سری لنکا کے گرجا گھروں میں دھماکے ہوئے، سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے اس کی ذمہ داری قبول کرلی۔ دہشت گردی کے ان واقعات کو نیوزی لینڈ کے دو مساجد میں نمازیوں کے قتل عام کی انتقامی کاروائی قرار دیا گیا۔ گویا نیوزی لینڈ کے وا قعہ کے بعد مسلمانوں سے جو ہمدردی کی لہر پیدا ہوئی تھی‘ اور یہ حقیقت منظر عام پر آئی تھی کہ دہشت گرد ہر مذہب میں ہوتے ہیں‘ اب اس ہمدردی کی جگہ ایک بار پھر مسلمانوں سے نفرت اور ان کی مخالفت پیدا ہونے لگی ہے۔ سری لنکا میں برقع پر پابندی عائد کی جانے والی ہے‘ گویا اس کا انتظار کیا جارہا تھا۔ دہشت گردی کا واقعہ جب کسی مسجد میں ہوتا ہے تو بحیثیت مسلمان دکھ درد رنج و غم فطری بات ہے۔ کیوں کہ حدیث شریف کے مطابق مسلم قوم ایک جسم کی طرح ہے کسی ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم متاثر ہوتا ہے۔ دہشت گردی یا تخریب کاری کے واقعات میں کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے کسی بھی فرد کو اگر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بحیثیت انسان اس کا بھی اتنا بھی افسوس اور رنج و غم ہوتا ہے کیوں کہ یہ انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ ایک اچھا اور سچا مسلمان بنیادی طور پر نرم دل ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ کسی بھی جاندار کو چاہے وہ انسان ہو یا چرند و پرند حتیٰ کہ اُسے کاٹنے والی چیونٹی ہی کیوں نہ ہو اسے بھی نقصان نہیں پہنچاتا، اس لئے کہ اسے ہدایت دی گئی ہے کہ تم زمین والوں پر رحم کرو‘ آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔
یہ ایک المیہ ہے کہ اکثر و بیشتر دہشت گردی اور تخریب کاری کے واقعات کے ذمہ دار یا تو مسلمان ہوتے ہیں یا مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ان میں سے اکثر و بیشتر برسوں جیل میں اپنی زندگی کو قیمتی ماہ و سال گذارنے کے بعد بے قصور قرار دیئے جاتے ہیں اور جب ان کی جوانی کو جیلوں کی دیمک کھاجاتی ہے اور وہ کھوکھلے ہوکر باہر نکلتے ہیں تب انہیں پرائے تو کیا اپنے بھی اپنانے سے انکار کردیتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ ایسا آج سے نہیں ہورہا ہے بلکہ جب جب انبیائے کرام نے دین حق کی تبلیغ کی انہیں بھی ستایا گیا۔ ان کے پیروئوں کو بھی سزائیں دی گئیں۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے جب مکہ کی سرزمین پر اعلان حق کیا کہ اللہ ایک ہے‘ سب کا معبود و مسجود ایک ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں تو وہی لوگ جو آپ کو صادق الامین کہتے تھے، جو آپ کی عزت و تعظیم کیا کرتے تھے، جو اپنے مقدمات کے فیصلے آپ کے ذریعہ کیا کرتے تھے‘ حتیٰ کہ جب خانہ کعبہ میں حجر اسود کو نصب کرنے کا وقت آیا اور تمام عرب قبائل میں اس کے لئے مقابلہ آرائی ہونے لگی، تب تمام قبائل نے آپ ا کو فیصلے کا اختیار اور آپ ا نے ایک چادر پر حجر اسود کو رکھا‘ تمام قبائل کے سرداروں کو چادر کا کونا پکڑنے کیلئے کہا اور خود اپنے دست مبارک سے اُسے خانہ کعبہ میں نصب فرمایا۔ عرب کے یہی لوگ آپ ا کے اعلان نبوت سے مخالف ہوگئے۔ نبوت کے تیسرے سال شعب ابی طالب میں آپ ا کا اور صحابہ کرام ث سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ اور پھر جب کوئی بیرونی علاقہ سے مکہ میں داخل ہوتا تو آپ ا کے مخالفین اس سے کہتے کہ یہاں محمدؐ نامی ایک شخص ہے اس سے نہ ملو۔ اس کی باتوں سے( نعوذباللہ ) تم لوگ اپنے دین سے دور ہوجائوگے۔ یہیں سے اسلام کی مخالفت‘ نفرت انگیز پروپگنڈہ کا جارحانہ آغاز ہواجسے آج کے دور میں اسلاموفوبیا کا نام دیا گیا۔ فوبیا کسی سے حد سے زیادہ ڈر یا نفرت کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر PYRO PHOBIA آگ سے ڈر‘ HYDRO PHOBIA پانی سے ڈر کو کہیںگے۔ اسلامو فوبیا کی اصطلاح پہلی بار 20ویں صدی کے آغاز سے استعمال کی جانے لگی۔ وکی پیڈیا کے مطابق 1910 اور 1911ء میں Painter Alphonso Dinet اور الجیریائی دانشور سلیمان بن ابراہیم نے فرانسیسی زبان میں سوانح پاک پیغمبر اسلامؐ لکھی تو اس میں اسلاموفوبیا کی اصطلاح کا استعمال کیا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام جتنی تیزی سے پھیلتا گیا یہود و نصاریٰ اور دوسرے اقوام اس سے اتنا خوف زدہ ہوتے گئے، اسلام کو روکنے کیلئے انہوں نے نفرت انگیز پروپگنڈہ شروع کیا۔ جب بھی موقع ملا انہوں نے مختلف حربے اختیار کرکے مسلمانوں کی طاقت کو کم کیا یا تقسیم کردیا۔ انہیں مسلکوں میں بانٹ دیا اور اپنے مفادات کے لئے بعض فرقوں کا استعمال کیا اور جب یہ اندر سے کمزور ہوگئے تو ان کا اپنی اپنی سرزمینوں سے صفایا شروع کیا۔ اسپین کی مثال سامنے ہے۔ جہاں سے 400؍برس پہلے تین لاکھ سے زائد مسلمانوں کا انخلاء عمل میں آیا۔ آج اسپین میں صرف اسلامی آثار باقی رہ گئے ہیں اور مسلمان کہیں نہیں ہیں۔
1922ء میں جب سوویت یونین میں کمیونسٹ اقتدار پر آئے تو اسلام پر پابندی عائد کی گئی۔ 1912ء میں وسط ایشیاء میں تقریباً 26ہزار مساجد تھے ان میں سے پچیس ہزار مساجد بند کردی گئی تھیں۔ علمائے کرام اور خطیبوں کو قید کردیا گیا۔ مگر مسلمانوں نے خفیہ طور پر اپنے مذہب کی حفاظت کی۔ تہہ خانوں میں حفاظ کرام اپنی نسل کو قرآن اور حدیث کی تعلیم دیتے۔ خفیہ طور پر عبادت کرتے۔ 70سال تک انہوں نے ظلم سہا، داڑھی پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اسلامی لباس کو ممنوعہ قرار دیا گیا۔ حلال غذاء فراہم کرنے والی ریسٹورنٹس بند کردی گئیں۔ مگر کیا ہوا اسلام کو ختم نہیں کرسکے‘ کمیونسٹوں کا دور ختم ہوگیا۔ ان کا عبرتناک انجام ہوا۔ 1970کی دہائی سے ایک بار پھر روس میں اسلام کا اُجالا پھیلنے لگا۔ 1990ء سے یہ پوری شدت سے پھیلنے لگا۔ آج وہاں ڈیڑھ کروڑ مسلمان آباد ہیں۔ یہاں سے عازمین حج کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے۔ مساجد آباد ہورہی ہیں۔ کیوں کہ اسلام کو نہ دبایا جاسکتا ہے نہ مٹایا جاسکتا ہے۔ بلکہ سویت یونین ٹکڑے ٹکڑے ہوا تو 6ریاستیں آذر بائیجان، قازقستان، کرغستان، تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان کثیر مسلمان آبادی کے ساتھ منظر عام پر آئی شاید اسی لئے شاعر نے کہا ؎
اسلام کی فطرت میں قدرت نے لچک دی ہے
یہ اُتنا ہی ابھرے گا جتنا تم دبائوگے
