میر شوکت
پہاڑ صدیوں سے خاموش کھڑے رہتے ہیں۔ نہ ووٹ مانگتے ہیں، نہ تعریفیں چاہتے ہیں، نہ ٹیلی ویژن مباحثوں میں شریک ہوتے ہیں۔ انسان ان پر اپنے عقائد، جھنڈے، سیاست اور انتظامی تجربے لاد دیتا ہے۔ کشمیر کی برف پوش چوٹیوں کے درمیان امرناتھ کی غار بھی انہی گواہوں میں شامل ہے۔ روایت کہتی ہے کہ بھگوان شیو نے پاروتی کو امرت اور لافانی ہونے کا راز سنایا۔ تاریخی حوالوں میں راج ترنگنی جیسے قدیم ذرائع میں اس کا ذکر ملتا ہے۔ بعد کے سیاحوں اور مورخین نے بھی لکھا۔ ایک مقامی مسلمان چرواہے بٹا ملک نے اسے دوبارہ دریافت کیا۔ اس کے بعد مقامی مسلمان خاندان یاترا کی مختلف خدمات میں حصہ بنتے رہے۔ یوں یہ یاترا صرف مذہبی عقیدت کی کہانی نہیں بلکہ کشمیر کی مشترکہ تہذیب کا اہم باب ہے۔ مگر تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ وہ اکثر موجودہ زمانے کے ٹریفک سگنل پر آ کر رک جاتی ہے۔ آج جب یاترا شروع ہوتی ہے تو پورا نظام ایک ہی جملہ دہراتا محسوس ہوتا ہے۔ پہلے یاترا، پھر باقی انسان۔ جموں سے سرینگر تک قومی شاہراہ پر قافلے گزرتے ہیں۔ مخصوص اوقات میں عام ٹریفک روک دی جاتی ہے۔ جگہ جگہ ناکے، کٹ آف ٹائمنگ، طویل انتظار، حفاظتی جانچ اور گھنٹوں کی بندش معمول بن جاتی ہے۔
انتظامیہ کا موقف یہ ہے کہ یہ سب یاتریوں کی حفاظت کے لیے ناگزیر ہے۔ ماضی میں حملے ہو چکے ہیں اور سکیورٹی ایک حقیقی چیلنج ہے۔ اس لیے خصوصی ٹریفک پلان، مقررہ اوقات اور پابندیاں نافذ کی جاتی ہیں۔ ذرا سوچیے کہ ایک ایمبولینس سڑک پر کھڑی ہے۔ اندر بخار میں جلتا بچہ تڑپ رہا ہے۔ ماں بار بار اس کی پیشانی چھوتی ہے۔ اس کی نظریں سامنے کھڑے سپاہی کی طرف اٹھتی ہیں۔ سپاہی کی نظریں افسر کی طرف، افسر کی نظریں وائرلیس سیٹ پر۔ آگے ایک بزرگ سفید داڑھی، کانپتے ہاتھوں سے آکسیجن تھامے بیٹھا ہے۔ وہ بار بار پوچھتا ہے، بیٹا، کتنی دیر اور؟ جواب ہمیشہ ایک جیسا۔ بس تھوڑی دیر۔ سرکاری لغت میں تھوڑی دیر وقت کی وہ اکائی ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ اسی قطار میں ایک نوجوان فائل ہاتھ میں، جیب میں کال لیٹر لیے بیٹھا ہے۔ زندگی کا پہلا بڑا انٹرویو۔ مہینوں تیاری، خواب، دعائیں۔ سب ایک بند بیریئر کے سامنے بے بس۔ ذرا آگے طالبہ کتاب گود میں کھولے نظریں سڑک پر ٹکی ہیں۔ وہ فارمولا دہرانے کی بجائے بس یہی دہراتی ہے کہ راستہ کھل جائے۔ فاصلے پر ایک گاڑی میں خاموشی بیٹھی ہے۔ کسی عزیز کا جنازہ انتظار کر رہا ہے۔ تعزیت کے لیے لوگ جمع ہو چکے ہیں مگر سوگوار خاندان کا فرد ابھی ناکے پر رکا ہوا ہے۔ موت نے انتظار نہیں کیا مگر زندگی کو انتظار کا حکم مل گیا۔ یہ سب کردار کسی ناول کے نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کے ہیں۔ پہاڑ خاموش کھڑے ہیں، دریائے جہلم بہتا رہتا ہے، چنار ہوا کے ساتھ سرگوشیاں کرتے ہیں مگر شاہراہ پر قطار میں بے بسی کا منظر کسی تماش گاہ کی مانند ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر اور چیف منسٹر کی ذمہ داری سے یہ مسائل باہر نہیں۔ امن و امان، سکیورٹی، ٹریفک، صحت اور مقامی مسائل ان کے دائرے میں آتے ہیں۔ کاغذوں پر انتظامات شاندار دکھائی دیتے ہیں۔ اجلاس ہوتے ہیں، ہدایات جاری ہوتی ہیں، ٹریفک پلان بنتا ہے، طبی مراکز قائم کیے جاتے ہیں، ہزاروں اہلکار تعینات ہوتے ہیں۔ ہر سال یہ اعلان ہوتا ہے کہ اس بار انتظامات پہلے سے بہتر ہیں۔ مگر سڑک پر کھڑا عام آدمی پریس ریلیز نہیں پڑھتا۔ وہ صرف گھڑی دیکھتا ہے جو اس کا مذاق اڑاتی رہتی ہے۔ یاترا کی تاریخ میں سیکورٹی چیلنجز حقیقی ہیں۔ 1990 کی دہائی میں یاترا معطل رہی۔ حملے ہوئے، برفانی طوفان آئے، سیلاب آئے۔ 2012 میں سو سے زائد اموات ہوئیں۔ 2022 میں کلاؤڈ برسٹ نے جانیں لیں۔ انتظامیہ ڈرونز، اے آئی نگرانی اور ہزاروں اہلکاروں کے ساتھ حفاظت کرتی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک مہذب ریاست میں عقیدت کے راستے کو محفوظ بناتے ہوئے مقامی شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ناممکن ہے؟ کیا ایسا ٹریفک نظام نہیں بنایا جا سکتا جس میں سکیورٹی بھی برقرار رہے اور عام آدمی کو گھنٹوں ذلت آمیز انتظار نہ کرنا پڑے؟ ایک ایمبولینس میں تڑپتا بچہ، آکسیجن والا بوڑھا، انٹرویو جانے والا نوجوان، امتحان دینے والی طالبہ، تدفین کے لیے جا رہا سوگوار۔سب اسی سڑک پر کھڑے ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے پاس نہ جھنڈا ہے نہ قافلے کی نمبر پلیٹ۔ ان کے پاس صرف زندگی ہے اور زندگی کا کوئی پاس نہیں بنتا۔
ہم ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی، ڈرونز، فوری نمبر شناخت۔ مگر ایک سڑک کا انتظام ابھی تک ایجاد نہیں ہو سکا جس پر یاتری گزر جائیں اور مریض بھی۔ یہ ترقی نہیں تو کیا ہے؟ شاید اگلی ایجاد یہ ہو کہ انسان اپنی بیماری، امتحان، جنازہ اور انٹرویو سب آن لائن بھیج دے، خود گھر بیٹھا رہے تاکہ سڑک صرف قافلے والوں کے لیے خالی رہے۔ سرکاری بیانات آتے ہیں کہ عوام نے بھرپور تعاون کیا۔ جب تعاون کے علاوہ کوئی راستہ نہ ہو تو اسے تعاون کہتے ہیں یا مجبوری؟ سکیورٹی فورسز اور پولیس کے اہلکار بھی گھنٹوں دھوپ بارش میں کھڑے رہتے ہیں۔ انہیں احکامات پر عمل کرنا ہوتا ہے۔ مگر مہذب نظام میں سوال فرد سے نہیں پالیسی سے پوچھا جاتا۔ اگر ہر اہلکار کہے میرے اختیار میں نہیں تو اختیار آخر کس کے پاس ہے؟ جموں و کشمیر میں انتظامی ڈھانچہ واضح ہے۔ لیفٹیننٹ گورنر، شرائن بورڈ، پولیس، سول انتظامیہ سب شامل ہیں۔ منتخب حکومت بھی عوامی سہولیات سے الگ نہیں۔ اصل مسئلہ ذمہ داری سے زیادہ ترجیحات اور بہتر منصوبہ بندی کا ہے۔ تہذیب صرف یہ نہیں کہ لاکھوں زائرین منزل تک پہنچ جائیں۔ تہذیب یہ بھی ہے کہ اس دوران مقامی شہری اپنے گھر اور سڑک پر بے اختیار نہ محسوس کرے۔ شام ڈھلتی ہے۔ سورج پہاڑوں کے پیچھے اترتا ہے۔ قافلہ گزر جاتا ہے۔ سائرن خاموش، ناکے کھل جاتے ہیں۔ گاڑیاں چل پڑتی ہیں۔ کوئی اسپتال کی طرف، کوئی امتحان کی طرف، کوئی تدفین کی طرف۔ مگر وقت واپس نہیں آتا۔ جو انٹرویو چھوٹ گیا وہ نہیں لوٹتا۔ جو ڈاکٹر کا وقت نکل گیا وہ دوبارہ نہیں ملتا۔ جو مریض بگڑ گیا اس کی تکلیف کسی فائل میں درج نہیں ہوتی۔ ہمارے ہاں مسئلے کا پہلا علاج بیریئر ہوتا ہے، دوسرا ناکہ، تیسرا انتظار، چوتھا یہ جملہ کہ سکیورٹی کا معاملہ ہے۔ کیا جدید ریاست کے پاس صرف یہی طریقہ رہ گیا ہے؟ دنیا کے ممالک میں لاکھوں افراد مذہبی اجتماعات میں شریک ہوتے ہیں۔ وہاں بھی خطرات ہوتے ہیں مگر انتظامیہ کی کامیابی اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ عام شہری کی زندگی کم متاثر ہو۔
کیا مرحلہ وار قافلے، جدید ٹریفک مینجمنٹ، ڈیجیٹل روٹنگ، ہنگامی گاڑیوں کے لیے گرین کوریڈور، مقامی آبادی کے لیے خصوصی پاس، نجی اداروں کی معاون خدمات میں شمولیت ممکن نہیں؟ سکیورٹی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اسے مکمل نجی حوالگی مناسب نہیں مگر بہتر نگرانی کے ساتھ معاون خدمات بہتر بن سکتی ہیں۔ آخر میں سوال یاترا کا نہیں بلکہ ریاست اپنے شہری کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ کیا وہ صرف شناختی کارڈ نمبر ہے؟ صرف گاڑی؟ صرف رکی ہوئی قطار؟ یا ایک انسان جس کے آنسو، وقت، عزت اور ضمیر کی قیمت ہے؟ جس دن یہ جواب سڑک پر ملنے لگے گا اس دن بیریئر تو لوہے کا ہی ہوگا مگر انسان خود کو قیدی نہ محسوس کرے گا۔ اور شاید اسی دن پہاڑ خاموشی سے مسکرا اٹھیں گے کہ انسان نے عبادت کے راستے کو انسانیت کے راستے سے الگ سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ عبادت خدا تک پہنچنے کا وسیلہ ہے تو انسانیت اس کی مخلوق تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ کوئی تہذیب اس وقت تک مکمل نہیں جب تک دونوں راستے ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ نہ چلیں۔