اسد مرزا
ہر مسلمان کے لیے زندگی میں ایک مرتبہ حج کی سعادت حاصل کرنا سب سے محبوب خواب ہوتا ہے۔ اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے لوگ برسوں محنت کرتے ہیں اور اپنی کمائی کا ایک ایک پیسہ حج فنڈ میں جمع کرتے ہیں، تاکہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور اپنی دیرینہ آرزو کو پورا کر سکیں۔پندرہ دن قبل جب میں اس سفر پر روانہ ہوا تو میرے ساتھ فکری تصورات اور ذہنی مفروضوں کا ایک بھاری بوجھ تھا، مگر جب واپس لوٹا تو گویا اندر سے ٹوٹ کر ایک نئی صورت میں ڈھل چکا تھا، اپنی ذات کے ایسے پہلوؤں سے آشنا ہو کر جنہیں پہلے کبھی دریافت نہیں کیا تھا۔
یہی اس روحانی مشق کا حقیقی اور ناقابلِ پیمائش تضاد ہے۔ کوئی تحریر، کوئی منصوبہ بندی اور کوئی رہنما کتاب مسجد الحرام کے وسیع و عریض احاطے میں بیت اللہ، یعنی کعبۂ مقدس، کی پہلی جھلک کے روح پرور اور ہیبت انگیز اثر کو بیان نہیں کر سکتی۔ اسی طرح کوئی کتاب انسان کو اس گہری عاجزی اور بے بسی کے لیے تیار نہیں کر سکتی جو اسے اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ اپنے جسم کو احرام کی سادہ، بے سلی سفید چادروں میں لپیٹ لیتا ہے۔حج کے جسمانی اعمال اور ان کی مشقتوں سے کہیں بڑھ کر اس کا اصل میدانِ جنگ انسان کا باطن ہے۔ جب آپ خود کو لاکھوں انسانوں کے ایک بے کنار سمندر میں پاتے ہیں تو صبر، نظم اور خود پسندی کے تمام مصنوعی پردے رفتہ رفتہ اترنے لگتے ہیں۔
میں آج بھی اس کامل توازن کا متلاشی ہوں، لیکن مکہ مکرمہ کے اُن مصروف، حسین اور یادگار دنوں میں حاصل ہونے والے اسباق آج بھی میری زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔
راہِ حق کے مسافر کے دس اصول :
(۱) توقعات کا مکمل خاتمہ۔اتنی بڑی انسانی آبادی کی میزبانی کا مطلب یہ ہے کہ بہترین منصوبہ بندی بھی کبھی نہ کبھی بے ترتیبی کا شکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے حالات سے لڑنے کے بجائے انہیں قبول کیجیے۔ حرم میں اس نیت سے داخل ہوں کہ آپ کی کوئی ذاتی توقع نہیں۔ ہر انتظامی مشکل کو رکاوٹ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنی مرضی اور اختیار کو اس کے سپرد کرنے کی دعوت سمجھیں۔
(۲) نیت کو مضبوطی سے تھامے رکھیں :ہم ریگستان اس لیے عبور نہیں کرتے کہ کوئی جذباتی کیفیت حاصل کریں یا کوئی غیر معمولی روحانی تجربہ تلاش کریں۔ ہم اس لیے جاتے ہیں کہ ایک مقدس فرض ادا کرنا ہے۔ اصل فضیلت ظاہری کارکردگی میں نہیں بلکہ اس فریضے کی خاموش تکمیل میں ہے اور ان اسباق کو اپنی بعد از حج زندگی میں نافذ کرنے میں ہے۔
(۳) مسلسل روحانی سرشاری کے تصور کو ترک کر دیں :یہ سمجھنا کہ آپ یا آپ کے اردگرد موجود لوگ ہر وقت روحانی کیف و سرور میں رہیں گے، ایک خطرناک رومانویت ہے۔ آپ بھی گوشت پوست کے انسان ہیں۔ تھکن، گرمی اور جسمانی مشقت کے درمیان ہر وقت ماورائی کیفیت کی توقع رکھنا انسانی حقیقت سے انکار کے مترادف ہے۔
(۴)غیر معمولی صبر پیدا کریں :آپ پوری دنیا کے انسانوں کے ساتھ سفر کر رہے ہوتے ہیں، جن کی زبانیں، عادات اور ثقافتیں مختلف ہوتی ہیں۔ اگر کسی کا رویہ آپ کو ناگوار گزرے تو دوسروں کے بجائے اپنے اندر جھانکیں۔ اپنی راہ پر قائم رہیں، کیونکہ قیامت کے دن آپ کو صرف اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔
