رواں برس ریکارڈتوڑ سیاحوں کی وادی آمدکاامکان | گزشتہ تین برس کے دوران غیرملکی سیاحوں کی آمدمیں 95.22فیصدکمی ہوئی

اشفاق سعید
سرینگر//جموں وکشمیر میں رواں سال سیاحوں کی  آمدمیںریکارڈ توڑ اضافہ کے بیچ محکمہ سیاحت نے کہا ہے کہ ملکی اور گھریلو سیاحوں کی تعداد میں 20فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ تین برسوں کے دوران وادی کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 95.22 فیصد کمی آئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ تین برسوں میں، سال 2019 میں وادی کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی تھی۔سال 2019 میں کم از کم 33ہزار779 غیر ملکی سیاحوں اور 5لاکھ31ہزار 753 ملکی سیاحوں نے وادی کشمیر کا دورہ کیا تھا۔اگلے سال 2020 میں، غیر ملکی اور ملکی سیاحوں کی آمد میں بالترتیب 89 فیصد اور 93 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ اس مالی سال میں کل 3897 غیر ملکی اور 37ہزار370 ملکی سیاحوں نے وادی کا دورہ کیا۔اسی طرح گزشتہ مالی سال 2021 میں وادی میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 95.22 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی، تاہم ملکی سیاحوں کی آمد میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہوا تھا۔اس سال صرف 1615 غیر ملکی اور 6لاکھ64ہزار 199 ملکی سیاح کشمیر پہنچے تھے۔محکمہ سیاحت کے منصوبہ بندی کے ڈپٹی ڈائریکٹر نے حق اطلاعات قانون کارکن ایم ایم شجاع کی طرف سے دائر کردہ حق معلومات (آر ٹی آئی) درخواست کے جواب میں ظاہر کی ہے۔سیاحت سے وابستہ لوگوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر میں کویڈ میں انٹر نیشنل فلائٹس بند رہنے کے نتیجے میں سیاحوں کی کشمیر واپسی نہیں ہو سکی اور فلائٹس کے بحال ہونے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بہت سے سیاح وادی کی سیر کو آئیں گے ۔محکمہ سیاحت کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ سرما کے دوران 4لاکھ سیاحوں نے جموں وکشمیر کا دورہ کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ سیاحت نے سیاحوں کو جموں وکشمیر کی طرف راغب کرنے کیلئے ملک کی مختلف ریاستوں میں شو کئے اور بہت سے ہوائی اڈوں پر بورڈ بھی چسپان کئے ۔انہوں نے کہا کہ اس سال کپواڑہ کے زرلہ اور دیگر علاقوں میں بھی سیاحوں کیلئے نئی مقامات کھولے گئے تھے ۔محکمہ سیاحت کے مطابق اُنہیں اُمید ہے کہ رواں سال بھاری تعداد میں سیاح کشمیر کی سیر کو آئیں گے جس کیلئے محکمہ نے ہر طرح کے اقدامات کئے ہیں ۔اس دوران بتایا جا رہا ہے کہ جموں وکشمیر کے ہوٹلوںمیں اپریل اور مئی میں 90فیصد بک ہیں ۔تنویر احمد نامی ایک ٹراول ایجنٹ نے کہا کہ ہوٹلوں میں جگہ تک دستیاب نہیں ہے اور تمام ہوٹل بک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ا نہیں کئی ایک بکنگ بھی منسوخ کرنی پڑی کیونکہ جگہ گروپ کیلئے دستیاب نہیں ہو رہی ہے ۔