پرولیا(مغربی بنگال )//وزیراعظم نریندرمودی نے کہاکہ ریاست کے عوام جس طرح ‘دیدی ’ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اس سے انکی زمین کھسک گئی لگتی ہے اور پہلا دھچکا 23مئی کو لوک سبھا انتخابات کے نتائج آنے پر لگے گا اورپھر ممتا بنرجی کی ظالمانہ حکومت کا زوال شروع ہوجائیگا۔ مسٹر مودی نے جمعرات کو یہاں بھارتیہ جنتاپارٹی کے امیدواروں کے حق میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کہتے ہیں ،پرولیا جو آج سوچتا ہے ،وہیں کل مغربی بنگال کی سوچ بن جاتی ہے جنھوں نے یہاں جمہوریت کوغنڈوں کے نظام میں تبدیل کیاہے ، انکے دن اب گنتی کے رہ گئے ہیں ۔انھوں نے کہا،‘‘ آج ملک میں مودی کو گالی دینے کی بہت بڑی مہم چل رہی ہے ۔پانچ مرحلوں میں ملک نے متحدہوکر جوووٹ دیاہے اس سے مہاملاوٹی پارٹیاں مایوس ہوچکی ہیں ۔[؟] انھوں نے ریلی میں آئے لوگوں سے کہا،‘‘ جس طرح آپ یہاں دیدی کی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں ، اس نے دیدی کی زمین کھسکا دی ہے ۔میں آپ سبھی کو یقین دلاتاہوں کہ بی جے پی کا ایک ایک کارکن آپ کے ساتھ ہے ،پورا ملک آپ کے ساتھ ہے ۔پہلا دہچکا 23مئی کو لگے گا اور پھر دیدی کی ظالمانہ حکومت کا زوال شروع ہوجائیگا۔23مئی کے بعد ہندستان کا آئین سبھی کا حساب کرے گا ،ملک کی جمہوریت سبھی کا حساب کتاب چکائے گی ۔میں آپ کو یقین دہانی کرانے آیاہوں کہ جن دراندازوں کو دیدی نے ،ٹی ایم سی نے اپنا کیڈر بنایاہے ،انکی چن چن کر شناخت ہوگی ،جویہاں ہماری بیٹیوں کو پریشان کرتے ہیں ،ہمارے مہذب بنگالی مانش کو پریشان کرتے ہیں ،انکی شناخت کی جائیگی ۔محترمہ بنرجی کے تھپڑ والے بیان پر مسٹر مودی نے کہا،‘‘ دیدی نے کہاہ کہ وہ مودی کوتھپڑ مارنا چاہتی ہیں ،ممتا دیدی میں تو آپ کو دیدی کہتاہوں ،آ پ کا احترام کرتاہوں ،آ پ کا تھپڑ بھی میرے لیے آشرواد بن جائیگا لیکن یہ بھی کہونگا کہ اگر آپ نے اپنے ان ساتھیوں کو تھپڑ مارنے کی ہمت دکھائی ہوتی ، جنھوں نے چٹ فنڈ کے نام پر غریبوں کی کمائی لوٹ لی ،تو آپ کو اتنا ڈر نہیں لگتا۔[؟] انھوں نے کہاکہ آج کے مبارک دن غریبوں کی زندگی بدلنے والی تین بڑی اسکیموں پردھان منتری سرکشابیمہ یوجنا،پردھان منتری جیون جیوتی یوجنا اور اٹل پنشن یوجنا کی شروعات چار سال پہلے کولکاتہ سے ہی ہوئی تھی ۔غریبوں کی زندگی آسان بنانے ،انھیں اپنا پختہ گھر ملے ،رسوئی گیس کا کنکشن ملے ،بجلی ملے اور بیت الخلا ملے ۔اس کے لیے آپکا یہ خدمت گار دن رات کام کررہاہے ۔ گرودیورابندر ناتھ ٹیگور کو یاد کرتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا،‘‘ گرودیو نے کہاتھا ،وہ ایسا ہندستان دیکھنا چاہتے ہیں جہاں دل خوف سے آزاد ہو اور سربلند ہو ،لیکن پہلے کانگریس اور کمیونسٹوں اور اب دیدی نے گرودیو کی تعلیم کو بالائے طاق رکھ دیا۔واضح رہے کہ ریاست کی سات پارلیمانی سیٹوں پر 12مئی کو چھٹے مرحلہ میں پولنگ ہونی ہے ۔