(۵) طواف کے دوران مکمل ہوشیاری :طواف کے دوران جسمانی حرکت اور ہجوم کا بہاؤ انتہائی متحرک ہوتا ہے۔ یہاں ایک لمحے کی غفلت بھی مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے مکمل توجہ اور احتیاط ضروری ہے۔
(۶) مسلسل حرکت کا اصول :اگر طواف کے دوران آپ کے ہاتھ سے کوئی چیز گر جائے تو فوراً رک کر اسے اٹھانے کی کوشش نہ کریں۔ لاکھوں افراد کے درمیان اچانک رک جانا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ پہلے اپنا طواف مکمل کریں اور پھر انتظامیہ یا معاون عملے کی مدد سے اپنی چیز تلاش کریں۔
(۷) پانی اور توانائی کا مناسب ذخیرہ :شدید گرمی اور طویل پیدل سفر آپ کی جسمانی توانائی کو بہت تیزی سے کم کر دیتے ہیں۔ اس لیے پانی ہمیشہ ساتھ رکھیں اور کھجور، بسکٹ یا دیگر توانائی بخش غذاؤں کا استعمال جاری رکھیں۔ زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں الیکٹرولائٹس بھی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
(۸) جسمانی مشقت سے بچاؤ :احرام میں ملبوس ہو کر میلوں پیدل چلنا اور شدید دھوپ برداشت کرنا جسم پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ جلد کی خراش اور رگڑ جیسی معمولی مشکلات بھی شدید تکلیف کا باعث بن سکتی ہیں۔ اس لیے پہلے سے حفاظتی کریم یا دیگر تدابیر اختیار کریں۔
(۹) اضافی جوتے یا چپل ساتھ رکھیں :لاکھوں افراد کے درمیان جوتے اور چپل گم ہو جانا ایک عام بات ہے۔ اس لیے جہاں انہیں رکھا ہو اس جگہ کو ذہن نشین کریں اور اگر ممکن ہو تو ایک اضافی، ہلکی اور آسانی سے صاف ہونے والی جوڑی اپنے بیگ میں رکھیں۔
(۱۰) کامل کارکردگی کا وجود نہیں :جب تقریباً بیس لاکھ تھکے ہوئے اور خطا کے امکان رکھنے والے انسان ایک ہی وقت اور مقام پر جمع ہوں تو خامیاں اور مشکلات لازمی طور پر پیدا ہوتی ہیں۔
’’اس سفر میں کمال کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کام بغیر کسی غلطی کے انجام پائے، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو کتنے وقار اور عاجزی کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔‘‘
میں بھی اپنے ساتھ کچھ خاموش پچھتاوے لے کر واپس آیا۔ ایسے لمحات جب میری توجہ منتشر ہوئی یا میرے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ مگر انہی دراڑوں میں اس تجربے کی روشنی نے جگہ بنائی۔ یہی وہ اسباق ہیں جنہیں میں آج بھی اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور آئندہ آنے والے روحانی مسافروں تک پہنچانا چاہتا ہوں۔
حج کے دوران انسان کو اپنے اعمال، رویوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ اپنے برتاؤ کا جائزہ لینے کے بے شمار مواقع ملتے ہیں۔ اس وقت آپ خود ایک سائل بن چکے ہوتے ہیں، جو اپنے رب سے اپنی روح کی پاکیزگی، رحمت اور ہدایت کی دعا مانگتا ہے۔ یہ سفر انسان کی عادات، رویوں اور زندگی کے چیلنجز کے بارے میں اس کے ردِعمل کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔لیکن اس سب کا سادہ ترین جواب عاجزی اختیار کرنا اور اپنی تخلیق کے مقصد کو پہچاننا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خالص ترین صورت میں عبادت کرنا اور اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونا۔اللہ تعالیٰ تمام حجاجِ کرام کا حج قبول فرمائے، انہیں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے۔ آمین