محمد تسکین
بانہال//جموں و کشمیر کے اہم ترین پن بجلی منصوبوں میں شمار ہونے والے ساولکوٹ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مرکزی حکومت کے نو رتن ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن (این ایچ پی سی) لمیٹڈ نے منصوبے کے بڑے تعمیراتی کاموں کے لئے 5,129 کروڑ روپے مالیت کے آن لائن ٹینڈرز طلب کر لیے ہیں، جس کے بعد خطے میں ترقی اور روزگار سے متعلق نئی امیدیں پیدا ہو گئی ہیں۔این ایچ پی سی کی جانب سے 5 فروری کو جاری کردہ سرکاری نوٹس کے مطابق یہ ٹینڈرز Domestic Competitive Bidding کے تحت جاری کئے گئے ہیں، جن میں صرف ملک کے اندر موجود اہل کمپنیوں اور ٹھیکیداروں کو شرکت کی اجازت ہوگی۔ یہ ٹینڈرز پیکیج نمبر ایک سے متعلق ہیں، جس میں منصوبے کے بنیادی اور بڑے ڈھانچہ جاتی کام شامل ہیں۔اس پیکیج کے تحت ڈائیورشن ٹنلز اور ایڈٹس کی کھدائی و تعمیر، دریائے چناب کا بہاؤ موڑنے کے لئے کوفر ڈیمز کی تعمیر، رسائی کے لئے سرنگوں اور سڑکوں کی تعمیر، ڈیم اسٹرکچر اور ہائیڈرو میکینکل کام انجام دیے جائیں گے۔ یہ تمام کام منصوبے کی بنیاد سمجھے جا رہے ہیں اور ان کی تکمیل کے بعد مرکزی ڈھانچے کی تعمیر میں تیزی متوقع ہے۔این ایچ پی سی حکام کے مطابق اس پیکیج کی تخمینی لاگت 5,129.03 کروڑ روپے رکھی گئی ہے جبکہ منصوبے کی تکمیل کے لیے 108 ماہ یعنی نو سال کی مدت مقرر کی گئی ہے۔ ٹینڈرز میں حصہ لینے والی کمپنیوں کے لئے زرِ ضمانت (Earnest Money Deposit) 10کروڑ روپے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ٹینڈر دستاویز کی قیمت 40 ہزار روپے رکھی گئی ہے۔ موصول ہونے والے ٹینڈرز کو 24 مارچ کو کھولا جائے گا۔1,856میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ساولکوٹ پن بجلی پروجیکٹ دریائے چناب پر تعمیر کیا جانا ہے۔ اس کا جغرافیائی پھیلاؤ ضلع رامبن، ریاسی اور ادھم پور تک ہے۔ منصوبے کے تحت مرکزی ڈیم ضلع رامبن میں تعمیر ہوگا، پانی کے رخ کو موڑنے کے لیے ڈائیورشن ٹنل ضلع ریاسی میں بنائی جائے گی جبکہ زیرِ زمین پاور ہاؤس ضلع ادھم پور میں قائم کیا جائے گا۔یہ منصوبہ گزشتہ تقریباً ساٹھ برسوں سے مختلف مراحل میں زیر غور رہا ہے۔ تکمیل کے بعد یہ جموں و کشمیر کا سب سے بڑا جبکہ ملک کا تیسرا بڑا پن بجلی منصوبہ بننے کی توقع ہے۔ مجموعی طور پر اس منصوبے پر 31,380کروڑ روپے لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔ضلع رام بن خصوصاً ٹنگر اور ملحقہ علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ منصوبے پر عملی کام شروع ہونے سے مقامی نوجوانوں کے لئے روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوں گے۔ ٹرانسپورٹ، تعمیرات، چھوٹے کاروبار اور خدمات کے شعبوں میں بھی نمایاں بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔مقامی باشندوں کے مطابق طویل عرصے سے تعطل کا شکار اس منصوبے پر ٹینڈرز کے اجرا نے عوام میں خوشی کی لہر دوڑا دی ہے۔ لوگوں کو امید ہے کہ اس بار کام محض کاغذی کارروائی تک محدود نہیں رہے گا بلکہ آنے والے مہینوں میں عملی سرگرمیاں بھی شروع ہو جائیں گی، جو خطے کی معیشت کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گی۔