محمد بشارت
راجوری// ضلع راجوری کی تحصیل خواص کے پنچایت حلقہ خواص، وارڈ نمبر 9 شموتی کے رہائشی 30 سالہ محمد ایوب ولد غلام حسین کی لاش درہالی پل کے قریب مشکوک حالت میں برآمد ہونے کے بعد علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ اہلِ خانہ نے واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔متوفی کے قریبی رشتہ دار محمد اشرف کے مطابق محمد ایوب انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتا تھا اور روزگار کی تلاش میں کشمیر میں مزدوری کر رہا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ محمد ایوب 7 جولائی کو کشمیر سے راجوری واپس پہنچا تھا، تاہم 8 جولائی کو اچانک اس کا موبائل فون بند آنے لگا، جس کے باعث اہلِ خانہ کو تشویش لاحق ہوگئی۔ذرائع کے مطابق 8 اور 9 جولائی کی درمیانی شب راجوری پولیس کو اطلاع ملی کہ درہالی پل کے قریب ایک نامعلوم شخص کی لاش پڑی ہوئی ہے۔
اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی، لاش کو اپنی تحویل میں لے کر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا، جہاں ابتدائی طور پر اسے نامعلوم نوجوان کی لاش قرار دیتے ہوئے شناخت کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام سے تعاون کی اپیل کی گئی۔بعد ازاں دیر رات لاش کی شناخت محمد ایوب کے طور پر ہوئی، جس کے بعد جمعہ کے روز تمام قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میت ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ بعد ازاں آبائی گاؤں شموتی میں سوگوار ماحول کے درمیان محمد ایوب کو سپردِ خاک کر دیا گیا، جہاں بڑی تعداد میں مقامی افراد نے شرکت کی۔متوفی کے اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ محمد ایوب ایک محنت کش اور نہایت غریب شخص تھا، جسے مبینہ طور پر پیسوں کی خاطر بے رحمی سے قتل کیا گیا۔ انہوں نے پولیس اور سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی غیرجانبدارانہ اور تیز رفتار تحقیقات کر کے اصل ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔دوسری جانب راجوری پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور دیگر شواہد کی بنیاد پر واقعے کی مکمل چھان بین کی جا رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