سخت لہجے مار دیتے ہیں،نرم رویے وقار دیتےہیں زبان سے بڑھ کر کوئی بھی چیزانسان کو ضرر نہیں پہچاتی!

سبزار احمد بٹ
اللہ رب العزت نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ۔ انسان کو دو ہاتھ، دو کان، دو پیر، اور نہ صرف ایک زبان عطا کی ہے بلکہ انسان پر اتنے احسانات کئے ہیں کہ ان نعمتوں اور احساسات کا بدلہ کسی بھی صورت میں ممکن نہیں ہے ۔ ہاں مگر انسان کو کل رب العزت کے سامنے جواب بھی دینا ہے کہ ان نعمتوں کا انسان نے کس طرح استعمال کیا ہے ۔ان نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت زبان ہے ۔ یہی وہ چیز ہے جو انسان کو باقی حیوانات سے ممتاز اور بالاتر کر دیتی ہے یہ محض ایک گوشت کا ٹکڑا نہیں ہے بلکہ زبان سے انسان اپنے خیالات، جذبات اور احساسات کا اظہار کر سکتا ہے ۔زبان کے بہترین استعمال سے ہی ایک انسان کو عزت و وقار نصیب ہوتا ہے اور انسان لوگوں کے دلوں میں گھر کر جاتا ہے اور زبان کے غلط اور نامناسب استعمال سے انسان نہ صرف ذلت اور رسوائی کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ لوگوں کے دلوں اور اُن کی نظروں سے اتر جاتا ہے ۔ دراصل انسان وہی بولتا ہے جو کچھ اس کے دل میں ہوتا ہے۔ جب تک انسان خاموش رہتا ہے اور کی اصلیت چھپی رہتی ہے جبکہ بات کرنے سے انسان کے حسب و نسب کا پتہ چل جاتا ہے۔ بقول شاعر؎
میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسب
بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے
انسان سب سے زیادہ گناہ گار زبان کے بےجا اور نامناسب استعمال سے ہوتا ہے۔اللہ ہم سب کو زبان کے شر سے محفوظ رکھے ۔
کبھی کبھی انسان دولت، شہرت یا اپنے جنون کے نشے میں تلخ لہجہ اور سخت رویہ اپناتا ہے، اسے اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کی زبان تلوار سے تیز ہے اور اس سے دوسروں کے دل زخمی ہوجاتے ہیں اور زخم بھی ایسے لگتے ہیں جو تادیر بھرتے ہی نہیں ہیں ۔ انسان کا لہجہ اور اس کا رویہ ہی اس کا تعارف کراتا ہے ۔ ایسے لوگ اپنی اپنی دولت اور آفیسری کے نشے میں اتنے چور ہوتے ہیں کہ اپنے ماتحت لوگوں کو یا غریب لوگوں کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ، ان کے ساتھ تلخ اور تند لہجے کے ساتھ ساتھ سخت رویہ اپناتے ہیں ۔انہیں اس بات کا ذرہ بھی احساس نہیں ہوتا کہ اُن کے لہجے، الفاظ اور ان کے رویے کا دوسروں پر کیا اثر پڑتا ہے۔ اس سے زیادہ شرم اور افسوس کی بات یہ ہے کہ چند بے ضمیر لوگ ان لوگوں کے اس تلخ اور سخت لہجے پر قہقہے لگا کر ان جیسے انسانوں کی خوشنودی حاصل کرنا اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں ۔لیکن ایسے مغرور انسانوں کو ایک بات سمجھ لینی چاہیے کہ لوگ اگر ان کی عزت کرتے بھی ہیں تو فقط ڈر اور خوب سے کرتے ہیں بلکہ ایسے لوگوں کے لیے دِلوں میں ہمیشہ نفرت ہوتی ہے محبت نہیں ۔ اور یہ لوگ کم ظرف ہوتے ہیں ظرف تو ان لوگوں کا ہے جو یہ جو سخت لہجہ اور سخت رویوں کا زہر پی لیتے ہیں اور اُف تک نہیں کرتے ہیں، واقعی میں ایسے عظیم انسان سلام کے حقدار ہیں۔ بقول شاعر ؎
کہنے والوں کا کچھ نہیں جاتا
سننے والے کمال کرتے ہیں
سخت لہجہ اور منفی رویہ اپنانے والے لوگ دراصل اپنا تعارف کرا رہے ہوتے ہیں اور سہنے والے اپنا ۔ بقولِ شاعر؎
جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
تمارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے
ہمارے معاشرے میں بھی ایسےانسان ہیں، جنہیں اللہ رب العزت نے بہت ہی حلیم لہجے اور شرین زبان سے نوازہ ہوتا ہے۔ بڑے بڑے عہدوں پر ہیں لیکن اپنا لہجہ اور اپنا رویہ سنبھالے ہوئے ہیں ۔ بولتے ہیں تو ان کی تربیت کا پتہ چلتا ہے ۔ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کے اصل ہیرے ہیں، ایسے لوگوں کو عہدوں سے عزت نہیں ملتی بلکہ عہدے ہی ان کے وجہ سے عزت پاتے ہیں ۔ایسے لوگ جب بولتے ہیں تو سننے والوں کا دل چاہتا ہے کہ وہ بولتے ہی رہیں ۔سننے والے ان پر جان چھڑکتے ہیں ۔ ان کی دل سے عزت کرتے ہیں ۔ایسے لوگ دوسروں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ۔
پیارے نبی صل اللہ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ’’ایک شخص اپنی زبان سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی اور خوشنودی والے کلمات ادا کرتا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک ان کلمات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ،لیکن اللہ تعالیٰ اس کی بے خبری میں ہی اس شخص کے درجات بلند فرما دیتا ہےاور ایک شخص اللہ کو ناراض کرنے والے کلمات ادا کرتا ہے، حالانکہ اس کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ،لیکن اللہ تعالیٰ اس کی بے خبری میں ہی اسے جہنم میں گرا دیتا ہے۔‘‘(صحیح بخاری)
اس حدیث پاک سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری زبان اور ہمارا لہجہ ہمیں جنت یا جہنم تک پہنچا سکتا ہے ۔ایسے علم اور ایسی جاہ و حشمت کا آخر کیا فائدہ ،جس سے ہمیں بات کرنے کا سلیقہ بھی نہ آتا ہو ۔ کوئی بھی حاکم یا آفیسر ہو، اُس کے لئے دین اسلام میں واضح ہدایات ہیں کہ اس سے اپنی زیر تحویل انسانوں اور چیزوں کا حساب لیا جائے گا ۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے ماتحت کام کرنے والوں سے نرمی برتیں ۔
کچھ لوگ اپنے بزرگوں، والدین اور اپنے اساتذہ کے خلاف سخت لہجہ اپنا کر ان کی ناراضگی مول لے کر اپنا ٹھکانا جہنم بنا لیتے ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے لوگوں کے سامنے کسی کو بولنے کی ہمت نہیں ہو رہی ہے کہ آپ اپنے اختیارات اور اپنی زبان کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں، جس سے آپ اس دنیا میں بھی رسوا ہونگے اور آخرت میں بھی ۔ لہٰذا بہتر ہے کہ آپ سخت اور نامناسب لہجہ اپنانے سے باز آئیں ۔ میں یہ چند سطور ایسے سبھی لوگوں کے لئے لکھ رہا ہوں کہ وہ تلخ لہجہ اپنانے سے باز آئیں ۔ دوسروں کو ذلیل کرنے والے بھلا خود عزت کیسے پا سکتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایسے لوگ دہرا معیار اپناتے ہیں ۔ جب اپنے سے کم رتبے والے انسان سے بات کر رہے ہوتے ہیں اُس وقت ان کے تیور کچھ اور ہوتے ہیں اور جب اپنے سے بڑے رُتبے والے انسان سے بات کرتے ہیں تو ان کی انکساری پسینے کی صورت میں ماتھے سے ٹپ ٹپ کر کے ٹپکتی ہے اور انسان یہ سمجھنے سے قاصر رہتا ہے کہ ان کا سخت لہجہ اتنی دیر میں کہاں غائب ہوگیا۔ کہتے ہیں نا کہ اپنے سے کمزور لوگوں کی عزت کرنا شروع کر دو، اللہ تمہیں طاقتور لوگوں کی ذلت سے بچائے گا۔
میری یہ بات اگر سخت لہجہ اور نامناسب رویہ اپنانے والے دو ہی انسانوں تک پہنچ جائے گی تو میں اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھوں گا ۔ میں بس یہی گزارش کرنا چاہوں گا کہ خدا کے لیے اپنی زبان کا مناسب استعمال کریں، اپنا لہجہ نرم رکھیں اور اور مثبت رویہ اپنائیں۔رویوں اور لہجوں کا اثر دیر پا ہوتا ہے ۔ ہمیں لوگوں کے دل جیتنے چاہیں،دلوں پر راج کرنے والے لوگ ہی اصل بادشاہ ہوتے ہیں ۔ ورنہ ہمارے رویوں سے لوگوں کو ناحق تکلیف پہنچتی ہے اور ہمارا اللہ ہم سے ناراض ہوتا ہے۔؎
رویے مار دیتے ہیں یہ لہجے مار دیتے ہیں
وہی جو جان سے پیارے ہیں رشتے مار دیتے ہیں
(رابطہ۔7006372174 )