سفیدوں سے نکلنے والے روئی کے گالے بدستور درد سر

پرویز احمد
سرینگر //موسم بہار کی آمد کے ساتھ ہی وادی کشمیر میں بچوں کے واحد اسپتال جی بی پنتھ میں فلو سے متاثر ہونے والے  بچوں کے والدین قطاروں میں نظر آتے ہیں کیونکہ معمول کے فلو کی وجہ سے او پی ڈی میں آنے والے بچوں کی تعداد میں 25فیصد اضافہ ہوا ہے۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ جی بی پنتھ اسپتال ڈاکٹر نذیر احمد چودھری نے کہا ’’ فلو سیزن میں او پی ڈی میں بچوں کی تعداد 1500تک پہنچ گئی ہے اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بچے  بڑے پیمانے پر فلو کے شکار ہورہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ بچوں کو فلو سے بچانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ والدین اور سکولوں کے اساتذہ ایسے بچوں کو علیحدہ رکھیں۔اس وقت پوری وادی میں بیشتر بچے فلو سے متاثر ہورہے ہیں۔ مثلاً کھانسی، بخار،زکام اور کھانسی سے بچوں کا برا حال ہورہا ہے۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ امراض اطفال کے سربراہ ڈاکٹر مظفر جان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ بچے کافی تیزی سے فلو کی بیماری میں مبتلا ہورہے ہیں اور اسپتال آنے والے زیادہ تر بچے کھانسی، زکام، بخار اور دمہ کی شکایت کررہے ہیں‘‘۔انہوں نے کہا ’’ کویڈ اور عام فلو کو الگ کرنے کیلئے اسپتال آنے والے  بچوں کا کویڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور بعد میں اس کا عام فلوہونے کی طرح علاج کیا جاتا ہے‘‘۔ڈاکٹر جان نے بتایا کہ خوشی کی بات ہے کہ ابتک کسی بھی بچے کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے ‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ ہوا میں پولن کی موجودگی کی وجہ سے بچے الرجی کا شکار ہورہے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر سال موسم بہار میں بچے پولن الرجی کی وجہ سے فلو کا شکار ہوتے اور بیمار ہونے والے بچوں کی تعداد میں 20سے 25فیصد اضافہ ہوتا ہے۔