دہلی میں کانگریس۔ اے اے پی کے درمیان اتحاد کی کوششیں جاری

نئی دہلی// دہلی کانگریس کی صدرشیلا دیکشت کے دارالحکومت کی سات لوک سبھا سیٹوں پر عام آدمی پارٹی (اے اے پی) سے اتحاد کے لیے تیارنہ ہونے کی رپورٹ آنے کے باوجود دونوں پارٹیوں کے درمیان اس موضوع پر ابھی کوششیں جاری ہیں۔اس سلسلے میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے انچارج پی سی چاکو اور اے اے پی رہنما اور رکن پارلیمنٹ سنجے سنگھ کے درمیان گذشتہ دو دنوں کے دوران بات چیت ہوئی ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق محترمہ دیکشت اور دہلی کانگریس کے تینوں کارگزار صدور ہارون یوسف، دیویندر یادو اور راجیش لیلوٹھیا اے اے پی سے اتحاد کے حق میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب سابق ریاستی صدر اجے ماکن اور کئی بڑے رہنما اے اے پی کے ساتھ اتحاد کی پیروی کررہے ہیں۔ذرائع بتاتے ہیں کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد کا معاملہ سیٹوں کو لے کر پھنسا ہوا ہے ۔ دہلی کے اقتدار پر قابض اے اے پی کانگریس کو دارالحکومت کی سات سیٹوں میں سے محض دوسیٹیں دینا چاہتی ہے جبکہ کانگریس تین نئی دہلی، چاندنی چوک اور مشرقی دہلی کی سیٹوں کا مطالبہ کررہی ہے ۔غور طلب ہے کہ 2009 کے عام انتخابات میں کانگریس نے دہلی میں لوک سبھا کی ساتوں سیٹوں پر کافی زیادہ ووٹوں کے فرق سے فاتح رہی تھی جبکہ 2014 میں تمام سیٹوں پر محض اس کی شکست ہی نہیں ہوئی بلکہ امیدوروں کی ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔دونوں پارٹیاں دہلی اور ہریانہ میں لوک سبھا اتحاد کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔ دہلی میں کانگریس کو اے اے پی دو سے زیادہ سیٹیں نہیں دینا چاہتی تو ہریانہ کی 10 سیٹوں میں سے اے اے پی کو کانگریس بھی محض دو سیٹیں ہی دینا چاہتی ہے ۔دونوں سیاسی جماعتوں کے درمیان اتحاد کے سلسلے میں حالانکہ ابھی پچھلے دروازے سے بات چیت جاری ہے لیکن دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کہہ چکے ہیں کہ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے اتحاد سے انکار کر دیا ہے ۔دہلی کانگریس کے ہیڈکوارٹر میں جمعرات کو پارٹی کے لوک سبھا انتخابی منشور کی معلومات عام کرنے کے لیے پریس کانفرنس کا انعقاد کیا تھا۔ مسٹر گاندھی دو اپریل کو ہی حالانکہ پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں اس کا اعلان کرچکے تھے ۔ اس بار کانگریس نے بھی پورے ملک میں جگہ جگہ پریس کانفرنس کر کے پارٹی کے انتخابی منشور کو عام کیا۔ محترمہ دیکشت نے جمعرات کو کہا کہ اے اے پی کے ساتھ اتحاد کے سلسلے میں ابھی کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے ۔کانگریس اور اے ا ے پی کے درمیان دہلی میں اتحاد کے حق میں بتائے جانے والے رہنماؤں کی دلیل ہے کہ بغیر اتحاد کے الیکشن لڑنے پر بی جے پی کو فائدہ ہوسکتا ہے ۔ محترمہ دیکشت 15 سال تک مسلسل دہلی کی وزیر اعلیٰ رہ چکی ہیں۔ پارٹی نے کچھ ماہ پہلے ہی مسٹر ماکن کو ہٹاکر محترمہ دیکشت کو ریاستی صدر بنایا ہے ۔