دہگام ہندوارہ آبپاشی کوہل تباہی کے دہانے پر آبی وسیلے کی صفائی ذمہ لینے سے محکمہ اریگیشن ومیونسپل کونسل کاانکار

اشرف چراغ

کپوارہ //ہندوارہ قصبہ سے گزرنے والی دہگام کھنہ بل آبپاشی کوہل تباہی کے دہانے پر ہے جس کے نتیجے میں کسانوں کے ساتھ ساتھ مقامی بستی میں متعلقہ محکمہ کے خلاف ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ اس کوہل میں مارکیٹ اور آس پاس بستی کی تمام غلاظت جمع کی جاتی ہے اور یہ سلسلہ کئی برسوں سے جاری ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس کوہل کی بدبو سے مقامی بستی کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ گرمی بڑھتے ہی کوہل سے اتنی بدبو اٹھتی ہے کہ لوگوں کا گھروں میں بیٹھنا بھی محال بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کئی بار انتظامیہ کے نوٹس میں یہ مسلہ لایا لیکن انہوں نے اس طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔ اس کوہل کے ناصاف ہونے سے مقامی آبادی کافی پریشانی کا شکار ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے دہگام کوہل محکمہ ارگیشن کی نگرانی میں ہے لیکن متعلقہ محکمہ نے اس کوہل کی کبھی صاف صفائی نہیں کی ،لیکن اب محکمہ نے یہ بہانہ بنا دیا کہ دہگام کول کی نگرانی میو نسپل کونسل ہندوارہ کے ذمہ ہے لیکن میونسپل کونسل بھی اس کوہل کی ذمہ داری اپنے سرلینے سے انکارکررہی ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ خریف فصلوں خاص کر دھان کی پنیری کا سیزن شروع ہونے سے قبل ہی آبپاشی نہروں کی صفائی عمل میں لائی جاتی تھی،تاکہ ضرورت کے وقت کھیتوں میں بہ آسانی پانی پہنچ سکے، تاہم ابھی تک ہندوارہ کی دہگام کول کی صفائی عمل میں نہیں لائی گئی۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی میں اس کوہل کی تعمیر ہوئی تاکہ مقامی لوگوں کو پینے کے پانی کیساتھ ساتھ آبپاشی سہولیات میسرہو، لیکن وقت گزرنے کیساتھ ہی متعلقہ محکمہ نے اس کوہل کی صفائی ستھرائی کرنے کی ذمہ داری سے منہ پھیر لیا اور نتیجے کے طور یہ کوہل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی اور اس کوہل میں پورے قصبے کی گندگی کو جمع کیا جاتا ہے۔مقامی لوگوں نے اس کوہل کی شان رفتہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔اس حوالہ سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہندوارہ عزیز احمد راتھر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے اریگیشن اور میونسپل کمیٹی ہندوارہ کو اپنے دفتر طلب کیا تاکہ صورتحال واضح ہو سکے۔ان کا کہنا ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں دہگام کول کی صفائی عمل میں لائی جائے گی اور اس کی کھوئی ہوئی شان کو بحال کیا جائے گا۔