روزہ اور اس کے تربیتی اسباق !

سہیل لقمان تیمی
رمضان المبارک میں بہت ساری عبادتیں مشروع ہیں۔ جن میں سے ایک روزہ بھی ہے۔ یہ ہم میں سے ہر فرد مستطیع  پر فرض ہے،اسے ہماری بہتری کے لیے فرض کیا گیا ہے۔اسے تمام فرائض میں امتیازی حیثیت حاصل ہے، کیوں کہ یہ تربیت نفس کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ذریعہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسا مدرسہ بھی ہے جو دیگر تربیتی مدرسوں سے بالکل مختلف ہے،یہ اپنے فرزندان کو بہت ایسے تربیتی اسباق دیتا ہے، جن میں ان کی سعادت دارین کا راز مضمر ہوا کرتا ہے۔

میں آئندہ سطور میں ان تربیتی اسباق کا کچھ جائزہ پیش کرنے جا رہا ہوں جو نفس مسلمان کو روزہ کے مدرسے سے مل رہے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ آپ احباب ان سے ضرور آشنائی حاصل کریں گے اور انہی کی روشنی میں اس ماہ مبارک کے معدود ایام کو گزارنے کی سعی مسعود کریں گے۔

1۔ اخلاص:روزہ کا پہلا تربیتی سبق یہ ہے کہ یہ نفس مسلمان میں اس اخلاص کو پیدا کرتا ہے، جو ہر نیک عمل کی روح ہے، جس سے اللہ کی رضا کا حصول اور جنت کا دخول ممکن ہے۔ روزے کی حالت میں ایک بندہ مومن کھانے پینے اور شہوت سے جو رُکے ہوتا ہے، وہ صرف اللہ ہی کے لیے رُکے ہوتا ہے، غیر اللہ کے لیے نہیں، ہرگز نہیں، قطعا نہیں۔

اگر کوئی روزہ دار غیر اللہ کے لیے مذکورہ چیزوں سے رُکے ہوتا تو ہمارے سماج میں کوئی نہ کوئی ریاکار نمازی کی طرح ریاکار روزے دار بھی کہلاتا ، لیکن مرور ماہ و سال کے بعد بھی ہم میں سے کسی نے آج تک یہ نہیں سنا کہ فلاں ریاکار روزے دار ہے۔اس لئے کہ ریاء کا اصل مقصد مادحین کی مدحت یا خلق کی نظر میں منزلت کی طلب ہے، کسی بھی ریاکار کے لیے یہ نماز یا زکوٰۃ وغیرہ ہی میں ممکن ہے، روزہ میں یہ بالکل ناممکن ہے، اس لیے کہ روزہ عبد اور اس کے رب کے مابین ایک سر ہے۔

شاید اسی لیے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا تھا کہ روزہ میں کوئی ریاء نہیں ہے، یہ صرف اخلاص والے ہی رکھا کرتے ہیں اور یہی وجہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے روزہ کے علاوہ تمام عبادات کے ثواب کی مقدار بیان کر دی ہے کہ نیکی دس سے سات سو گنا تک بڑھا دی جاتی ہے، جب کہ اس نے روزہ کی نسبت اپنی طرف کی ہے اور اس کے ثواب کی ضمانت بھی اپنے اوپر لے رکھی ہے۔

2۔ تقوی :روزہ کا دوسرا تربیتی سبق یہ ہے کہ اس سے نفس مسلمان میں وہ تقویٰ پیدا ہوتا ہے ،جو ایک بڑی بلند اور بیش بہا نعت ہے اور ساری مطلوبہ صفات کی جامع بھی۔ اس نعمت سے جو بھی فرد مسلمان مالا مال ہے، اُسے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں دنیا اور آخرت کی تمام بھلائیوں کی ضمانت دے رکھی ہے۔

وہ روزہ ہی ہے جو مسلمان کے نفس میں یہ بات راسخ کرتا ہے کہ روزے کی حالت میں وہ اپنے نفس کے ان میلانات پر کنٹرول رکھے، جو اسے گناہ کے لئے برانگیختہ کرتے ہیں، وہ آپے سے باہر نہ ہو ، جذبات کے سیلِ رواں کو حدود سے عبور نہ کرنے دے، ردِ عمل کی کیفیت میں مبتلا نہ ہو، نفرت و عداوت کی چنگاری کو اپنے اندر مشتعل نہ ہونے دے اور شکم پروری اور شہوت رانی کے گھوڑے کو بھی بے لگام نہ ہونے دے ۔غالبا یہی وجہ کہ ان دنوں ہم اپنے گاؤں، محلے اور علاقے میں ایسے روزے داروں کو دیکھ رہے ہیں ،جو تقویٰ کی بیش بہا دولت سے مالا مال ہیں۔ وہ غیبت سے کوسوں دور ہیں، انہیں چغلی سے شدید نفرت ہے، شور و غوغا سے بیر ہے اور شہوت سے بھی۔ کیوں کہ روزہ انہیں اسی کا درس دیتا ہے اور انہیں زور دار انداز سے یہ بتاتا ہے کہ مسلمان کے لیے تقویٰ کو اختیار کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ یہی تمام نیکیوں کی سردار ہے، اس کا فقدان باعث خسران ہے۔

