راجیہ سبھا میں ریزرویشن سے متعلق آئینی ترمیمی بل پیش، اپوزیشن نے کی مخالفت

نئی دہلی//سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے مرکزی وزیر تھاور چند گہلوت نے آج راجیہ سبھا میں عام طبقے کے اقتصادی طور پر پسماندہ لوگوں کے لئے ریزرویشن سے متعلق 124 واں آئینی ترمیمی بل شور شرابے کے درمیان پیش کر دیا لیکن اپوزیشن کی مخالفت اور ہنگامے کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دو بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ دراوڑ منیتر کژگم (ڈی ایم کے ) کی کنی موجھی نے بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز پیش کی لیکن اس پر بحث کرانے کے بجائے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے آئینی ترمیمی بل پر بحث شروع کرا دی۔ اس پر کانگریس، راشٹریہ جنتا دل اور بایاں محاذ کے ارکان مشتعل ہو گئے اور بہت سے ارکان نے انتظام کا سوال اٹھاتے ہوئے زبردست ہنگامہ شروع کر دیا۔ یہ رکن نعرے بازی کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین کی نشست کے قریب پہنچ گئے ۔صورت حال بگڑتی دیکھ مسٹر ہری ونش نے ایوان کی کارروائی 12 بجکر 35 منٹ دو بجے تک ملتوی کر دی۔ ؎صبح آسام کے معاملے پر وقفہ صفر ملتوی ہونے کے بعد جب بارہ بجے ایوان کی کارروائی شروع ہوئی تو قبائلی امور کے وزیر جوول اوراو نے درج فہرست ذات سے متعلق ترمیمی بل پیش کیا۔اس کے بعد مسٹر گھلوت نے 124 واں آئینی ترمیمی بل پیش کیا تو کانگریس کے ارکان ہنگامہ کرنے لگے اور پارٹی کے رکن مدھوسودن مستری نے انتظام کا کا سوال اٹھایا۔ اس دوران محترمہ کنی موجھی نے اس بل کو سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیجنے کے لئے تجویز پیش کی۔ ہنگامے کے درمیان ہی مسٹر گھلوت نے بل لائے جانے کی وجوہات گنواتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی عام طبقے کے لوگوں کو ریزرویشن کے دائرے میں لانے کا مطالبہ ہوتا رہا ہے اور منڈل کمیشن میں بھی کہا گیا تھا کہ اقتصادی طور پر پسماندہ لوگوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے ۔ اس سے متعلق ذاتی بل بھی ایوان میں پیش کئے گئے ہیں۔پہلے بھی حکومتوں نے اقتصادی طور پر پسماندہ افراد کو ریزرویشن دینے کا فیصلہ کیا ہے لیکن آئین میں اس سلسلے ترمیم کی تجویز نہ لائے جانے کی وجہ سپریم عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ لہذا اس بار حکومت آئین میں ترمیم کر کے اقتصادی طور پر پچھڑے ہوئے لوگوں کے لئے ریزرویشن کا نظم کر رہی ہے ۔ اس پر مسٹر مستری نے انتظام کا سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایوان میں کوئی بل پیش کرنے کے لئے دو دن پہلے اطلاع دی جاتی ہے اور بل کے مسودے میں اس کے اہداف اور مقاصد کا ذکر کیا جاتا ہے لیکن اس بل میں ایسا نہیں کیا گیا ہے ۔ اگر یہ بل عجلت میں لایا جا رہا ہے تو ہمیں تحریری طور پر اس کی وجہ بتائی جانی چاہئے ۔ لہذا یہ بل نامکمل ہے اور یہ ایوان میں پیش نہیں کیا جانا چاہئے ۔ اس پر پارلیمانی امور کے وزیر مملکت وجے گوئل نے کہا کہ آج صبح اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ میٹنگ میں اس بل کو منظور کرانے کے لئے 8 گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا لیکن اب کانگریس تکنیکی وجوہات پر بل کی مخالفت کر رہی ہے ۔اس پر ایوان میں کانگریس کے ڈپٹی لیڈر آنند شرما نے کہا کہ کانگریس اس کی مخالفت نہیں کر رہی ہے مسٹر گوئل ہم پر مخالفت کرنے کا الزام کیوں لگا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پونے پانچ سال کے بعد اب حکومت نیند سے جاگی ہے اور وہ بل لا کر سیاست کر رہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں روزگار کے ایک کروڑ 10 لاکھ موقع کم ہوئے ہیں۔ ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ نے بھی بل کو قائمہ کمیٹی کے پاس بھیجے جانے کا مطالبہ کیا لیکن ڈپٹی چیئرمین نے ان تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے بل پر بحث شروع کرا دی۔ اس دوران اپوزیشن ارکان کی نعرے بازی جاری رہی اور ڈپٹی چیئرمین نے ہنگامے کے سبب ایوان کی کارروائی لنچ تک کے لئے ملتوی کر دی۔یو این آئی