سائبیریا // شہر کیمیرووا میں اتوار کے دن ایک شاپنگ مال میں آتش زدگی کے نتیجے میں مارے جانے والوں میں بچوں کی تعداد 41 بنتی ہے۔ اس بیان کے مطابق ہلاک شدگان کی فہرست جلد ہی لواحقین کے حوالے کر دی جائے گی۔روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے منگل کے دن سائبیریا میں واقع اس شہر کا دورہ بھی کیا ہے۔ کوئلے کی کان کنی کی وجہ سے شہرت یافتہ صعتی شہر کیمیروو کے دورے کے دوران انہوں نے کہا ہے کہ اس حادثے کی وجہ ’مجرمانہ غفلت‘ بنی۔ انہوں نے حادثے کا شکار ہونے والے ’ونٹر چیری کمپلیکس‘ کے باہر پھول رکھے اور ایک خصوصی یادگاری تقریب میں بھی شرکت کی۔اس موقع پر پوٹن نے کہا، ’’ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ یہ کوئی مسلح کارروائی نہیں تھی۔ یہ متھین گیس کے اخراج کا کوئی غیرمتوقع واقعہ بھی نہیں تھا۔ لوگ اور بچے اس کمپلیکس میں آرام کی خاطر آئے تھے۔‘‘ انہوں نے اس حادثے پر تبصرہ کرتے ہوئے مزید کہا، ’’ایسا کیوں ہوا؟ اس کی وجہ مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی بنی۔‘‘اس خونریز حادثے کے نتیجے میں مجموعی طور پر چونسٹھ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔کیمیروو کے حکام نے اس حادثے کے بعد تین دن کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ تاہم کئی ناقدین کا کہنا ہے کہ کریملن کو ملک بھر میں سوگ کا اعلان کرنا چاہیے تھا۔ ان ناقدین کے مطابق روس کے قومی نشریاتی اداروں نے اس سانحے کے باوجود اپنے انٹرٹینمنٹ کے پروگراموں کو بند نہیں کیا۔ سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد روس میں آتشزدگی کا یہ سب سے بڑا خونریز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔روسی پولیس نے بتایا ہے کہ اس شاپنگ مال میں آگ اس وقت لگی، جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس مال کی سب سے اوپر والی منزل میں آگ بھڑکی، جہاں بچوں کے کے لیے تفریحی پلے گراؤنڈز اور سینما گھر واقع تھے۔ آتشزدگی کے وقت اس مال میں قائم دو سنیما گھروں میں لوگ فلمیں دیکھ رہے تھے۔ پولیس نے بتایا ہے کہ اس واقعے کے بعد پانچ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، جن میں اس مال کا انتظامی سربراہ اور مالک بھی شامل ہے۔)ایجنسیز)