ٹی ای این
سرینگر// غذائی تحفظ اور خوردنی تیل کے شعبے سے متعلق امور پر غور و خوض کے لیے وزارتِ امورِ صارفین، خوراک و عوامی تقسیم کی اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی کا ایک اہم اجلاس نئی دہلی میں منعقد ہوا، جس میں مختلف ارکانِ پارلیمنٹ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران رکن پارلیمنٹ چودھری محمد رمضان نے ملک میں خوردنی تیل کی بڑھتی ہوئی درآمدات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ گھریلو پیداوار میں اضافے کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے۔چودھری محمد رمضان نے کمیٹی کو بتایا کہ بھارت ہر سال تقریباً 160 لاکھ میٹرک ٹن خوردنی تیل درآمد کرتا ہے، جو ملک کی مجموعی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اندرونِ ملک طلب اور پیداوار کے درمیان موجود وسیع فرق کو پورا کرنے کے لیے ملک کو اب بھی درآمدات پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جو طویل مدتی غذائی اور معاشی سلامتی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ درآمدی انحصار میں کمی لانا وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے نیشنل مشن آن ایڈیبل آئلز کو مکمل طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے تیل دار بیجوں کے لیے یقینی کم از کم امدادی قیمت (MSP) مقرر کرنے اور مؤثر سرکاری خریداری نظام کو فروغ دینے کی بھی وکالت کی تاکہ کسان زیادہ سے زیادہ رقبے پر ان فصلوں کی کاشت کی جانب راغب ہوں۔رکن پارلیمنٹ نے وزارتِ زراعت و کسان بہبود سے مطالبہ کیا کہ فی ہیکٹر پیداوار میں اضافے اور مجموعی طور پر تیل دار بیجوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے جدید اقدامات اختیار کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زرعی تحقیق کو فروغ دینے، اعلیٰ معیار کے بیج متعارف کرانے اور کسانوں تک تکنیکی رہنمائی پہنچانے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے سے ملک خوردنی تیل کے شعبے میں خود کفالت حاصل کر سکتا ہے۔