رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ!

شگفتہ حسن
اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور عنایتوں والا مہینہ ہم پہ سایہ فگن ہے۔ ہر طرف رمضان المبارک کی بہار آئی ہے۔ ماہ مبارک ایمان والو کے لئے بڑا ہی بابرکت اور رحمتوں سے بھرا مہینہ ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔ حدیث مبارک میں ہے کہ ’’رمضان شہر اﷲ‘‘ رمضان اﷲ تعالیٰ کا مہینہ ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مبارک مہینے سے رب ذوالجلال کا خصوصی تعلق ہے، جس کی وجہ سے یہ مہینہ سال بھر کے اسلامی مہینوں میں سب سے زیادہ عظمتوں، فضیلتوں، مغفرتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے۔ یہ ماہ خیرو برکت سمیٹنے کا ماہ ہے۔ اس ماہ میں ہر نیک عمل کا اجروثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔ نبی ﷺ نے رمضان المبارک کے تینوں عشروں کی الگ الگ خصوصیات بیان کی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اس مہینہ کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے، اس میں اللہ کی رحمتیں خوب نازل ہوتی ہیں۔ دوسراعشرہ مغفرت کاہے ، اللہ تعالیٰ اس عشرے میں اپنے گنہگار بندوں کی بخشش فرماتے ہیں۔ تیسراعشرہ جہنم سے خلاصی کا ہے، اس میں اللہ تعالیٰ اپنے گنہگار بندوں کو جہنم سے آزاد کرتے ہیں۔ یہ ماہ جنت کے حصول اور جہنم کی رہائی کا مہینہ ہے۔ حضرت ِابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اس مہینے کی پہلی رات میں ہی شیطان کو قید کر لیا جاتا ہے، جہنم کے دروازوں کو بند کر دیا جاتا ہےاور اس کا ایک بھی دروازہ نہیں کھلا رہتا۔ اسی طرح جنت کے سارے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے، اس کا ایک بھی دروازہ بند نہیں رہتا۔ (ابن ماجہ)۔ اس ماہ میں ایک نیکی فرض کے برابر اور فرض ستر فرائض کے برابر ہوجاتا ہے۔ اس ماہ کی ایک رات جسے شبِ قدر کہا جاتا ہے، وہ ہزار مہینوں سے افضل قرار دی گئی ہے۔ اس ماہ کو صبر کا مہینہ بھی کہا جاتا ہے، چونکہ اس میں عبادت کے ساتھ ساتھ روزہ میں صبر کا مظاہرہ کیا جاتا ہے، مسلمان اپنی خواہشات اور شہوات کو قابو کر کے خدا کے اس فریضہ پر صبر کرتے ہیں، صبر کا بدلہ جنت سمجھا جاتا ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے: ” قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ”۔ (ترجمہ؛ کہہ دیجیے میرے مومن بندوں کوکہ اپنے رب سے ڈرو، جن لوگوں نے اس دنیا میں بھلائی کی، ان کے لیے بھلائی ہوگی اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے اور بلا شبہ صبر کرنے والوں کو ان کا بدلہ بلا حساب پورا پورا دیا جائے گا)۔

رمضان المبارک کے مقاصد: 

رمضان المبارک میں آپ اپنے اہداف کو کئی حصوں میں تقسیم کرسکتےہیں۔رمضان المبارک میںاصل اور سب سے بڑا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہونا ،جنت کا حصول اور جہنم کی آگ سے نجات پانا ہے۔ 

’’قالورسول الله صل الله عليه وسلم : ” من صام رمضان ايمانا و احتسابا ، غُفر لہ ما تقدم من ذنبه‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے رمضان کے روزے ایمان و احتساب کے ساتھ رکھے، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیے جائیں گے۔

اسلاف سے یہ روایت ملتی ہے کہ وہ چھ ماہ تک یہ دعا کرتے تھے کہ ’’اے اللہ ہمیں رمضان تک پہنچا دیں، اے اللہ ہمیں رمضان دیکھنا نصیب فرما‘‘۔ رمضان کی عبادتیں کرتے تھے اور پھر اگلے پانچ ماہ تک یہ دعا مانگتے تھے کہ’’ اے اللہ ہمارے روزے قبول فرما۔‘‘

اسی طرح ہمیں بھی یہ دعائیں مانگنی چاہئے کہ’’ اے اللہ ہماری صحت صیح سلامت رکھنا، کوئی پریشانی لاحق نہ ہو جائے، کوئی رکاوٹ پیش نہ آجائے کہ ہم سے رمضان میں عبادت کرنے میں کوتاہی نہ ہو جائے، ہر آفت اور مصیبت سے ہمیں نجات دے اے مولیٰ رمضان کے آنے تک بھی دعائیں کرتے ہیں اور اس کے بعد بھی‘‘۔

