نیوز ڈیسک
جموں//ادھم پور کے سدل گائوں کے باشندوں نے آزادی کے 75برس کے طویل وقفے کے بعد مرکزی حکومت کی ’’ انٹیڈ گرانٹس سکیم ‘‘ کے تحت اَپنے علاقے کو بجلی فراہم کرکے اَپنی زندگی کے اَندھیروںکو دور کیا ہے۔اِس گائوں کے باشندے اَب پہلے کی طرح اَپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لئے پُر اُمید ہیں ۔گائوں میں شام کے اَوقات میں روشنی کا واحد ذریعہ موم بتیاں اور تیل کے لیمپ تھے، جو آہستہ آہستہ ان کی روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن گئے۔اِسی طرح پہاڑی ڈوڈہ ضلع کے گنوری ۔ تنتا گائوں نے پہلی بار بجلی کے بلب کی روشنی دیکھی جس نے گائو ں والوں کی زندگی سے کئی دہائیوں کے اَندھیرے کا خاتمہ کیا۔اِنتظامیہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کی ہدایت پر گائوں میںالیکٹریفکیشن کا کا م شرو ع کیا جب مقامی لوگوں کے ایک گروپ نے ایل جی ملاقات پروگرام میں ان کے سامنے مطالبہ پیش کیا۔جموںوکشمیر اِنتظامیہ نے اَگلے پانچ برسوں میں جموںوکشمیرکو بجلی سرپلس بنانے کے لئے خطے کے ہائیڈرو پاور کی صلاحیت کو بروئے کار لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔اِنتظامیہ نے اِس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے پاور سیکٹر میں متعدد اہم اِصلاحات کی ہیں جو یہاں پاور سیکٹر کو تبدیل کریں گی۔ حکومت جموںوکشمیر نے آزادی کے 75 برس بعد اِس خستہ حال شعبے کو تقویت دینے اور اِس کی بحالی کے لئے بے مثال اِصلاحات کا آغاز کیا ہے۔جموںوکشمیر یوٹی میں اَب سے چند برسوں میں ہائیڈرو پاور سیکٹر میں 3,400 میگاواٹ کی صلاحیت میں اِضافہ دیکھنے کا اِمکان ہے ۔ جموںوکشمیر دونوں صوبوں میں بجلی کی دستیابی میں اِضافہ کیا گیا ہے ۔ اِس کے علاوہ نظر ثانی شدہ ڈسٹری بیوشن سیکٹر سکیم ( آر ڈی ایس ایس ) کو 5,641 کروڑ روپے کی لاگت سے عملایا جارہا ہے ۔اُنہوں نے کہا کہ تمام شہریوں کو معیاری بجلی کی دستیابی کو یقینی بنائی جائے گی۔ایک سرکاری ترجمان نے کہا کہ پاور جنریشن ، دسٹری بیوشن اور ٹرانسمیشن شعبوں میں صلاحیت میں خاطر خواہ اِضافہ ہوا ہے۔گزشتہ 70برسوں میں جموں وکشمیر میں 20,000 میگاواٹ کی صلاحیت میں سے صرف 3,500 میگاواٹ کا اِستعمال کیا گیا تھا۔ایک بار جب پوری صلاحیت سے فائدہ اُٹھایا جائے گا ، جموںوکشمیر کے پاس اِضافی بجلی ہوگی اور توانائی کابرآمد کنند ہ بن سکتا ہے ۔تاہم صرف گزشتہ دو برسوں میں تقریباً3,000میگاواٹ کی صلاحیت کے منصوبوں کو بحال کیا گیا ہے اور بعد میں اُنہیں آپریشنل کرنے کے لئے ٹریک پر ڈال دیا گیا ہے ۔اِسی طرح 3,300 میگاواٹ کے نئے پروجیکٹوں کو جلد مکمل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جس میں کیرتھائی دوم ( 930میگاواٹ )، ساولا کوٹ ( 1,856میگاواٹ ) ، ڈوہستی مرحلہ دوم( 258میگاواٹ) اور اوڑی ۔Iمرحلہ دوم ( 240میگاواٹ) کے چار منصوبے شامل ہیں۔اِس کے علاوہ جنوری 2021ء میں جموںوکشمیر میں توانائی کی کفایت کے لئے ایک تاریخی مومنٹ میں 850 میگاواٹ کے ریتلے پن بجلی پروجیکٹ اور 930 میگاواٹ کیرتھائی ۔دوم پن بجلی پروجیکٹ سمیت بہت سے منتظر میگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹوں کی عمل آوری کے لئے مفاہمت ناموں پر دستخط کئے گئے۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے کہا کہ حکومت کا وژن جموںوکشمیر کے ہائیڈرو اَنرجی کے وسائل کو بروئے کا ر لانا تھا جس کا مقصد 2024ء تک توانائی کی پیداوار کو دوگنا کرنے کا ہدف ہے اور اِقتصادی اور سماجی فوائد کے لئے توانائی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لئے پالیسیوں ، نگرانی کے طریقہ کار سے کارکردگی کے لئے حکمت عملی تیار کرنا تھا۔