نیوز ڈیسک
بڑی برہمناں//اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے جموں وکشمیر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لئے اپنی پارٹی کے حق میں ووٹ کا استعمال کریں اور پولر آئزیشن کی سیاست کو مسترد کریں جس نے پہلے ہی اِس تاریخی ریاست کا بیڑا غرق کر دیا ہے۔الطاف بخاری بڑی برہمناں وارڈ نمبر9میں منعقدہ ایک جوائننگ پروگرام سے خطاب کر رہے تھے جس میںوائس چیئرمین میونسپل کمیٹی بڑی برہمناں ترسیم لال بھگت نے درجنوں حمایتیوں کے ساتھ اپنی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔بھارتیہ جنتا پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا جموں کے لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا کیونکہ انہوں نے کشمیر کیخلاف خوف وڈراور بدگمانی پیدا کی، اسی طرح کشمیر کے سیاستدانوں نے بھی وہاں پر پولر ائزیشن کی پالیسی اختیار کی جبکہ دونوں جماعتیں ہوس ِ اقتدار کی خاطر ایکدوسرے سے ملی ہوئی تھیں اور عوامی مسائل حل طلب ہی رہے۔انہوں نے کہاکہ علاقائی تقسیم کی پالیسی نے دونوں خطوں کے مفادات کو زک پہنچائی ، البتہ روایتی سیاسی جماعتوں جن میں کانگریس، بی جے پی، نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی شامل ہیں، کو اقتدار حاصل ہوگیا۔ کچھ جماعتوں نے جموں کے مفادات کے لئے لڑائی کی بات کی تو کچھ نے وادی میں کشمیری عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کا راگ الاپا ، دراصل اِن روایتی سیاسی جماعتوں نے خطہ کے نام پر لوگوں کو تقسیم کر کے اِن میں نفرت کے بیج بوئے۔انہوں نے مزید کہااِن جماعتوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے معاشرے کو تقسیم کیا، البتہ اپنی پارٹی اِن کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی ہے اور ہم جموں وکشمیر کے علاقائی اور مذہبی اتحاد کے وعدہ بند ہیں۔ہماری لڑائی یکسانیت، ترقی اور روزگار کے لئے ہے۔ ہم اِن تقسیم کرنے والے عناصر کو قطعی اجازت نہیں دیں گے جنہوں نے سابقہ ریاست کے لوگوں میں پھوٹ ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ پولر آئزیشن کی سیاست نے نوجوانوں کو گمراہ کیا اور بندوق اٹھانے کے لئے ان کی حوصلہ افزائی کیونکہ ان کے خلاف کوائی جوابدہی نہیں تھی۔انہوں نے کہاکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے والے سیاستدانوں کو جوابدہ بنایاجانا چاہئے، کیا جموں وکشمیر کے حکمرانوں سے جواب طلبی ہوئی جوکہ خوشحال اور پر امن ریاست میں بندوق کلچر کو پھیلانے کے قصور وار پائے گئے ہیں؟۔انہوں نے مزید کہاکہ نوجوانوں میں خاص طور سے بھرتی لسٹوں کی منسوخی کے بعد سے بوکھلاہٹ ہے، نوجوانوں کے اندر منشیات کی وباتشویش کن صورتحال اختیار کر چکی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ اِس مسئلہ کو دیکھے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آنے والے نسلوں اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانے کے لئے اپنی پارٹی کو ووٹ دیں۔ انہوں نے کہااگر ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو لیکر فکر مند ہیں تو ہمیں تبدیلی لانی ہوگی۔انہوں نے یاد دلایاکہ کیسے انہوں نے ڈاکٹرفاوق عبداللہ کو ووٹ دیا جب انہوں نے دعوی کیا کہ وہ دفعہ370کا تحفظ کریں گے ، البتہ وہ دفعہ370اور35A، نوکریوں اور جموں وکشمیر کے لوگوں کی اراضی کو محفوظ کرنے میں ناکام رہے۔انہوں نے مزید کہاکہ یہ اپنی پارٹی کا ایجنڈا تھاکہ خصوصی پوزیشن کو ختم کیاجائے، اب یہ معاملہ عدالت عظمی میں ہے اور انہیں توقع ہے کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کے حق میں ہی فیصلہ آئے گا۔