سمترا مہاجن نے لوک سبھا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا

اندور// لوک سبھا اسپیکر اور اندور سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی موجودہ رکن پارلیمنٹ محترمہ سمترا مہاجن نے آج لوک سبھا الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔محترمہ مہاجن نے اس سلسلے میں میڈیا کو جاری ایک خط میں لکھا ہے کہ انہیں لوک سبھا الیکشن نہیں لڑنا ہے ۔ لہذا پارٹی اپنا فیصلہ کھلی سوچ اور بغیر کسی تامل کرے ۔محترمہ مہاجن کئی برسوں سے اندور حلقے کی نمائندگی کرتی آرہی ہیں۔ پارٹی نے اس بار ابھی تک اندور سے لوک سبھا امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ حالانکہ مدھیہ پردیش کی 29 میں سے 18 سیٹوں پر امیدوار وں کے ناموں کا اعلان کیا جا چکا ہے ۔میڈیا کو ارسال کردہ خط میں محترمہ مہاجن نے لکھا ہے کہ بی جے پی نے ابھی تک اندور میں اپنے امیدوار کا اعلان نہیں کیا ہے ۔ فیصلے کی ایسی حالت کیوں ہے ۔ ممکن ہے کہ پارٹی کو فیصلہ کرنے میں کچھ تامل ہو رہا ہے ۔محترمہ مہاجن نے لکھا ہے ‘اگرچہ میری پارٹی کے اعلی عہدے داروں سے اس سلسلے میں کافی پہلے بات چیت ہوئی تھی اور فیصلہ انہی پر چھوڑ دیا تھا۔ لگتا ہے ان کے ذہن میں اب بھی کچھ تذبذب ہے ۔ تو میں اعلان کرتی ہوں کہ مجھے اب لوک سبھا کا الیکشن نہیں لڑ نا ہے ، اس لئے پارٹی اپنا فیصلہ کھلے ذہن اور کسی تامل کے بغیر کرے ۔ خط میں محترمہ مہاجن نے لکھا ہے کہ اندور کے لوگوں نے آج تک انہیں جو محبت دی، بی جے پی اور تمام کارکنوں نے جس تندہی سے مجھے تعاون دیا اور ان کے علاوہ جن لوگوں نے انہیں تعاون دیا، میں ان سب کی تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ انہیں توقع کی ہے کہ پارٹی جلد ہی کوئی فیصلہ کرے گی تاکہ آنے والے دنوں میں سب کو کام کرنے میں مدد ملے گی اور تذبذب کی حالت ختم ہو جائے گی۔محترمہ مہاجن اندور کی سرکردہ لیڈر ہیں اور انتخابات میں مسلسل فتح حاصل کرتی آ رہی ہیں۔ وہیں بی جے پی کے ایک دیگر سینئر لیڈر کیلاش وجے ورگیہ کا تعلق بھی اندور ہی سے ہے اور ان کا بھی مرکز کی سیاست میں کافی دبدبہ ہے ۔یو این آئی