عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ احتجاج میں شرکت کرنے والے کشمیری لیڈروںکو پولیس تھانوں کے باہر احتجاج کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے اپنی پارٹی سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کہا کہ ہمارے لیڈروں کو یہاں پولیس تھانوںکے باہرہونا چاہئے جہاں ساڑے تین ہزار نوجوانوں کو بند رکھا گیا ہے لیکن یہاں خبر نہیں بنتی ہے۔ انہوںنے ایک مرتبہ پھر محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پیلٹ گن ان کے دور میں چلے اور انہوںنے صرف ایک انشا کا نام لیا لیکن اگر وہ نام لینے پر آجائیں تو لوگ سنتے سنتے تھک جائیںگے۔ہفتہ کو سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بخاری نے محبوبہ مفتی سے متعلق دئے گئے بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’’میں نے کوئی غلط بات نہیں کہی ،میں نے پیلٹ گن سے بینائی کھونے والی ایک انشا کا نام لیا ،اگر میں پیلٹ متاثرین کا نام لینے پر آئوں تو آپ نام سنتے سنتے تھک جائیںگے‘‘۔محبوبہ مفتی کا نام لئے بغیر اُن کا مزید کہناتھا’’جو خود کو بہت بڑی پارٹیوں کے لیڈر کہتے ہیں ،اُنہوںنے جو حلف نامہ بھرے ہیں ،اُن میں انہوں نے اُن بچوں کو منشیات کے عادی لکھا ہے جنہیں اُن کی سرکاری نے شہید کیا ہے۔
اس وقت میں انکے نام نہیںلوں گا لیکن وہ نام بھی منظر عام پر آئیں گے اور ان کی حقیقت بھی منظر عام پر آئےگی‘‘۔دہلی کے جنتر منتر پرطلبہ احتجاج کو درست قرار دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ ان کی بات سنی جانی چاہئے ،سرکار کو ان کی بات سننی چاہئے اور اس کو عزت کا معاملہ نہیں بننا چاہئے۔یہ پوچھے جانے پر کہ یہاں کے لیڈر بھی اس احتجاج میں شامل ہوگئے ،بخاری نے کہا’’کاش میں ہمارے لیڈروں کو یہاں پولیس تھانوںکے باہر دیکھتا جہاں ساڑے تین ہزار نوجوانوں کو بند رکھا گیا ہے لیکن یہاں جموںوکشمیر میں تو خبر بنتی نہیںہے ،یہاں بین الااقوامی میڈیا کور نہیں کرتا ،نہ کوئی ملک کا بڑا سیاسی لیڈر آتا ہے اور نہ ہی فلم انڈسٹری کی کوئی بڑی ہستی نہیں آتی ہے،اس لئے انہیں اس میں دلچسپی نہیں ہے‘‘۔نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کوبہت ہی افسوسناک قرار دیتے ہوئے الطاف بخاری کا کہناتھا کہ’’یہ انتہائی غلط بات ہے کہ سزا سبھی لوگوں کو دی جارہی ہے ۔جو یہ کہہ رہے تھے کہ سراغ رسانی ہماری بالکل صحیح ہے تاہم ،کہیں نہ کہیں سراغ رسانی کی ناکامیاں ہورہی ہیں جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے ،ہمارے بچوں اور اُن بزرگوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے ،جنہوںنے تیس سال پہلے ایک مقصد کیلئے کسی چیزکا ساتھ دیاتھا‘‘۔الطاف بخاری نے مزید کہا کہ یہاں جوابدہی نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔انکا کہناتھا’’یہاں منتخب لوگوںکا فوکس اپنی کرسی کی طرف ہے اور جن کے پاس اختیارات ہیں ،اُن کا فوکس اس طرف ہے کہ کس طرح جموںوکشمیر کے نوجوان کو قید و بند کردے‘‘۔