رمیش کیسر
نوشہرہ// ضلع راجوری کے سرحدی علاقہ نوشہرہ کے آخری گاؤں پکھرنی کے مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقامی طبی صحت مرکز کو فوری طور پر پرائمری ہیلتھ سینٹر (PHC) کا درجہ دیا جائے تاکہ سرحدی آبادی کو بہتر طبی سہولیات میسر آ سکیں۔مقامی لوگوں کے مطابق پکھرنی گاؤں لائن آف کنٹرول کے قریب واقع ہے اور یہ نوشہرہ کا آخری سرحدی گاؤں مانا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہاں ایک طبی صحت مرکز قائم کیا گیا ہے، تاہم اس مرکز میں بنیادی طبی سہولیات، ضروری ادویات، ماہر ڈاکٹروں اور جدید طبی آلات کی شدید کمی پائی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ معمولی بیماری کی صورت میں بھی مریضوں کو دور دراز اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جبکہ ایمرجنسی حالات میں مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سرحدی کشیدگی اور پاکستانی گولہ باری کے دوران صورتحال انتہائی سنگین ہو جاتی ہے کیونکہ فوری طبی امداد دستیاب نہ ہونے کے باعث مریضوں اور زخمیوں کو بروقت علاج نہیں مل پاتا۔مقامی باشندوں نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگ پہلے ہی غیر یقینی حالات، گولہ باری اور دیگر مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، ایسے میں بہتر طبی سہولیات ان کا بنیادی حق ہے۔ لوگوں نے حکومت اور محکمہ صحت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ پوکھرنی طبی صحت مرکز کو جلد از جلد پرائمری ہیلتھ سینٹر میں تبدیل کیا جائے تاکہ علاقے کے ہزاروں لوگوں کو بنیادی صحت سہولیات مقامی سطح پر فراہم ہو سکیں۔علاقہ کے معززین اور سماجی کارکنان نے بھی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سرحدی دیہات کو خصوصی توجہ دی جائے اور صحت، تعلیم و بنیادی ڈھانچے کی سہولیات کو مضبوط بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کم ہو سکیں۔