے ہیں۔اس واقع کی اطلاع ملتے ہی رامبن پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا۔ ہفتے کے روز سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رامبن ارون گپتا نے دیگر پولیس افسران کے ہمراہ سناسر کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متاثرہ گوجر خاندانوں سے ملاقات کی اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ ملوث افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔اس موقع پر وہاں موجود زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی رامبن ارون گپتا نے بتایا کہ ضلع رامبن کی حدود میں ایک ڈھوک مشتبہ حالات میں جل کر خاکستر ہوئی ہے اور مذکورہ ڈھوک قاسم نامی شخص کی ملکیت تھی جو ضلع ادھمپور کا رہائشی ہے۔ پولیس نے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ فارنسک ٹیم بھی جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہے جو شواہد اکٹھے کرنے میں مصروف ہے، جبکہ مکمل تحقیقات کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔اس موقع گوجر بکروال لیڈر اور طبقہ کے ضلع صدر رامبن چودھری عبدالغنی کوہلی نے کہا یہ ایسے عناصر کی سوچی سمجھیں سازش ہے جو یہاں کے ہندو مسلم بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ انہوں نے ریاستی حکومت اور ضلع انتظامیہ رامبن سے اپیل کی ہیکہ وہ لاکھوں روپئے کے نقصانات سے دوچار ہوئے متاثرین کے حق میں فوری معاوضہ کا اعلان کریں اور ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابقہ سرپنچ سنسار سنگھ نے کہا کہ اس افسوسناک واقع کی دونوں ہندو مسلم برادری کی طرف سے مذمت کی جاتی ہے اور ان ڈھوکوں کو جلانے کے واقع میں ملوث افراد کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہئے۔ ادھر فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز محکمہ نے بھی ہفتے کے روز اپنی گاڑیاں موقع پر روانہ کر کے آگ پر قابو پایا اور جلتی ہوئی جھونپڑیوں سے اٹھنے والے دھوئیں کو کنٹرول کیا۔ پولیس مختلف پہلوؤں سے واقعے کی چھان بین کر رہی ہے۔