3۔ صبر: روزہ کا تیسرا تربیتی سبق یہ ہے کہ یہ مسلمان کو صبر کرنا سکھاتا ہے،اس لیے کہ صبر کا ثواب جنت ہے، صبر کے بغیر کسی طرح کی کامیابی اور خوشحالی کا حصول ناممکن ہے۔ اسی کے طفیل بہت سی برائیوں سے بچا جا سکتا ہے، نفرت و کدورت کی ہلاکت خیز وادیوں کو عبور کیا جا سکتا ہے اور غلط فہمیوں اور جھگڑوں کو نابود بھی۔

تاریخ شاہد ہے کہ جو بھی صبر کی دولت سے مالا مال ہوتا ہے، وہ زندگی کی راہوں میں آنے والے رنج و غم کے میلے کا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کرتا ہے اور اسے ہزیمت و شکست بھی دے دیتا ہے،جب کہ جو بے صبری کا مظاہرہ کرتا ہے،وہ اسے دیکھ کر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتا ہے اور ذلت و نکبت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

وہ روزہ ہی ہے ،جو روزے دار کو صبر کا ایسا جام پلاتا ہے کہ وہ طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب تک بھوک و پیاس کو کنٹرول کئے ہوتا ہے اور شہوت کو بھی، یہاں تک کہ طاقت و قوت رہنے کے باوجود وہ اپنے معاندین سے لڑائی جھگڑا کرتا ہے نہ ہی اُن کے سامنے شور و غوغا۔

4۔ مراقبہ :روزہ کا چوتھا تربیتی سبق یہ ہے کہ یہ روزے دار کو مراقبہ کرنا سکھاتا ہے، اسے یہ بتاتا ہے اس کے تمام اقوال و افعال کا رقیب صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس کی کوئی بات، اس کا کوئی عمل یا اس کی کوئی حرکت اس سے مستور نہیں۔

وہ مراقبہ ہی ہے جس کی بدولت روزے دار طاقت رکھنے کے باوجود اپنی تمام تر خواہشات کو ترک کئے ہوا ہے۔ اگر اللہ اس سے مطلع نہیں ہوتا اور اس کا مراقبہ نہیں کئے ہوتا تو کیا وہ کبھی بھی اپنی خواہشات کو ترک کئے ہوتا؟ ہرگز نہیں! 

یہ مراقبہ ایمان باللہ کا کمال ہے، اس کی تعظیم و تقدیس کا استغراق ہے ،نفوس کا سب سے بڑا معد ہے، اور ان کی دنیوی نزاہت اور اخروی سعادت کا اہل بھی۔

جو بھی روزے دار مراقبہ کے زیور سے آراستہ و پیراستہ ہے، وہ کبھی بھی دھوکہ دہی، دغا بازی، خیانت داری، ظلم و ناانصافی اور عصیان و تمرد کا مرتکب نہیں ہوتا ہے۔شاید اسی لیے رمضان المبارک کے آتے ہی ہمارے سماج سے یہ بُرائیاں مفقود ہیں، فی الحال یہ شرانگیزیاں دیکھنے کو مل رہی ہیں اور نہ ہی سننے میں آ رہی ہیں، یقینا یہ مراقبہ ہی کا نتیجہ ہے۔

5۔ غم گساری:روزہ کا پانچواں تربیتی سبق یہ ہے کہ یہ روزے دار کو غم گسار بناتا ہے، اسے یہ بتاتا ہے کہ بھوکے پیاسے رہنا کتنا مشکل امر ہے۔ یہ اسے یہ بھی بتاتا ہے کہ جو لوگ مسلسل کئی روز بھوکے پیاسے رہتے ہیںاور ایک دو لقمہ کے لیے در در ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں، وہ یقینا ًاس قابل ہیں کہ ان پر رحم و کرم کا معاملہ کیا جائے، ان کی داد رسی کی جائے، ان کے سروں سے غربت و افلاس کے سیاہ و کثیف بادل کو ختم کرنے کی کوشش کی جائےاور ان کی مالی معاونت کر کے انہیں بھی خوشیوں کے دو پل عطا کئے جائیں۔وہ روزہ ہی کی دین ہے کہ ہزاروں اہل خیر حضرات رمضان کے اس مبارک مہینے میں غم گساری کا جام نوش کر کے ہر روز لاکھوں غرباء و مساکین کے لیے افطار و سحری کا زبردست انتظام کر رہے ہیں اور انہیں یہ یقین دہانی کرانے میں کوشاں ہیں کہ جب تک ان کے یہ اخوان سلامت رہیں گے ،وہ بھوک و پیاس کی وجہ سے موت کا نوالہ نہیں بن سکتے ہیں۔

یہ تھے تربیت نفس کے وہ جامع اسباق ، جو ہم کو روزہ نے دیا ہے، ان کے علاوہ بھی روزہ کے کئی ایک تربیتی اسباق ہیں جو اسلامی کتب میں موجود ہیں ۔

مختصر اًیہ کہ روزہ ایک مہتم بالشان عبادت ہے، اور ایک ایسا مدرسہ بھی ، جس سے مسلمان بہت سارے اسباق لے کر اپنی دنیا و آخرت ضوفشاں بنا رہے ہیں۔ ضرورت ہے کہ ہم بھی اس سے بلا تاخیر وہ اسباق حاصل کر کے خود کو شاد و آباد کریں ۔

[email protected]