مسلمانوں پر ظلم و ستم کے نتیجہ میں وسط ایشیاء کے مسلمانوں میں باغیانہ جذبات پیدا ہوئے۔ حکومت کی مخالفت ہونے لگی اور اِن مخالفتین کو دہشت گرد کہا جانے لگا۔ اس دوران امریکہ نے اِن مخالف کمیونسٹ مسلمانوں کی مدد کی جنہیں طالبان کہا جاتا ہے۔ افغانستان میں نجیب اللہ کا تختہ الٹنے اور اُسے برسر عام پھانسی دینے کے لئے اُکسایا، کئی برس تک طالبان کو اچھے سچے مسلمانوں کے طور پر مغرب نے میڈیا کے ذریعہ عالمی سطح پر پیش کیا اور جب طالبان نے اپنی حکومت تشکیل دی، اسلامی قوانین کو نافذ کیا تو امریکہ کی قیادت میں اسی مغربی دنیا نے ان کے خلاف کاروائی کی جنہیں مجاہدین کے طور پر پیش کیا گیا تھا، انہیں عالمی دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ان کی تلاشی کے نام پر عراق اور افغانستان کو تہس نہس کردیا گیا۔ قدرتی وسائل سے مالامال ان ممالک میں اپنی فوج تعینات کردی گئی اور اپنے کٹھ پتلی حکمرانوں کو مسلط کیا گیا۔ اسی طرح فلسطینیوں سے ان کی زمین چھینی گئی۔ اسرائیل کو ایک یہودی مملکت کے طور پر امریکہ اور اس کے حواریوں نے تسلیم کیا۔ فلسطینی عوام اپنے حق کے لئے لڑتے ہیں تو انہیں دہشت گرد کہا جاتا ہے جہاں جہاں مسلمان اپنی زمین کے لئے اپنے حق کے لئے آواز اٹھاتا ہے تو اس کی منفی شبیہ دنیا کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔فرانس، ڈنمارک اور کئی مغربی ممالک میں اسلام دشمنی عام ہے۔ مسلمانوں کی دل آزاری کی جاتی رہی۔ اور جب دلبرداشتہ مسلمانوں نے ان گستاخوں کو سزا دی تو انہیں عالمی دہشت گرد کے طور پر پیش کیا۔ مغربی میڈیا اس قدر حرامی ہے کہ وہ مسلمانوں کے کسی اقدام بڑا چڑھا کر منفی انداز تو پیش کرتا ہے مگر ان وجوہات کو نظر انداز کردیتا ہے جس کی وجہ سے مسلمان ردعمل کے لئے مجبور ہوتے ہیں۔ فلسطین میں آج جو ہورہا ہے بوسنیا، چیچنیا میں جو کچھ ہوچکا ہے ،اسپین اور سوویت یونین کی جو تاریخ رہی ہے‘ اُسے ہر اُس ملک میں دہرایا جارہا ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی قابل لحاظ ہے۔ مسلمان بنیادی طور پر امن پسند ہیں، وہ دہشت گرد ہوہی نہیں سکتے۔ جہاں تک آئی ایس آئی ایس کا تعلق ہے، اسے کوئی بھی مسلمان ماننے کے لئے تیار نہیں۔ کیوں کہ بے قصور انسانوں کا قتل کرنے والا مسلمان نہیں ہوسکتا۔ اسلام نے تو ناحق قتل کی سزا قتل ہی مقرر کی ہے۔ سری لنکا ہو یا سری لنکا کے کسی بھی علاقہ میں کوئی بھی انسان، کوئی بھی جاندار دہشت گردی کا شکار ہوتا ہے تو اس بات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئے کہ آیا اس واقعہ سے کس کو فائدہ پہنچے گا۔۔۔ مسلمانوں کو یا مسلم دشمن طاقتوں کو؟
سری لنکا میں اکثریت بدھ مذہب کے ماننے والوں کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گوتم بدھ امن کے پیامبر تھے۔ ان کے پیرو بھی امن پسند ہ ہوتے ہیں۔ میانمار میں بدھسٹوں نے مسلمانوں کے ساتھ جو حیوانی سلوک کیا ہے، وہ کوئی اچھا مہذہب سماج نہیں کرسکتا۔ اس کے باوجود ہم مسلمان سری لنکا میں دہشت گردی کے واقعہ میں مرنے والے ہر فرد کے ارکان خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
رابطہ: ایڈیٹر’’ گواہ اردو ویکلی‘ ‘‘حیدرآباد۔ فون۔9395381226