ریاض// سعودی حکومت نے غیر ملکیوں پر مزید سختی کرتے ہوئے 12 شعبوں میں ملازمتیں نہ دینے کا فیصلہ کرلیا۔سعودی میڈیا کے مطابق وزیر محنت و سماجی و بہبو د ڈاکٹر علی الغیفص کی سربراہی میں سرکاری محکموں کے افسران کا اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ غیر ملکیوں کو 12 نجی شعبوں میں ملازمت نہیں دی جائے گی۔ذرائع ابلاغ کے مطابق حکومت کی جانب سے شعبوں میں پابندی کی وجہ مقامی نوجوانوں کی بے روزگاری ہے، وزیر محنت کی سربراہی میں یہ بات سامنے آئی کہ 12 فیصد سعودی نوجوان بے روزگار ہیں اور وہ ملازمتیں تلاش کررہے ہیں۔اجلاس میں ہونے والے فیصلے کے بعد حکومت کی جانب سے مذکورہ شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے والے تاجروں کو نوٹس ارسال کیے جائیں گے کہ وہ جلد از جلد غیر ملکیوں کو ملازمت سے فارغ کر کے مقامی نوجوانوں کو نوکریاں فراہم کریں۔حکومتی فیصلے میں زیادہ تر ایسے شعبوں پر پابندی عائد کی گئی جن میں سے بیشتر کا تعلق سیلز مین سے ہے، غیر ملکی ملازم اگست کے آخر تک نوکری کرسکیں گے۔واضح رہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہونے کی وجہ سے سعودی عرب کی معاشی صورت حال تنزلی کا شکار ہے جس کی وجہ سے حکومت نے غیر ملکیوں پر مختلف شعبوں میں ملازمتوں کے دروازے بند کیے اور سخت شرائط عائد کیں جس کی وجہ سے بے روزگاری میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیا۔قبل ازیں سعودی حکومت نے گذشتہ برس مئی میں سرکاری محکموں سے غیر ملکی ملازمین کو نکالنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد 70 ہزار کے قریب ملازمین کو نوکریوں سے برطرف کر کے مقامی نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کی گئیں تھیں۔اس سے قبل 20 اپریل 2017 کو سعودی حکومت نے تمام خریداری کے مراکز اور تاجروں کو پابند کیا تھا کہ وہ غیر ملکی تارکین کو نوکریاں نہ دیں بلکہ ملازمتیں صرف سعودی شہریوں کو دیں۔حکومتی فیصلے سے غیر ملکی ملازمین کی بہت بڑی تعداد متاثر ہوئی تھی کیوں کہ اعداد وشمار کے مطابق شاپنگ سینٹر میں موجود ہر پانچ ملازمین میں سے چار غیر ملکی ہیں جن میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