بلال فرقانی
سرینگر// سرینگر اور بارہمولہ کے درمیان فور لین قومی شاہراہ پر تعمیر ہورہے 2اہم حصے ابھی تک مکمل ہونا باقی ہیں جس کے باعث ہر روز سینکڑوں گاڑیوں کی قطاریں پٹن بازار اور دلنہ میں لگتی ہیں اور یہ سلسلہ پچھلے کئی برسوں سے جاری ہے۔ 22 کلومیٹر طویل دلنہ بارہمولہ منصوبے کے بیشتر حصوں پر کام مکمل ہو چکا ہے۔ منصوبے کا سب سے اہم جزو، 1.7 کلومیٹر طویل دلنہ فلائی اوور، تکمیل کے آخری مراحل میں ہے اور حکام کے مطابق اسے آئندہ 2سے 3 ماہ کے اندر ٹریفک کے لیے کھولے جانے کی توقع ہے۔لیکن پٹن بائی پاس بدستو درد سر بنا ہوا ہے۔مرکزی شاہراہ پر دو بائی پاس سڑکیں ،پٹن کانس پورہ بارہمولہ قصبوں کی بھیڑ کم کرنے اور ٹریفک کے بہائوکو ہموار کرنے کے مجموعی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے اہم اجزا ہیں۔ پٹن بائی پاس، پٹن سے تاپر تک تقریباً 11 کلومیٹر پر محیط ہے، اس میں حصول زمین کی رکاوٹوں کو دور کر دیا گیاہے، اور تعمیراتی کام تیزی سے جاری ہے۔
ایک بار آپریشنل ہونے کے بعد بائی پاس، پٹن میں بار بار ہونے والے ٹریفک جام کو ختم کرنے اور سری نگر کی طرف آسانی سے نقل و حرکت کو یقینی بنائے گا۔بارہمولہ بائی پاس، کانسپورہ سے خانپورہ تک تقریباً 14.5 کلومیٹر پر محیط ہے، جس کا مقصد بھاری ٹریفک کو مرکزی شہر سے ہٹانا ہے۔ اس سلسلے پر کام، اگرچہ توقع سے زیادہ سست ہے، لیکن امکان ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس میں تیزی آئے گی۔عہدیداروں نے اس بات پر زور دیا کہ 4 لین ہائی وے اور بائی پاس سڑکوں کی تکمیل سے شمالی کشمیر کے ٹریفک منظر نامے میں ایک بڑی تبدیلی آئے گی۔ ایگزیکیوٹنگ ایجنسی نے کہا، “ایک بار جب تمام حصے مکمل ہو جائیں گے، سری نگر-بارہمولہ روٹ نہ صرف سفر کا وقت کم کرے گا بلکہ تجارت، سیاحت، اور بین الاضلاع رابطے کو بھی فروغ دے گا۔”ابھی سرینگر سے بارہمولہ تک ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت ہے اور اس میں سب سے بڑی رکاوٹ پٹن میں ہر روز کا ٹریفک جام ہے۔پٹن بائی پاس مکمل ہونے سے بارہمولہ تک صرف 45منٹ کا وقت لگ سکتا ہے۔قومی شاہراہ 44 پر نارہ بل سے دلنہ تک جاری فور لین منصوبہ کئی برسوں سے عوامی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف سری نگر اور بارہمولہ کے درمیان سفر کا دورانیہ کم ہوگا بلکہ بڑھتے ہوئے ٹریفک دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
حکام کے مطابق 1.7 کلومیٹر طویل فلائی اوور پر مقررہ شیڈول کے مطابق کام آگے بڑھ رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دلنہ فلائی اوور اور پٹن بائی پاس اس پورے منصوبے کا سب سے اہم حصے ہیں، جبکہ سنگرامہ فلائی اوور ٹریفک کیلئے کھولا گیا ہے۔پروجیکٹ سے وابستہ انجینئروں کے مطابق نارہ بل سے سنگرامہ تک شاہراہ کے بیشتر حصے پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے، جبکہ چند مقامات پر میکڈمائزیشن اور آخری مرحلے کی تعمیر کام جاری ہے۔ انجینئروںنے بتایا کہ دلنہ ہ فلائی اوور کی تعمیر تقریباً آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور اگر موسم اور دیگر حالات سازگار رہے تو اسے مقررہ مدت سے پہلے مکمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔حکام نے کہا منصوبے کا تقریباً 80 فیصد حصہ مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ توسیعی منصوبہ سرینگر،بارہمولہ،اْوڑی شاہراہ (این ایچ،1) کے نارہ بل جنکشن سے دلنہ تک کے اہم حصے پر محیط ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اْوڑی کی جانب سڑک کو دوقطاروں (ڈبل لین) بنانے کا کام بھی شامل ہے۔یہ منصوبہ نہ صرف بارہمولہ اور اْوڑی کے رہائشیوں بلکہ سیاحوں، تاجروں اور روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مسافروں کے لیے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ یہ شاہراہ وادی کشمیر کو سرحدی علاقوں سے جوڑنے والی ایک کلیدی رابطہ سڑک تصور کی جاتی ہے۔