جموں //بی ایس ایف اور پاکستان رینجرز کی طرف سے جنگ بندی معاہدہ پر عملدرآمد یقینی بنانے پر اتفاق قائم ہونے کے دوسرے ہی روز ضلع جموں کے سرحدی علاقوں میں فائرنگ کے تازہ واقعات سے دہشت پھیل گئی ہے اور معمولات زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ پیر کی صبح شروع ہونے والی آر پار فائرنگ اور بھاری شلنگ کے نتیجہ میں ایک فوجی اہلکار،پولیس کا ایک ایس پی او اور 7شہری زخمی ہو گئے ۔ سب سے زیادہ ارنیہ سیکٹر متاثر ہوا ہے جہاں پاکستان کی طرف سے 10دیہات اور اتنی ہی فوجی چوکیوں کو نشانہ بنا کر فائرنگ کی گئی۔ خلاف معمول، فائرنگ صبح 7بجے شروع ہو گئی اور مسلسل کئی گھنٹے تک جاری رہی۔ ایک سرحدی مکین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ماضی میں عام طور پر رات کے وقت فائرنگ ہوتی رہی ہے جب کہ دن مقابلتاً خاموش گزرتے رہے لیکن آج صبح سویرے ہی فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔دفاعی ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے بی ایس ایف کی ارنیہ، نارائن پور، سائی ، رام گڑھ اور چملیال کی ہر اول چوکیوں پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی گئی جب کہ ارنیہ کو نشانہ بنا کر بھاری شلنگ کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں سینکڑوں کی تعداد میں گولے گرے ،جس سے مقامی پولیس تھانہ اور کئی رہائشی مکانات کو نقصان پہنچا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ20ہزار سے زائد آبادی والا ارنیہ بین الاقوامی سرحد پر آباد سب سے بڑا قصبہ ہے ، سرحد سے فاصلہ پر ہونے کے باوجود یہ پاکستانی فائرنگ کی زد میں آتا ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایک ایس پی او سمیت 8افراد زخمی ہوئے ہیں ، پاکستان کی طرف سے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے کیلئے 80ایم ایم اور 120ایم ایم کے گولوں کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔زخمی ایس پی او کی شناخت 59سالہ گوچرن سنگھ سینی ولد درشن سنگھ کے طور پر کی گئی ہے ، وہ ارنیہ پولیس تھانہ میں تعینات تھا۔ زخمی شہریوں میں سدیش دیوی (55) زوجہ بچن لال، درشنا دیوی (60)زوجہ ترلوک سنگھ، سوہن لال (28)ولد سیوا رام، مدھو (45)زوجہ کرشن لال، مہندر کمار (43)ولد ہنس راج، انل کمار (30) ولد چمن لال ساکنان ارنیہ شامل ہیں۔ ایڈیشنل ڈی سی جموں ارون منہاس نے بتایا کہ انتظامیہ نے حفظ ما تقدم کے طور پر سرحد سے 5کلو میٹر کے دائرہ میں پڑنے والے تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ حالیہ فائرنگ سے کٹھوعہ، سانبہ، رام گڑھ، ارنیہ، آر ایس پورہ میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ارنیہ سیکٹر سے 40ہزار سے زائد شہری محفوظ مقامات پر منتقل ہو گئے ہیں ۔ضلع انتظامیہ کی طرف سے سرکاری اسکولوں میں عارضی کیمپ بنائے گئے ہیں جہاں پناہ گزینوں کو کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایڈیشنل ڈی سی موصوف نے بتایا کہ متعدد مقامات پر ریلیف کیمپ قائم کر دئیے گئے ہیں اور لوگوں کو ان کیمپوں میں منتقل ہونے کی ہدایت دی جا چکی ہے ۔ ایک سینئر بی ایس ایف افسر نے بتایا کہ پاکستان کی طرف سے پیر کی صبح سات بجے اگلی چوکیوں وکرم، چناز اور جبو وال کو نشانہ بنا کر شلنگ کی گئی، بی ایس ایف کی جانب سے بھی فائرنگ کا معقول جواب دیا جا رہا ہے ۔