خاندان اور وراثت سے کمپنی کی کمان مل سکتی ہے ویژن نہیں :مودی

بگہا ،بہار  (یواین آئی) وزیراعظم نریندرمودی نے کانگریس صدر راہل گاندھی پر طنز کرتے ہوئے آج کہاکہ خاندان اور وراثت سے ایک کمپنی کی کمان تو مل سکتی ہے لیکن اسے چلانے کے لیے ویژن نہیں ۔بھارتیہ جنتاپاٹی (بی جے پی )کے سینئر لیڈر مسٹر مودی نے مغربی چمپارن ضلع میں رام نگر ک بنجریا فارم میں قومی جمہوری اتحاد امیدواروں ک حق میں منعقد انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے جب کانگریس کم سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے ۔کانگریس اور اسکے اتحادی کی ایس حالت اس لیے ہوئی کیونکہ انکی معتبریت بحران کی شکار ہے ۔انھوں نے مسٹر گاندھی کا نام لیے بغیر کہا،‘‘ خاندان اور وراثت سے آپ کو ایک کمپنی کی کمان تو مل سکتی ہے ،لیکن اسے خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے ویژن نہیں ۔انکا ارادہ بہار اور ملک کی خدمت کرنا نہیں ہے ۔وہ خود کو سیوک نہیں بلکہ جمہوریت کا نیامہاراج سمجھتے ہیں ۔[؟]مسٹر مودی نے کہا کہ ایک زمانہ میں جس پارٹی کی پورے ملک پر تنہا حکومت تھی ۔پنچایت سے لیکر پارلیمنٹ تک ایک ہی پارٹی کا دبدبہ تھا آج اس پارٹی کے غرورکو عوام نے چورچورکردیا۔انھو ں نے کہا،‘‘ کانگریس ہو یا آر جے ڈی ہو اس کے پاس صرف نام اور دام کا ہی ویژن ہے ۔یہ وجہ ہے کہ جھوٹ کی سیاست انکے لیے وجود بچانے کا واحد ذریعہ بن گئی ہے ۔وزیراعظم نے طنز کرتے ہوئے کہاکہ یہ مہاراج نظم ونسق کو برباد کرنے ،بدعنوانی کو خیرسگالی بنانے ،عوام کے پیسے لوٹنے ،کسی بھی حد تک جاکر جھوٹ بولنے اور افواہ پھیلانے میں کوئی تامل نہیں برتتے ۔انھیں شرم بھی نہیں آتی ۔سماج میں تفریق پیدا کرنے کے لیے برسوں سے جھوٹ پھیلانے کا فیشن چل رہاہے ۔کچھ لوگوں کوصبح شام جھوٹ بولے بغیر کھانا ہضم ہی نہیں ہوتا ۔لیکن ،عوام نے انکے غرور کو ایسا چورچور کردیا کہ وہ آج 40سیٹ لانے کے لیے جی جان سے کوشش کررہے ہیں ۔مسٹر مودی نے کہاکہ ان مہاملاوٹیوں نے اب وزیراعظم بننے کا خواب ترک کردیاہے ۔اب انکے بیچ اپوزیشن کا لیڈر بننے کا جھگڑا چل رہاہے ۔انھوں نے کہاکہ سال 2014کے لوک سبھا انتخاب میں ملک کے عوام نے انکو اپوزیشن کا لیڈر بننے کے لائق بھی چھوڑا ۔اپوزیشن کا لیڈربننے کے لیے 54سیٹیں چاہئیں لیکن اپوزیشن پارٹی کو لوگوں نے 50سے اوپر نہیں جانے دیا۔انھوں نے کہاکہ پانچ سال قبل آزاد ہندستان میں پہلی بار کانگریس کو اتنا بڑا دھچکا لگاتھا۔وزیراعظم نے کہاکہ اپوزیشن اب ہار سے بچنے کے لیے نئے نئے بہانے تلاش کررہی ہے ۔چار مرحلے کی پولنگ کے بعد ،سارے مہاملاوٹی پارٹیوں کے جھوٹے دعووں کی پول کھل گئی ہے ۔خاندانی سیاست اور بدعنوانی کی کالی کمائی سے ان لوگوں میں جو غرور پیداہواہے ،اسے بہار کے لوگوں نے ٹھیک کرنے کاتہیہ کرلیاہے اس لیے یہ ہارے ہوئے لوگ ،اب اس سے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کررہے ہیں ۔انھوں نے کہاکہ اب چار مرحلوں کی پولنگ کے بعد انکی بندوق کارخ تھوڑا بدلا ہے ۔اب یہ لوگ آدھی گالی مودی کو اور آدھی الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو دے رہے ہیں ۔مسٹر مودی نے کہاکہ یہ کچھ اور نہیں انکا ریڈی میڈ بہانا ہے ۔