روزہ | خدائی پیکیج کا خوش کُن اعلان

اللہ   تعالیٰ کی اپنے بندوں کے لئے نعمتوں اور انعامات کا شمار ممکن نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ان عطایا میں سے رمضان المبارک کو ایک منفرد خدائی پیکج کی حیثیت حاصل ہے ۔حضورر اکرم ﷺ کو اس بابرکت مہینہ کا شدت سے انتظار رہا کر تا تھا ۔آپ ﷺ ما ہ صیام کا جس شوق سے استقبال کرتے تھے، اس کا احساس اور ذکر خود ایمان افروز اور اس انعام الہٰی کی قدر ومنزلت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھا نے کے لئے مہمیز کا کام کرتاہے، آپ ﷺ  جب رجب کا چاند دیکھتے تو دو مہینوں میں آمدرمضان کی دعا فرماتے اور پھر جب رمضان کا چاند نظر آجاتا تو لسان نبویﷺ  سے یہ الفاظ گوہر بن کر ضوفشاں ہوتے :اے اللہ ہم پر یہ چاند امن وایمان اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ طلوع فرما اے چاند میرا اور تیرا رب اللہ ہے۔
روزے کے باب میں کلام الہٰی نے تین چیزوں کی طرف خصوصیت سے ہمیں متوجہ کیا ہے ’’ تاکہ تم صاحب ِتقوی بن جائیں ، یعنی تا کہ تم اپنے رب کا شکر ادا کریں اس کی تمام عطایا اور انعامات پر، تا کہ تم اس انعامِ خداوندی اور عطائے ہدایت رُبانی پر اللہ کی کبریائی بیان کریں اور قرآن کے پیغام کو پھیلائیںاور اس انعام کا شکر ادا کریں ۔نبی پاکﷺ نے اس مبارک مہینے سے فائدہ اٹھانے کا مؤثر ترین نسخہ اس طرح بیان فرمایا: جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردئیےجائیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ سر کار دو عالم ﷺ نے اس مقدس مہینہ کو نیکیوں کی فصل بہار قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں روزہ اسلام کے نظام تربیت واصلاح نفس کا ایک بنیادی رکن ہے، انسانوں کی ہدایت ورہنمائی کے لئے اللہ رب العزت نے اسلام کے نظام تربیت میں عبادات ومعاملات کے ذریعہ نہ صرف فرد بلکہ معاشرے اور پوری انسانیت کے لئے کرنے اور برتنے کے ایسے کام فرض کئے ہیں جن میں سے ہر ایک اس نظام تربیت کو قوت اور سہارا دیتا ہے ۔ روزہ سال بھر میں ایک مہینہ کا غیر معمولی نظام تربیت SPECIAL TRAINING COURSE ہے جو آدمی کو تقریباً ۷۲۰ گھنٹے تک مسلسل اپنے مضبوط ڈسپلن کے شکنجے میں کسے رکھتا ہے تاکہ روزانہ کی معمولی تربیت میں جو اثرات خفیف تھے، وہ شدید ہوجائیں بلکہ صرف روزہ ہی نہیں تمام عبادات کی ایک غرض یہ بھی ہے کہ ان کے ذریعہ آدمی کے ضبط ِ نفس کی تربیت کی جائے اور اس کو اس قابل بنا دیا جائے کہ اس کی پوری زندگی اللہ کی عبادت بن جائے ،گویا عبادات انسان کے مقصد وجود کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ فرمان ِ الہیٰ ہےکہ میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔
ایک بنیادی فرق روزے اور دیگر تمام عبادت میں یہ ہے کہ ان کی ادا ئیگی ایک قابل محسوس شکل رکھتی ہے، جب کہ روزہ ایک ایسی مخفی عبادت ہے جسے صرف وہ جس کی عبادت کی جارہی ہے، جانتا ہے۔اللہ عزوجل فرماتاہے : ابن آدم کا ہر نیک عمل کئی گنا بڑھادیا جاتاہے،ایک نیکی کئی نیکیوں کے برابر، حتیٰ کہ ۷۰۰ ؍نیکیوں کے برابر ، سوائے روزے کے جو صرف میرے لئے ہوتا ہے اور میں یہ دوسروں کو اس کا بدلہ خود دیتا ہوں،یہ نظرنہ آنے والی عبادت اپنے اثرات ونتائج کے اعتبار سے صحیح معنی میں جہاد اصغر کہی جاسکتی ہے کیونکہ اس میں نفس میں پائی جانے والی مخفی بغاوت (طاغوت ) اور انانیت (شیطان) جو ایک انتہائی بھلے اور راست باز انسان کو وقتی طورپر اپنے قابو میں لے آتی ہے۔ اس کو پورے ایک ماہ کے لئے نظرنہ آنے والے قید خانے کی سنگین سلاخوں کے پیچھے بیڑیاں پہنا کر قید کر دیا جاتا ہے ۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا : تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آپہنچا ،یہ بابر کت مہینہ ہے۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض فرمائے، اس مہینہ میں جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں ، اور اس میں شیطان جکڑدئےجاتے ہیں ‘‘ ۔عام دنوں میں شیطانی وساوس مومن کو بہت سے نیک کاموں سے روکنے کے لئے نت نئی شکلوں میں مزاحم ہوتے ہیں لیکن رمضان ایسا موسم بہار لے کر آتا ہے جس میں فضا بھلائیوں کے لئے ساز گار اور برائیوں کے لئے سد راہ بن جاتی ہے۔ یوںروزہ ایک ڈھال بن کر آتا ہے، اس لئے اگر کسی روزہ دار کو کوئی شخص جھگڑے پر آمادہ کرنا چاہے تو وہ صرف یہ کہہ کر لڑائی جھگڑے سے الگ ہوجاتاہے :’’میں روزے سے ہوں‘‘ (بخاری ، مسلم) ۔یہ ہمت یہ اعتماد اور یہ حوصلہ کہ ایک دھمکی کا جواب ہاتھ سے دینے کی صلاحیت ہو اور پھر بھی صرف یہ کہنے پر اکتفا کیا جائے کہ میں روزے سے ہوں، صرف ایسی صورت حال میں ہی ہوسکتا ہے جب ایک شخص کو یہ شعور اور آگہی ہو کہ وہ ایسے نظام تربیت سے گذر رہا ہے جس میں ہر نفسیاتی رد عمل اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشی کے تابع ہو۔یہ مقام ومر تبہ ضبط نفس صرف اور صرف رمضان ہی کی برکت سے حاصل ہوتاہے۔اس ماہ کی برکات اور اس عبادت کے ذریعہ اپنی شخصیت وسیرت میں انقلابی تبدیلی کا عمل ہم اسی وقت کرسکتے ہیں جب چند باتوں سے اجتناب کیا جائے اور ایسے عمل کو وظیفۂ حیات بنالیا جائے جو رمضان کے دوران اور اس کے بعد ہمارے ہر سانس ، ہر قدم، ہر خیال، ہر منصوبے، اور ہر ارادے کو صحیح رُخ اور صحیح معنی دینے کی صلاحیت رکھتا ہو، جن چیزوں سے بچنے اور اجتناب کرنے سے یہ صلاحیت پیدا ہوتی ہے انہیں انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے لیکن تعداد میں کم ہونے کے باوجود ان سے بچنے کے لئے مضبوط عزم اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے آنکھوں کے سامنے ہونے کا تصور ضروری ہے۔ان میں جنسی لذت کی نیت سے قربت، غذا، پانی، جھوٹ اور جاہلیت کے دور میں کی جانے والی عادات شامل ہیں۔ا سی لئے بہ زبان رسالت مآب ہمیں پیشگی تنبیہ کی گئی ہے : ’’جو شخص جھوٹ بولنے، اس کو پھیلانے، اور جہالت کی باتوں کو ترک نہیں کرتا تو اللہ رب العزت کو اس کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ اپنے کھانے پینے کو ترک کرے (بخاری)۔
یہ نظام تربیت جن مطلوبہ اخلاقی صفات کو جلابخشتا ہے، ان میں سر فہرست تقویٰ کی روش ہے۔ دوسر ی صفت صبر، یعنی ایک جانب اپنے آپ کو نفس کے مطالبات سے روکے رکھنا اور دوسری جانب مثبت اور تعمیری پہلو سے بھلائی، قیام حق اور نظامِ ِعدل کا قیام کرنا، نیز اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بندگی کے نظام کو عملاً نافذ کرنے کی جدوجہد کو استقامت کے ساتھ برادشت کرتے ہوئے اس پر جم جانا، یہی صبر کا مفہوم ہے۔ اس مہینہ کو ’’شہرصبر‘ ‘ یعنی صبرکا مہینہ بتلایا گیا ہے، نیزماہ صیام کو ہمدردی ، مواسات، غم خواری، غربیوں کی ہمدردی اور محتاجوں کے تعاون کا مہینہ قرار دیا گیا ہے ۔حدیث پاک میں ہے: یہ ہمدردی کا مہینہ ہے ۔ ایک روزہ دار اوروں سے یہ ہمدردی خواہ مالی معاونت سے کرے ،یا بھوکوں کوغذا فراہم کر کے، یا پھر اپنےماتحت ملازم وخادم کے اوپر سے اس کا بوجھ ختم کرکے ، یا ننگوں کو لباس دے کر، یہا سب اس کی ا ستطاعت اور جذبہ ٔ ایثار پر منحصر ہے۔نبی اکرمﷺ  کی جو دوسخا اس مہینہ میں غیر معمولی طور پر بارش لاتی تھی اور ہر کوئی سیراب ہوتا تھا۔ اس دوران آپ ﷺ  سے جو کچھ بھی مانگا جاتا تھا آپ انکار نہیں فرماتے تھے۔
صبر وشکر، مغفرت ومواساۃ کے ساتھ ساتھ نفس کا کڑا محاسبہ اس مہینہ کا سب سے بڑا عمل بلکہ مغز ہے۔ سیدنا عمرؓ کا مشہور قول مبارک ہے :  ’’اپنااحتساب کرو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے۔‘‘ رمضان کے روزے احتساب کے ساتھ رکھنے والی حدیث مبارکہ کی اہمیت ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے غیر معمولی اور نہایت اہمیت کی حامل ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس احتساب کے مختلف پہلوؤں پر اپنے ذہن کو تازہ کرتے ہوئے اس نسخۂ کیمیا کے ذریعہ اس مبارک مہینہ کے شب و روز میں رب کریم سے خصوصی توبہ و استغفار‘ استعانت ونصرت کی طلب کے ساتھ کیا جائے ۔نیز اس احتسابی عمل کا آغاز ایک عامی انسان ہو یا ذمہ دار، اُسے اولاً خود سے شروع کرنا ہوگا اور اپنے آپ سے یہ سوال کرنا ہوگا کہ اس سے کمیاں اور خطائیں کہاں کہاں سرزد ہوئی ہیں۔ ذاتی معاملات میں اجتماعی امور میں ،اپنے اہل وعیال کے حقوق کی ادائیگی میں یا پھر اہل محلہ وپڑوسی کے حقوق میں جہاں کہیں یہ لغزشیں اور خطائیں نظر آئیں ،اُسے ان کی اصلاح کر نے میں پہل کر نی چاہیے۔پھر اگر عبادات میں کمی کی ہے تو فرائض واجبات ادا نہیں کرسکا ہے یا پھر محرمات کا ارتکاب کیا ہے، ان تمام امور پرضمیر کو گواہ کر کے غور وفکر کر نا ہوگا، غرض حال اور ماضی کے ہر ہر عمل کے بارے میں خود احتسابی کرنا اس مقدس مہینہ کا سب سے اہم تقاضا ہے، پھر امانت ودیانت کے ساتھ اپنے نفسانیت پر خود کی ملامت کرنا، تزکیہ نفس کر نا ، اللہ تعالیٰ سے ہمہ و قت سر غرور نیچا کر کے مغفرت طلب کرنا ، یہی کچھ رمضان کے خدائی پیکج کا لب لباب ہے اور انہی حوالوں سے استقبال ِ صیام تمام مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے۔ مختصر الفاظ میں ماہ مبارک میں اللہ اور بندوں کے تئیں ادائیگی  ٔ حقوق کاالٰہیانہ پیکج ہے۔اس میںنما ز اور ذکرو اذکار کے بین بین زکوٰۃ وصدقات پر کار بند ہونا رمضان کے امتیازات میں شامل وداخل ہیں۔اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ملت کے عوام و خواص، فرداً! فرداً اپنے حال اور ماضی کےا ندر احتسابی نگاہ سے جھانکیں، اللہ کے حضور مذامت کے آنسو بہائیں،  تو بہ کی آہیں بھرئیں،مستقبل میں خدائی احکامات پر چلنے کا عزم مصمم کریں، علی الخصوص دنیائے انسانیت جس رُخ پر جارہی ہے ،اس میں اپنی مصلحانہ ذمہ داریوں کا احساس کریں اور مقدس مہینہ میں ایک نئی منصوبہ بندی اور تازہ دم حکمت عملی پر عمل پیرا ہو جائیں تاکہ اللہ ورزہ داروں سے راضی ہو، بندوں کے حقوق من وعن ادا ہوں اور ہماری زندگیاں روحانی اور نورانی کیفیات سے سر شار ہو سکیں۔ 