شبیر احمد بٹ
اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم مسلمان ہیں اور اس سے بڑا اعزاز یہ کہ ہم امت رحمت اللعالمین میں سے ہیں ۔اس مشفق و مہربان نبی کے امتی جو بے زبان جانوروں پر بھی رحم فرماتے تھے اور ان کے ساتھ احسن سلوک کی تعلیم دے چکے ہیں ۔وہ عورت جس نے بلی کو بھوکا رکھا تھا ،عذاب کا شکار ہوئی ۔اُس شخص کو اللہ کے عذاب سے ڈرایا جس کے اونٹ کی شکایت رحمت والے نبی ؐنے سنی کہ تم اس سے کام زیادہ لیتے ہو اور بھوکا رکھتے ہو یا پھر وہ شخص جس نے موزے میں پانی لاکر پیاسے کتے کو پلایا اور اس نیکی کی بدولت مغفرت پائی۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہم پر ہر کام ہر قانون واضح ہے اور دنیا کا کوئی قانون ،کوئی عدل ،رحمت والے نبیؐ کے قانون اور عدل سے بڑھ کر نہیں ہوسکتا ۔
اب اگر کوئی جانور انسانی زندگی کے لئے خطرہ بن جائے تو اسے مارنا جائز ہے ۔ موذی جانوروں (فواسق )کو مارنےکے شرعی اور قانونی جواز بھی ہیں ۔مگر ہماری بدقسمتی کہ
سنگ و خشت مقید اور سگ آزادوالے حالات بنے ہوئے ہیں ۔کتوں کی بڑھتی تعداد وادی میں ایک خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر چکی ہے ۔ یہاں ایسا کوئی دن نہیں گزرتا ،جب معصوم بچے ۔بوڑھے بزرگ اور مرد وزن ان آوارہ کتوں کی وجہ سے نہ صرف شدید زخمی ہوجاتے ہیں بلکہ کئی انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے پیچھے بھی یہی آوارہ کتّے ہیں ۔ ایسے میں کُتّوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد اور حکومت کی خاموشی نہ صرف باعث تشویش ہے بلکہ کئی سارے سوالات کو جنم دیتی ہیں ۔لیکن یہاں سوال پوچھنا بھی ایک سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے ۔جہاں سوال پوچھنے والے کو ہی یہ خطرہ لاحق ہو کہ کہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائے، ایسے میں مزاحمت کرنا تو دور کی بات ہے ۔جب ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں کہ مظلوم اپنا درد بھی بیان نہ کر پائے،سائل اپنی فریاد بھی نہ کر سکے اور انسانی حقوق کو ہر طرف روندا جائے ،انہیں پامال کرکے موذی جانوروں کے تحفظ اور حقوق کے دعوے کرکے لوگوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ ان کے ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، تو حالات سُدھرنے کے بجائے بگڑتے ہیں ۔ جب عام لوگوں سے امن چھین کر کبھی جانوروں کے نام پر تو کبھی تعلیم کے نام پر ، کہیں مذہب کے نام پر تو کہیں لباس کے نام پر، انھیں سوال کرنے سے بھی روکا جائے ،تو پھر شک و شبہات کو تقویت ملتی ہے کہ کہیں یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبوں کے تحت تو نہیں ہورہا ہے۔بات کُتّوں کی ہورہی تھی ۔ اب کُتّوں کو بھی یہ یقین ہوچلا ہے کہ کوئی ماں کالال ہمیں ٹچ بھی نہیں کر سکتا ہے ۔اس لئے کبھی ہسپتال کے کسی روم یا بیڈ پر اپنی حاضری دکھا کر ، تو کبھی میوہ ، سبزی یا مٹھائی بنانے والے کے ریڑے پر اور کبھی کسی کی پارک کی ہوئی گاڑی کی چھت پر چڑھ کر آرام فرماکر حضرت انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ کُتے کی دُم کبھی سیدھی ہو یا نہ ہو ، انسان کچھ نہیں کرسکتا ۔ہر نکڑ ،ہر گلی اور ہر چوراہے پر ان کی الگ الگ ٹولیاں پڑی دکھائی دیتی ہیں اور جب چاہیے یہ کسی کے ساتھ بھی مذاق اور شرارت کے ساتھ اٹیک کرسکتے ہیں ۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے ایک حکم نامے کے تحت ان آوارہ کتّوں کو گلی کوچوں اور بازاروں میں فیڈنگ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور مخصوص فیڈنگ مقامات بنانے کے احکامات جاری کردئے ہیں ۔حکم نامے کے مطابق گلی کوچوں میں فیڈنگ کرانے والے لوگوں کو کُتوں کے کاٹنے کے واقعات کا ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے ۔ اس لئے ذرا خبردار رہیے کہیں ایسا نہ ہو کہ لینے کے دینے نہ پڑ جائے ۔ مخصوص فیڈنگ زونز ہمارے شہر و گام میں صاف دکھائی دے رہے ہیں ۔ کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ان کُتوں نے ناجائز اور جبریہ قبضہ نہ کیا ہو ۔ اس پر طرہ یہ کہ ان کُتوں کی من مانی اور ان کے کاٹنے کو صحیح قرار دے کے ان کی طرفداری کے لئے بھی چند گروہ سرگرم ہیں ۔ یورپ میںکُتوں کو حقوق دئے جارہے ہیں ۔بھارت کے جھارکھنڈ اور اڑیسہ کے علاقوں میں بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ کُتوں کے ساتھ شادیاں رچائی گئیں ۔
حالات و واقعات پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے کے بعد یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ اگر آپ ان کُتوں کی کبھی شکایت کرو گے تو آپ کو ریفرینس کے ساتھ کہا جائے گا کہ کُتّے کی کوئی غلطی نہیں، آپ کیوں باہر نکلے ۔ کوئی زہر بیچتا ہے تو بیچنے دو ،کوئی ملاوٹ کر کے بیچ رہا ہے تو بیچنے دو ،آپ کیوں خرید رہے ہو ۔اسی طرح کُتے کاٹ رہے ہیں تو کاٹنے دو ۔وہ چیر پھاڑ کر رہے ہیں تو کرنے دو، آپ کیوں سیکورٹی کے بغیر باہر نکل رہے ہو ۔لوہے کا لباس پہن کر نکلا کرو۔ایک رپورٹ کے مطابق اپریل کے مہینے میں مختلف ہسپتالوں سے پچاس سے زائد افراد کتوں کے کاٹنے کی وجہ سے ٹیکے لگا چکے ہیںاور تین لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ دیکھا جائے تو اس اعداد و شمار میں اضافے کے بھی امکانات ہیں ۔
رابطہ۔7889894120