دریں اثناء این ڈی اے اقتدار میں اعظم گڑھ سے ‘دہشت گردی’ کے بدنما داغ کو ہٹانے کا دعوی کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کوکہا کہ ان کی حکومت کی کوشش تھی کہ دہشت گرد جموں و کشمیر اور کچھ سرحدی علاقوں کے سوا ملک دیگر حصوں میں کہیں بھی اپنی سرگرمی کوانجام نہ دے سکیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ 2014 کے بعد ایک بھی دہشت گردی کے واقعہ کو اعظم گڑھ سے منسلک نہیں کیا گیا جبکہ اس سے پہلے ملک میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے واقعہ کی کڑی اعظم گڑھ سے منسلک کرد ی جاتی تھی۔ این ڈی اے حکومت کے دوران ملک نے دہشت گردی کے خلاف سخت فیصلے لئے اور ان کا منھ توڑ جواب دیا علاوہ ازیں مسعود اظہر کو عالمی دہشت گردقرار دینے کے لئے عالمی طاقتوں کو اکٹھا کیا ۔ مسٹر مودی نے کہا کہ 2014 سے قبل ملک میں دہشت گردانہ واقعات کا ایک سلسلہ چل رہا تھا لیکن ہمارے اقتدار میں آنے کے بعد ہم نے اس پر قابو حاصل کیا۔ ان حملوں کا ذمہ دار کون تھا اس بات سے ہر کوئی اچھی طرح سے واقف ہے ۔ اعظم گڑھ سے بی جے پی امیدوار و بھوجپوری اداکار دنیش لال یادو عرف نرہوا کی حمایت میں منعقد انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ نیا ہندوستان ہر دہشت گردی کا منھ توڑ جواب دے گا اور اگر ضرورت پڑی تو انکے گھروں میں گھس کے مارا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سابقہ یو پی اے حکومت اپنے دس سالہ میعاد کار میں اتنی کمزور تھی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنے کی ہمت نہ کرسکے اس کے علاوہ حکومت کے کچھ اتحادیوں نے ایسے تنظمیوں کی کھل کی طرفداری کی۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی کو مکمل اکثریت نہ ملنے کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت میں جب دہلی کی حکومت کمزور ہوگی تو ملک میں دہشت گردی اور دیگر قسم کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ کانگریس، ایس پی، بی ایس پی پر 2014 سے قبل ذات پات کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کا الزام لگاتے ہوئے مسٹرمودی نے کہا کہ اب ذات کا چولا اتار کر ایک جانب رکھ دینا چاہئے اور لوگوں کو حکومت کا انتخاب ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر کرنا چاہئے انہوں نے کہاکہ مرکز میں کمزور حکومت ایک بار پھر یو پی اے حکومت کی طرح گھپلوں اور بدعنوانیوں کی ایک سیریز دیکھے گی جبکہ مکمل اکثریت نہ ملنے کی صورت میں 20 سال پہلے کی طرح وسط مدتی انتخابات بھی ہوسکتے ہیں۔ آپ تمام کو اپنی تمام طرح کی رنجشوں اور تفریقات کو بھلا کر مضبوط حکومت کی تشکیل کے لئے ووٹ کرنا چاہئے ۔ نرہوا، روی کشن اور منوج تیواری جیسے اداکاروں کے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کی تعریف کرتے ہوئے مسٹرمودی نے کہا کہ این ڈی اے حکومت کے میعاد کار میں ہندوستان میں انٹرنیٹ انتا سستا ہوگیا ہے کہ اب لوگوں کے ہاتھوں میں ہی دل لگی کے تمام طرح کے سامان دستیاب ہیں۔اب بھوجپوری فلمیں اور گانے یو ٹیوب پر موجود ہیں اور یہ اداکار کافی مشہور ہوگئے ہیں۔ اس موقع اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ اور بی جے پی جنرل سکریٹری وجے بہادر پاٹھک اور آس پاس کے امیدوار خاص طور سے موجود رہے ۔ اس کے علاوہ وزیر اعظم جونپور اور پریاگ راج میں بھی انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے ۔یواین آئی