دیہات کے بدلتے رنگ و ڈھنگ؟ | ہم کو احساس زیاں بھی نہیں، شکوہ بھی نہیں

سبزار رشید بانڈے
گاؤں دیہاتوں میں چند دہائی قبل تک جب کسی کی کار گزرا کرتی تھی تو بچے دور تک اُڑتی دھول کا پیچھا کیا کرتے تھے لیکن اب دو چار کاریں تو ہر علاقے میں دکھائی دیتی ہیں۔ پہلے گاؤں سے شہر جانے والی بسیں تاخیر سے آیا کرتی تھیں مگر اب وہ بھی نہیں آتی ہیں کیونکہ ان کی جگہ چھوٹی سوموگاڑیوں نے لے لی ہے، جو تھوڑے سے وقفے کے بعد چلتی ہیں۔

زیادہ پرانی بات نہیں ہے کہ گاؤں کے ہر گھرکی چہار دیواری میں درخت ضرور ہوتا تھا اور زیادہ تر چنار اور نیم کا درخت لگایا جاتا تھا، جس کی نبولی سے بچے کچے اور پکے آم والا کھیل کھیلتے تھے جب کہ بزرگ اس کی ٹہنیوں سے مسواک کیا کرتے تھے۔ نیم کے درخت کی پتیاں بھی مختلف بیماریوں میں استعمال کی جاتی تھیں۔

گاؤں کے گھروں میں ایک کنارے پر چھوٹی سی کیاری بنائی جاتی تھی جس میں ہرا دھنیا، پودینہ، لہسن، مرچ، کریلے، توری، لوکی اور بینگن سمیت دیگر سبزیاں اگائی جاتی تھیں اورساتھ ہی مونگرا، موتیا، گلاب اور رات کی رانی کے پودے لگے ہوتے تھے، جن سے گھر کا آنگن مہکتا رہتا تھا۔

باورچی خانے درخت تلے بنے ہوتے تھے اور یا پھران کے لیے کھلی جگہ کا انتخاب کیا جاتا تھا۔ غسل خانہ گاوئوں میں ایک یا دو بنائے جاتے تھے اور بیت الخلا کے لیے زیادہ تر کھلی جگہ یعنی کھیت کو منتخب کیا جاتا تھا۔

گاؤں اور دیہاتوں میں انسان اور انسان دوست جانور ایک ہی چہار دیواری میں اکھٹے زندگی گزارتے تھے یعنی بھینس،گائے، بھیڑ، بچھڑا، بکری، بکرا، بیل، مرغی، بطخ، کتا، بلی، چوہا، چڑیا، کبوتر، شہد کا چھتہ اور کبھی کبھار ان سب کے ساتھ جنات کا بھی قیام و طعام ہوتا تھا۔

 لیکن اب نئے تعمیر ہونے والے مکانات میں سب سے پہلے لگے ہوئے درخت کاٹ دئے جاتے ہیں، کیاری کے لیے کوئی جگہ مختص نہیں ہوتی ہے۔ پانی کے لیے نلکوں کے بجائے بجلی کی موٹریں لگائی جاتی ہیں اور غسل خانے، باورچی خانے سمیت استنجا خانے کے لیے جگہیں مختص کردی جاتی ہیں۔

گھروں کی چہار دیواری میں جانوروں کو پالنے کا رواج انتہائی کم ہو گیا ہے اور زیادہ تر جانوروں کو گھروں سے دور رکھا جاتا ہے۔ کسی کسی گھر میں بمشکل ایک دو جانور دکھائی دیتے ہیں۔کھانا پکانے، کپڑے دھونے، نہانے اور پینے کے لیے پہلے کنویں یا دریا سے پانی لایا جاتا تھا مگرپھر اس کی جگہ نلکوں نے لی اور اب بجلی والی موٹریں آگئی ہیں جو زیادہ تر سولر سسٹم پہ منتقل کی جا رہی ہیں۔

گاؤں اور دیہاتوں میں نلکے کی ٹونٹی سے منہ لگا کر پانی پینے کا رواج عام تھا اور نوجوان تو خاص طور پراسکول یا کالج آتے جاتے اسی طرح اپنی پیاس بجھاتے تھے مگر اب حکومت نے زیادہ تر علاقوں میں فلٹریشن پلانٹس لگا دئے ہیں، جس کی وجہ سے بالٹیاں و مٹکے بھرنے کے لیے کنویں یا دریا پر جانے والے اب بوتلیں لے کر فلٹریشن پلانٹ پہ جاتے ہیں۔ مٹی کے مٹکے و صراحیاں خال خال دکھائی دیتی ہیں کیونکہ فریج نے اپنی جگہ بنا لی ہے۔دیہاتوں میں بسنے والے ایک دوسرے کے گھر سے کھانا مانگ کر کھانے میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے لیکن کسی کے گھر سے آنے والے چاول، سالن، کھیر، دال اور حلوے کے برتن خالی لوٹانے کو معیوب سمجھتے تھے مگر اب یہ دونوں روایات بھی دم توڑتی محسوس ہوتی ہیں۔

