ماسکو //روس کی فضائیہ کی سرگرمیوں میں اچانک اضافہ کی بنا پر مغربی ملکوں کے فوجی اتحاد نیٹو کے لڑاکا طیارے چھ گھنٹوں کے دوران دس مرتبہ فضا میں بھیجے گئے۔ان طیاروں نے روسی فضائیہ کے طیاروں کو شمالی بحراوقیانوس، شمالی سمندر، بالٹک اور بحیرہ اسود کی فضاؤں میں آگے بڑھنے سے روکا۔روس جس نے حال ہی میں نیٹو پر جارحانہ اور تصادم کا راستہ اختیار کرنے کا الزام عائد کیا تھا اس نے اپنے لڑاکا طیاروں کی پروازوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے ماسکو پر زور دیا ہے کہ وہ مذاکرات کے سلسلے کو بحال کریں۔نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز سٹولٹنبرگ نے گزشتہ ہفتے امریکہ کے وزیر خارجہ اینتھونی بیلکن کے نیٹو کے ہیڈکواٹر کے دورے کے دوران کہا تھا کہ روس کے ساتھ ایسے تعلقات ہوں جن میں استحکام ہو اور غیر متوقع اتار چڑھاؤ کا شکار نہ ہوں۔نیٹو کے مطابق روس کے لڑاکا فضائی طیاروں نے کسی بھی موقع پر نیٹو ممالک کے فضائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کی لیکن انھوں نے اپنے شناختی ٹرانسپونڈر کو ٹرانسمٹ نہیں کیا جس سے مسافر طیاروں کو مشکلات پیش آ سکتی تھیں۔نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ ان کے طیاروں نے چھ جگہوں پر روس طیاروں کو آگے آنے سے روکا۔روس کے طیاروں نے اس کے بعد شمالی سمندر میں جنوب کی جانب پرواز کی جس پر برطانوی اور بیلجیئم کی فضائیہ کے طیاروں کو حرکت میں آنا پڑا۔بعد ازاں روسی فضائیہ کے دو ٹی یو 160 بلیک جیک بمبار طیارے کو ناروے کی فضائیہ نے پیچھے جانے پر مجبور کیا۔اتحادی فضائیہ کے جہاز بحیرہ اسود پر بھی روسی طیاروں کے راستے میں آئے۔روس اور نیٹو ممالک کے تعلقات میں سنہ 2014 کے بعد سے کشیدگی کم نہیں ہوئی ہے جب روس نے کرائمیا اور روس کے حمایت یافتہ باغیوں نے مشرقی یوکرین پر قبضہ کر لیا تھا۔