اننت ناگ +پلوامہ// سرینگر،اننت ناگ ،پلوامہ اور ترال میں6گرینیڈ دھماکوں اور فورسز پر فائرنگ کے دوران 4سی آر پی ایف اہلکاروںسمیت 6 افراد زخمی ہوئے ۔جمعہ کی دوپہر جنگجوئوںنے کھنہ بل چوک میں تعینات سی آر پی اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے گرینیڈ داغا جو فورسز کی گاڑی کے نزدیک زور دار دھماکہ کے ساتھ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں سی آر پی 116بٹالین سے وابستہ رویندر سنگھ ولد دلیپ سنگھ،محمد سراج ولد محمد گلشن خان ،ویر سنگھ ولد اسفیر سنگھ و ونود کمار نامی اہلکار زخمی ہوئے ۔واقعہ میں پولیس اہلکار ہیڈ کانسٹبل عبد المجید ولد محمد رمضان ا ور عبد الرشید ولد غلام محمد نامی عام شہری بھی زخمی ہوا ۔سبھی زخمیوں کو فوری طور پر ضلع اسپتال میں داخل کیا گیا، جہاں پولیس کے مطابق سبھی کی حالت مستحکم ہے۔ اس دوران ترال بالا میں نماز جمعہ کے بعد نا معلوم افراد نے ممبر اسمبلی ترال مشتاق احمد شاہ کے گھر پر ایک یو پی جی ایل پھینکا جو زوردار ددھماکے ساتھ پھٹ گیا تاہم اس حملے میںکوئی بھی زخمی نہیں ہوا ۔مشتاق احمد شاہ نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حملے کے وقت سرینگر میں تھا ۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ پر اسرار دھماکہ تھا۔نو دل ترال میں جمعہ کی رات 180بٹالین سی آر پی ایف کیمپ پر جنگجوئوں نے گرینیڈ پھینکا ، تاہم اس دھماکے میں کوئی نقصان نہیں ہوا۔ادھر قصبہ ترال سے چار کلومیٹر دو بٹہ گنڈ کے ڈمبل نامی گائوں میں 180 بٹالین سی آر پی ایف کے ایک کیمپ پر 31اوریکم جون کی درمیانی رات1:55 پر جنگجوئوںنے رائفل گرینیڈ سے حملہ کیا جوکیمپ کے باہری تار بندی کے ساتھ ٹکراکر ایک زوردار دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا جس کے بعد کیمپ میں موجود تمام اہلکاروں نے چاروں طرف شدید فائرنگ کی جس کی وجہ سے پورا علاقے لرز اٹھا۔ ادھر پلوامہ قصبے میں جمعہ کی صبح عید گاہ کراسنگ کے نزدیک جنگجوئوں نے سی آر پی ایف183بٹالین کے ایک بنکرگاڑی پر گرینیڈ پھینکا جو نشانہ چوک کر گاڑی سے چند گز کی دور پر سمات شکن آواز کے ساتھ پھٹ گیا تاہم اس حملے میں بھی فورسز کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ۔واضح رہے پلوامہ میں گزشتہ تین روز کے دوران کم سے کم نصف درجن حملے ہوئے ہیں۔ادھر 49بٹالین سی آر پی ایف بینکر واقع ہنو مان مندر ہری سنگھ ہائی سٹریٹ پر رات قریب ساڑھے 8بجے جنگجوئوں نے گرینیڈ پھینکا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا، تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