عظمیٰ نیوز سروس
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا کے نامزد رکن پارلیمنٹ انجینئر غلام علی کھٹانہ نے راجوری، پونچھ اور جموں و کشمیر کے دیگر حصوں میں حالیہ طوفانی بارشوں، اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفت سے متاثرہ علاقوں کے لوگ آج بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں اور انہیں فوری امداد اور بحالی کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں اب تک تقریباً 28 قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی، بے گھر اور متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بڑی تعداد میں مکانات، سڑکیں، پل اور دیگر عوامی ڈھانچے تباہ ہوئے، جس سے کئی دیہات کا رابطہ منقطع ہو گیا اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ریسکیو اور راحت رسانی کی کارروائیاں جاری ہیں، تاہم کئی علاقوں میں عوام کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انجینئر غلام علی کھٹانہ نے خاص طور پر راجوری، پونچھ اور دیگر سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی، پینے کے صاف پانی اور سڑکوں کی طویل بندش پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کئی دن گزرنے کے باوجود بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کے باعث ان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں، خواتین، بزرگوں اور بیمار افراد کو سب سے زیادہ دشواریوں کا سامنا ہے اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت اور تمام متعلقہ محکموں پر زور دیا کہ وہ جنگی بنیادوں پر بجلی کی فراہمی بحال کریں، پینے کے صاف پانی کی سپلائی یقینی بنائیں اور متاثرہ علاقوں کی سڑکوں کو جلد از جلد قابل آمدورفت بنایا جائے تاکہ کوئی بھی گاؤں ضروری خدمات سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ راحت اور بازآبادکاری کے کاموں میں مزید تیزی لائی جائے، جاں بحق افراد کے لواحقین کو بروقت معاوضہ فراہم کیا جائے اور ہر متاثرہ خاندان تک سرکاری امداد بلا تاخیر پہنچائی جائے۔راجیہ سبھا رکن نے راجوری، پونچھ اور جموں و کشمیر کے دیگر متاثرہ علاقوں کے عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں حکومت، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، معمولاتِ زندگی جلد از جلد بحال کیے جائیں اور عوام کو اس قدرتی آفت کے اثرات سے نکالنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ بروقت اور مؤثر اقدامات کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں حالات کو معمول پر لایا جا سکتا ہے اور عوام کے اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