سرکاری ملازمت سے اسمبلی کے گلیاروں تک منفرد انداز کیلئے مشہور انجینئر کی نظر اب پارلیمنٹ پر

 بلال فرقانی
سرینگر//شعلہ بیان مقرر اور اپنے منفرد انداز کیلئے مشہور انجینئر رشید ان سیاستدانوں میں شمار ہوتے ہیں جو بہت قلیل وقت میں جموں کشمیر کی سیاست کے افق پر چھاگئے۔ جموں کشمیر اسمبلی کے سابق رکن انجینئر رشید شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست سے تیسری مرتبہ آزاد امیدوار (عوامی اتحاد پارٹی) کی حیثیت سے انتخابات میں شرکت کر رہے ہیں جبکہ اس سے قبل دومرتبہ وہ بازی مارنے میں ناکام رہے۔
نوکری سے سیاست تک
سرکاری انجینئرنگ سے سیاست میں قدم رکھنے والے شیخ عبدالرشید عرف انجینئر رشید کاتعلق لنگیٹ کپوارہ کے لاچھ مائور علاقے سے ہے۔انجینئر رشید19اگست1967کو ایک تعلیمی گھرانے میں محمدخضر شیخ کے گھر میںپیدا ہوئے،جو پیشے سے استاد تھے اور بعد میں ہیڈ ماسٹر کے طور پر سبکدوش ہوئے۔ انجینئر رشید نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں ہی حاصل کی جبکہ بعد میں1988-89میں ڈگری کالج سوپور سے سائنس میں بیچلرس کیا۔انجینئر رشید نے میڈیکل مضمون میں بچلرس ڈگری حاصل کرنے کے علاوہ کشمیر گورنمنٹ پالی ٹیکنیک گوگجی باغ سے1992میں سیول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کیا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انجینئر رشید1993تک ایک مقامی نجی سکول میں استاد کی حیثیت سے کام کرتے رہےتاہم1993میں وہ جموں کشمیر پبلک کنسٹریکشن کارپوریشن(جے کے پی سی سی) میں جونیئر انجینئر منتخب ہوئے۔ اس دوران انہوں نے علاقے میں ایک عوامی کُتب خانہ بھی قائم کیا ،جو آج بھی چل رہا ہے۔ انجینئر رشید کو سال2005میں جنگجوئوں کی معاونت کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور قریب4ماہ کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔انجینئر رشید اس دوران جموں کشمیر کے روزانہ اور ہفتہ وار اردو و انگریزی اخبارات میں مضامین تحریر کرتے رہیں،جو انہوں نے ممبر اسمبلی ہوتے ہوئے بھی جاری رکھے۔2008کے اسمبلی انتخابات سے قبل ہی انجینئر رشید نے نوکری سے استعفیٰ دیا اور عملی سیاست میں قدم رکھا۔
سیاسی میدان میں
انجینئر رشید اگرچہ ابتدائی عمر سے ہی پیپلز کانفرنس سے وابستہ تھےاور مرحوم خواجہ عبدالغنی لون سے سیاسی دائو پیچ سیکھنے میں کوئی بھی بخیلی نہیں کر رہے تھےتاہم2008میں انہوں نے عملی طور پر سیاست میں آنے کا فیصلہ لیا اور کپوارہ کے لنگیٹ اسمبلی حلقے سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔17دنوں تک انجینئر رشید اپنے دوستوں اور رفیقوں کے ہمراہ انتخابی مہم چلاتے رہےجس کے بعد انہوں نے اس وقت لوگوں کو حیران کردیا جب انتخابی نتائج ظاہر ہوئے اور انہوں نے اپنے نزدیکی مد مقابل اور پی ڈی پی امیدوار محمد سلطان پنڈت پوری کو محض211ووٹوں سے شکست دی۔ پنڈت پوری نے7753جبکہ انجینئر رشید نے7964ووٹ حاصل کئے۔ اسمبلی میں تمام جماعتوں کے قانون سازوں سے مسائل و اہم مدعوں پر نونک جھونک اور شعلہ بیانی کی وجہ سے وہ توجہ کا مرکز بنے اور بہت کم وقت میں سیاسی میدان میں وہ شہرت حاصل کی،جو دیگر سیاست دانوں کو حاصل کرنے میں طویل عرصہ لگتا ہے۔ آئے دن اسمبلی میں مارشلوں کی وجہ سے ایوان سے باہر نکالنے،واک آئوٹ اور اسمبلی کے چاہ ایوان میں دھرنے پر بیٹھنے،تلخ کلامی و اپنے انداز بیان نے انجینئر رشید کے ارد گرد انکے شائقین کی بھیڑ جمع کی۔ انجینئر رشید اپنی سیاست کے دوران کئی مرتبہ تنازعات کا شکار ہوئے تاہم وہ منفرد اور انوکھے انداز سے احتجاج کرنے کیلئے بھی جانے جاتے ہیں۔جون2013میں انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ’عوامی اتحاد پارٹی‘ کی داگ بیل ڈالی۔ انجینئر رشید نے سال2014میں مسلسل دوسری مرتبہ اسمبلی الیکشن میں شرکت کی اور عوامی اتحاد پارٹی کے نمائندے کی حیثیت سے کاغذات نامزدگی داخل کئے۔ انہوں نے اس الیکشن میں کامیابی درج کرکے اپنے مد مقابل اور پی ڈی پی امیدوار غلام نبی گنائی(پنڈت پوری) کو2505ووٹوں سے ہرادیا۔انجینئر رشید نے18ہزار172جبکہ غلام نبی گنائی(پنڈت پوری) نے15ہزار667ووٹ حاصل کئے۔انجینئر رشید نے2014کے پارلیمانی انتخابات میں پہلی مرتبہ شرکت کی اور22ہزار90ووٹ لیکر چوتھے پائیدان پر رہے تاہم انہوںنے بارہمولہ پارلیمانی حلقہ سے2019میں ہوئے پارلیمانی انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر 1,01500ووٹ لے کر سب کو چونکا دیا۔ انجینئر رشید اس الیکشن میں تیسرے پائیدان پر رہے جبکہ انکے مد مقابل پیپلز کانفرنس کے سجاد غنی لون صرف827ووٹوں سے ان سے ایک قدم آگے رہے اور ایک لاکھ2ہزار327ووٹ حاصل کئے۔ نیشنل کانفرنس کے محمد اکبر لون اس نشست سے اس وقت فاتح ہوئے اور انہوں نے انجینئر رشید کے مقابلے میں31ہزار192ووٹ زیادہ حاصل کئے۔انجینئر رشید کو5اگست2019کو جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنیسخ سے دوروز قبل حراست میں لیا گیا تھا اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ملی ٹینسی فنڈنگ کے معاملے میں گرفتار کیا۔ پوچھ تاچھ کے بعد تہاڑ جیل میں مقید کیا جہاں وہ تا ہنوز نظر بند ہیں۔ رشید انجینئر پہلے مرکزی دھارے کے سیاست دان ہیں جنہیں قومی تحقیقاتی ایجنسی نے اس معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ انجینئر رشید نے تہاڑ جیل سے ہی پارلیمانی انتخابات میں شرکت کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تیسری مرتبہ شمالی کشمیر کی پارلیمانی نشست سے کاغذات نامزدگی داخل کئے ہیں اور اس وقت ان کے دو فرزند ابرار اور اسرار نے ان کی الیکشن مہم چلائی جبکہ شعیب نبی لون انکے ہمراہ تھے۔
اثاثہ جات
انجینئر رشید کے پاس ایک کروڑ56لاکھ37ہزار424روپے کی جائیداد ہے جبکہ وہ14لاکھ42ہزار558روپے کے مقروض ہیں۔انکے اہل خانہ کے پاس24ہزار روپے کی رقم در دست ہے،جبکہ37ہزار424روپے بھی گھر والوں کے بنک کھاتوں میں جمع ہیں۔ انکی دختر اور اہلیہ کے پاس76ہزار روپے کے سونے کے زیورات بھی ہیں۔انجینئر رشید کے پاس لنگیٹ میں65لاکھ روپے مالیت کی41072فٹ کی غیر زرعی اراضی ہے، جواہر نگر سرینگر میں3ہزار فٹ پر پھیلا رہائشی مکان ہے،جس کی قمیت قریب90لاکھ روپے ہے۔ انجینئر رشید نے جموں کشمیر بنک سے14لاکھ42ہزار558روپے کا قرضہ بھی حاصل کیا ہے۔