عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی// راجوری-سرنکوٹ سڑک پر واقع دناڑھ ساؤنی کے مقام پر اس وقت ایک سنگین حادثہ پیش آیا جب ایک سووفٹ گاڑی زیرِ نمبر ، جو سرنکوٹ سے راجوری کی جانب رواں دواں تھی، اچانک پسی کی زد میں آ کر ایک بڑے درخت کے نیچے آ گئی اور بری طرح تباہ ہو گئی۔ حادثہ اس قدر شدید تھا کہ گاڑی کے پرخچے اْڑ گئے، تاہم خوش قسمتی سے گاڑی میں سوار ڈرائیور اور اس کے بچے معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ حادثے کے فوراً بعد موقع پر موجود مقامی لوگوں اور دیگر مسافروں نے متاثرین کی مدد کی اور سڑک بند ہونے کے باعث سینکڑوں مسافر درماندہ ہو کر رہ گئے۔ مشتعل عوام نے ٹی بی اے کمپنی اور محکمہ گریف کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اس غفلت پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں سے بفلیاز، تھنہ منڈی اور راجوری کے عوام اس اہم سڑک کی خستہ حالی پر سراپا احتجاج ہیں، لیکن انتظامیہ اور متعلقہ تعمیراتی ایجنسیاں مسلسل غفلت اور بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سڑک پر جاری تعمیراتی کام کسی مربوط نظام کے بغیر جاری ہے، جس کے سبب اس طرح کے حادثات روز کا معمول بن چکے ہیں۔ متاثرہ گاڑی کے مالک نے بتا یاکہ ’’ہمیں نہ کسی نے روکا، نہ کوئی وارننگ دی گئی کہ آگے خطرہ ہے۔ تعمیراتی کام کے باوجود سڑک پر کوئی احتیاطی تدابیر نہیں تھیں۔ اچانک ایک درخت گاڑی پر آ گرا۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جان بچ گئی‘‘۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری و پونچھ سے پرزور اپیل کی کہ اس سڑک کے تعمیراتی کام کو فوری طور پر مکمل کروایا جائے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ عوام کا کہنا تھا کہ ہر تعمیراتی منصوبے کی ایک معیاد ہوتی ہے، لیکن مغل شاہراہ کے اس حصے پر کام کرنے والی ایجنسیاں تمام حدیں پار کر چکی ہیں۔ عوام کو پچھلے پانچ سالوں سے بے یار و مددگار چھوڑا گیا ہے۔ انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، جس پر ہمیں بے حد افسوس ہے۔مسافروں نے مطالبہ کیا کہ اس سڑک پر جاری تعمیراتی کام کی رفتار میں تیزی لائی جائے، حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے، اور جوابدہی کا مؤثر نظام متعارف کروایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