زمین دھنسنے سے خانی، پیڑہ گاؤں کے رہائشی خوف میں مبتلا

ایم ایم پرویز

رام بن//رام بن میں قومی شاہراہ 44 پر واقع پیرہ کنفر ٹنل کے جنوبی پورٹل کے پاس پچھلے کچھ دنوں سے مٹی کے تودے گرنے، زمین دھنسنے کی سرگرمیوں کی وجہ سے خانی، پیڑہ علاقے کے لوگ خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چند روز قبل نو تعمیر شدہ پیرہ کنفر ٹنل کے جنوبی پورٹل پر لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی، جس سے حکام کو ٹنل کا جنوبی پورٹل بند کرنا پڑا تاہم ٹریفک کو ٹنل کی دوسری ٹیوب سے موڑ دیا گیا۔گاؤں کھانی، پیڑہ جموں سری نگر نیشنل ہائی وے کے ساتھ سڑک کے اوپر واقع ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ ڈھلوانوں پر دراڑیں نظر آرہی ہیں جس کی وجہ سے وہ پچھلے کچھ دنوں سے راتوں کی نیند نہیں گزار رہے ہیں۔انہیں خدشہ ہے کہ زمین کے دھنسنے، لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوگا اور اس سے ان کے رہائشی مکانات اور زرعی زمین کو نقصان پہنچے گا۔انہوں نے الزام لگایا کہ چند سال قبل نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی ٹھیکیدار کمپنیوں کی جانب سے زمین کی غیر سائنسی کٹنگ کی وجہ سے لینڈ سلائیڈنگ شروع ہوئی اور ڈھلوانوں پر کوئی دیواریں نہیں کھڑی کی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ زمین کی کٹائی کے وقت ہم نے متعلقہ ایجنسی سے رابطہ کیا اور ان سے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی تاکہ مٹی کا کٹاؤ نہ ہو لیکن انہوں نے ہمیں صرف جھوٹی یقین دہانی کرائی۔ایک مقامی رہائشی پردیپ سنگھ نے بتایا کہ ڈھلوانوں میں تیزی سے دراڑیں پڑ رہی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ این ایچ اے آئی کے ٹھیکیدار اور سب کنٹریکٹر کمپنیوں کی لاپرواہی کی وجہ سے علاقے میں زمین دھنسنے لگی ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور متعلقہ اتھارٹی کو بغیر کسی تاخیر کے احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دیں۔