جدہ// سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان کی جانب سے یمن میں تعینات تمام سعودی فوجیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کردیا گیا، جس سے ان فوجیوں کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی یا انضباطی کارروائی کے امکانات ختم ہوگئے۔خیال رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ یمن کی سرکاری فوج حوثی باغیوں کے خلاف جنگ لڑرہی ہے، جس میں اب تک 10 ہزار کے قریب یمنی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔اس حوالے سے سرکاری خبر رساں ادارے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کی جانب سے شائع کیے جانے والے عام معافی کے بیان میں کسی خاص جرم کا ذکر نہیں کیا گیا تاہم کہا گیا کہ یہ اقدام فوجیوں کی بہادری اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لے کیا گیا ہے۔ادھر مڈل ایسٹ مانیٹر کے مطابق شاہی معافی کا اطلاق ان تمام فوجیوں پر ہوگا جو یمن میں جاری ’آپریشن ریسٹورنگ ہوپ‘ میں حصہ لے رہے ہیں جبکہ عام معافی کا اعلان خصوصی طور پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی خواہش پر شاہ سلمان نے کیا۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادیوں نے یمنی حکومت اور حوثی باغیوں کے درمیان جاری تنازع میں مارچ 2015 میں مداخلت شروع کی تھی تاکہ حوثی باغیوں کو شکست دے کر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو بحال کیا جاسکے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب اپنے حریف ملک ایران پر حوثی باغیوں کو مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کرتا ہے جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یمن تنازع میں شامل تمام متحارب گروہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عرب امارات اور یمنی حکومت کی مدد کے لیے قائم کیے گئے فوجی اتحاد میں شامل دیگر ممالک کی افواج پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ جنوبی یمن میں قائم خفیہ جیلوں میں قید افراد پر بہیمانہ تشدد میں ملوث ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا ہے کہ ان واقعات کی جنگی جرائم کے مقدمات کی طرح تحقیقات ہونی چاہیے۔ایمنسٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ اتحادی افواج یمن میں بڑی تعداد میں لوگوں کی جبری گمشدگیوں میں بھی ملوث ہیں جنہیں قید کرلیا جاتا ہے۔