سرینگر//متحدہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے بھارت کی وزارت داخلہ کی طرف سے’ آپریشن بند‘کے نام سے ماہ رمضان کے دوران ریاست کے مظلوم عوام کو قتل وغارت گری میں چھوٹ دینے کو ایک بڑا مذاق قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست جموں کشمیر کے لوگ عارضی جنگ بندی کے شوشوں کے بجائے مکمل اور دائمی جنگ بندی کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے حصول کے لئے یہاں کے عوام حقِ خودارادیت کی ایک جائز اور مبنی برحق تحریک چلارہے ہیں، جس کو کچلنے کے لیے بھارت نے اپنی تمام تر فوجی طاقت کو میدانِ میں جھونک دیا ہے۔ حیدرپورہ سرینگر میں ایک مختصر اجلاس میںمزاحمتی قیادت نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت تنازعہ کشمیر کو حقِ خودارادیت جیسے مسلمہ بین الاقوامی فارمولے یا بامقصد مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے بجائے ریاست جموں کشمیر کے ستم رسیدہ عوام کو ماہِ رمضان کے دوران قتل وغارت میں عارضی چھوٹ دینے کی طفل تسلیوں میں یقین رکھتا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے بھارت کے ارباب اقتدار کو ایک بار پھر صلاح دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں جموں کشمیر کے عوام کے ساتھ انسانی ہمدردی کا کوئی جذبہ موجود ہے تو پھر انہیں ریاستی عوام کے حق میں رائے شماری کے فارمولے کو عملانے یا پھر سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل تلاش کرنے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔ مزاحمتی قیادت شدت کے ساتھ یہ محسوس کرتی ہے کہ تنازعہ کشمیر کو عوامی امنگوں کے مطابق حل کرنے سے ہی نہ صرف ریاست جموں کشمیر بلکہ پورے برصغیر میں دائمی امن وامان قائم ہوسکتا ہے۔ مزاحمتی قیادت نے بھارت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ دراصل بھارت مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے آپریشن ہالٹ کو سامنے لارہا ہے اور تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اپنی روائتی ضد اور ہٹ دھرمی کو بدستور قائم رکھے ہوئے ہے۔ مزاحمتی قیادت نے ریاست کے حریت پسند عوام سے ایک بار پھر اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 19؍مئی بروز سنیچر لالچوک چلو پروگرام کو کامیاب بناتے ہوئے اس روز تمام کاروباری اداروں کو بند رکھیں۔ مزاحمتی قیادت نے یاد دہانی کرتے ہوئے کہا کہ اس روز بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی جموں کشمیر کا دورہ کرنے والے ہیں اس لیے حالیہ ہلاکتوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف اپنا پرامن احتجاج درج کرنے کے لیے۔ اس روز ہر طرف سے جوق درجوق لالچوک کی طرف پیش قدمی کرنے کی دردمندانہ اپیل کی جاتی ہے۔