رمضان المبارک میں ہر طرح کی خیرو برکت نازل ہوئی ہے، جنت کے دروازے کھول دیے جاتےہیں اور جہنم کے دروازے بند کئے جاتےہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبات میں مختلف انداز میں رمضان المبارک کی عظمت کو بیان کیا اور اس کی قدردانی کی بھرپور رغبت دلائی۔ چنانچہ ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آرہا ہے۔ اسکی تیاری کرو اور اپنی نیتوں کو درست کرو، اس ماہ کا احترام و تعظیم کرو، یہ مہینہ اللہ کے نزدیک بہت حرمت والا ہے، لہٰذا اس کی بے حرمتی مت کرو اور اس مہینے میں نیکیوں اور برائیوں دونوں کی جزا سزا میں اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

اپنے گھروں سے لیکر مساجد کی صفائی، ستھرائی کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں کی بھی صفائی کرنی چاہیے، تب ہی ہمارے دلوں میں ایمان کی تازگی پیدا ہوسکتی ہے۔ اس ماہ میں قرآن کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط بنانا چاہیے۔ قرآن کی تلاوت زیادہ سے زیادہ کرنی چاہیے، ذکرِ الٰہی میں مشغول رہنا چاہیے اور صبح و شام اللہ کی یاد میں گزارنی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: روزہ داروں میں سے کس کا ثواب زیادہ ہے؟ آپ نے فرمایا: سب سے زیاد اجر و ثواب اس کا ہے جو ذکرِ الٰہی میں مصروف رہے۔

ماہ مبارک کی عظمت سارے مہینوں میں سے زیادہ ہے اور یہ عظیم الشان مہینہ ہے۔ رمضان المبارك کی مثال مہینوں میں ایسی ہے جیسے یوسف عليه السلام کی مثال بھائیوں میں تھی۔ امام ابن الجوزي رحمه الله فرماتے ہیں: “ماہِ رمضان مہینوں میں ایسا ہے جیسے یوسف عليه السلام اپنے بھائیوں میں تھے۔ جس طرح یعقوب علیه السلام کو اپنی اولاد میں یوسف علیه السلام سب سے پیارے تھے، اسی طرح الله عالم الغیب کو مہینوں میں رمضان سب سے محبوب ہے۔ جیسے یوسف علیه السلام کا حِلم اور درگزر بھائیوں کی زیادتی پر حاوی تھا، جب انہوں نے کہا: لَا تَثْرِيب عَلَيْكُم الْيَوْم! آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اسی طرح رمضان میں بھی الله کی طرف سے رحمتوں، برکتوں، نعمتوں، جہنم سے آزادی اور مغفرت کا وہ سامان ہے جو تمام مہینوں میں ہمارے کیے گئے گناہوں اور کوتاہیوں پر غالب آ جاتا ہے۔ جس طرح برادرانِ یوسف غلطی کرنے کے بعد یوسف علیه السلام کی طرف ہی فریاد رسی کو آئے اور یوسف علیه السلام نے ان کو اچھے طریقے سے خوش آمدید کہا، مدد کی، خواہشات پوری کیں، کھانا کھلایا اور ان کی سواریوں پر سامان لدوایا تو گویا اس ایک بھائی نے گیارہ بھائیوں کے مسئلے کو حل کیا ، اسی طرح یہ رمضان کا مہینہ ہے، ہم گیارہ ماہ ہر قسم کے گناہ اور کوتاہیاں کرتے ہیں مگر رمضان میں اس کی تلافی کی اُمید لگاتے ہیں، اور غلطیوں کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں۔ “( بستان الواعظين : ٢٣٠/١) 

اس ماہ میں کچھ چیزوں کا خاص خیال رکھا جائے۔ قرآن کریم کی تلاوت کا معمول پورے اہتمام کے ساتھ کیا جائے،دعاؤں کا معمول بنایا جائے کیونکہ رمضان میں زیادہ دعا قبول ہوتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو معلوم کر کے ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کی جائے۔ جھوٹ، چغل خوری، غیبت، چوری جیسی برائیوں سے پرہیز کیا جائے، وقت ضائع کرنے والے کاموں سے خود کو بچائیں، اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اگر اس ماہ میں ہم نے کوئی ایسا عمل کیا جو شریعت کے خلاف ہو تو سزا میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ نے ہمیں اپنے اعمال کی فکر میں رہنے اور بے احترامی سے بچنے کی تاکید کی۔ 

اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں اعمالِ صالحہ کا اہتمام اور نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے، انہیں قبول فرمائے، انہیں ہماری دنیا اور آخرت کیلئے ذخیرہ بنائے اور ان پر ہمیں دنیا اور آخرت میں بہترین اجر سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین

[email protected]