کیا کوئی یقین کرے گا کہ گاؤں کے رہنے والے فارمی مرغی کا گوشت کھانے میں استعمال کرنے لگے ہیں، دودھ و دیسی انڈے فروخت کیے جاتے ہیں، مکھن نکالنے کی روایت ہر گھر میں باقی نہیں رہی ہے البتہ لسی جیسی نعمت اب بھی مفت میں مل ہی جاتی ہے لیکن دیسی گھی کے لیے کسی کو کہنا پڑتا ہے۔

سر شام جمنے والی چوپالیں و محفلیں قصہ پارینہ بن گئی ہیں، سماجی و معاشرتی مسائل پہ گفتگو کو وقت کا ضیاع قرار دیا جانے لگا ہے، کسی 80 یا 90 سالہ بزرگ کے پاس کوئی حقہ پینے نہیں آتا ہے اور نہ ہی کسی موذی مرض کا علاج بابوںسے پوچھا جاتا ہے کیونکہ میڈیکل سائنس نے بہت ترقی کرلی ہے۔جن چوراہوں پہ یار بیلی رات گئے تک بیٹھک لگاتے تھے ،وہاں اب مغرب کے بعد سے سناٹا طاری ہوجاتا ہے۔ اب چنار،اخروٹ اور سیب کے درختوں کے نیچے محافل بھی نہیں سجتی ہیں البتہ چند آوارہ کتے کچھ وقت ان درختوں کے نیچے گزارتے ہیں اور یا پھر کوئی جانور کبھی کبھار آکھڑا ہوتا ہے۔

بزرگوں کی روایات تھیں کہ ہر جمعرات کو قبروں پر دِیے جلائے جاتے تھے، اگر بتیاں مہکائی جاتی تھیں اور مرحومین کی ارواح کے ایصال ثواب کے لیے کوئی بھی میٹھی چیز لوگوں اور بچوں میں بطور خاص تقسیم کی جاتی تھیں۔گاؤں میں یہ روایت مشہورتھی کہ مرحومین کی ارواح ہر جمعرات کو اپنے گھروں پہ آتی ہیں لیکن منڈیر تک محدود رہتی ہیں اور ان کی بخشش کے لیے اگر کچھ آیات مقدسہ تلاوت کی جاتی ہیں تو واپس خوش ہو کر جاتی ہیں اور اگر کسی کے ورثا نے کچھ بھی تلاوت نہ کیا ہو تو رنجیدہ واپسی کا سفر کرتی ہیں مگر اب یہ روایت بھی دم توڑتی دکھائی دیتی ہے کیونکہ قبروں پہ بہت کم دیے جلائے جاتے ہیں اوراگربتیاں بھی خال خال مہکتی ہیں۔ اسی طرح گھروں میں بطور خاص جمعرات کے دن کچھ اچھا پکانے کی روایت بھی تقریباً ختم ہو گئی ہے۔

خدا کو معلوم ہےکہ اب جب مرحومین کی ارواح گاؤں میں جمعرات کے دن اپنے گھروں کا رخ کرتی ہوں گی تو انہیں کیسا محسوس ہوتا ہوگا؟وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں گاؤں اور دیہاتوں کی بہت سی روایات نے دم توڑا ہے اور درجنوں ماضی کے نقوش دُھندلے ہوئے ہیں وہیں شہروں سے ان کا ایک رشتہ یہ ضرور برقرار ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول اور بہتر روزگار کی تلاش میں دیہاتی آج بھی شہروں کا رُخ کرتے ہیں اور ان میں سے چند ایسے بھی ہوتے ہیں جو پھر برسوں پلٹ کراپنے آباؤ اجداد کی زمین پر واپس بھی نہیں جاتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں نہیں معلوم ہوتا کہ ان کا خاندان کس حال میں ہے اور کہاں ہے؟

 لیکن دنیا کی موجودہ تیز رفتار ترقی دیکھ کر یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ اب جانے والوں میں سے کون کب واپس آئے گا؟ اور آئے گا بھی کہ نہیں؟ کیونکہ شہروں کی چکا چوند آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے مگر گاؤں میں رہنے والے وہ افراد جن کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا ہے اور نہ ہی وہ کوئی ہنر سیکھ پاتے ہیں ،اب بھی باپ دادا کی زمین سے جڑ کر اپنا رزق حاصل کرنے کی تگ و دو کرتے ہیں اور دھرتی ماں انہیں مایوس نہیں کرتی ہے کہ ماں جو ٹھہری۔

( ماندوجن شوپیان کشمیر)

[email protected]>