گول//ضلع پونچھ کے قصبہ گول سے 24کلو میٹر دور مشہور تتہ پانی کا علاقہ سرکار کی نظروں سے اْوجھل ہے اور یہاں پر لوگوں کو ہر طرح کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے ۔ اِس مقام پر گرم چشمے اْبلتے ہیں جو لوگوں کو مختلف بیماریوں سے نجات دلانے میں انتہائی کاریگر ثابت ہیں، یہی وجہ ہے کہ اِس صحت افزا اور شفا بخش مقام کا نام ’’تتہ پانی ‘‘سے مشہور ہو گیا۔ یہاں آنے والوں نے کہا کہ گو کہ ناساز حالات کے چلتے اِس بار مسافروں کی تعدا د میں حد درجہ کمی واقعہ رہی لیکن یہاں پر آنے والے مسافروں کیلئے قیام کا انتظام بالکل نا کے برابر ہے، بیشتر مسافروں کو کھلے آسمان تلے راتیں گزارنی پڑ رہی ہیں، حکام کی جانب سے مسافروں کیلئے کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔ چند ایک عمارتیں ہیں جو مسافروں کے قیام کے نام سے تعمیر تو کی گئیں ہیں لیکن اِن میں عام مسافر قیام نہیں کرتے بلکہ اثر رسوخ رکھنے والے لوگ ہی ان عمارتوں میں قیام کر سکتے ہیں۔اْن کا کہنا تھا کہ عام مسافروں کیلئے یہاں پر کسی بھی طرح کا کوئی معقول انتظام نہیں رکھا گیا ہے جس وجہ سے خاص طور پر خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انتظامیہ کی ناقص کارکردگی کا یہ عالم ہے انھوں نے چند عناصر کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو طرح طرح کے بہانوں اور دھونس دبائو سے یہاں پر آنے والے مسافروں کو دو دو ہاتھ لوٹنے میں کوئی موقعہ نہیں چھوڑتے۔یہاں تک کہ گندگی کے ڈھیروں پر اورفٹ پاتھ پرراتیںبسر کرنے والے مسافروں سے بھی پیسہ وصولا جاتا ہے۔ مسافروں کے مطابق اِس صحت افزاء اور شفا بخش مقام کی بدحالی حکام کی غیر سنجیدگی اور لاپرواہی تو تھی ہی لیکن اثر رسوخ اور حکام کیساتھ ملی بھگت کر کے اِس شفابخش مقام پر جن لوگوں نے غیر قانونی اورناجائزطریقے سے جگہ جگہ قبضہ کر رکھا ہے اْن کا پارہ ہمیشہ گرم رہتا ہے ۔مقامی لوگوں نے متعلقہ حکام کی غیر سنجیدگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہایہاں پر ’’تتہ پانی ٹرسٹ‘‘ کی جانب سے چند کمروں کی تعمیر کی گئی تھی تاکہ مسافروں کے قیام میں کسی حد تک مدد ہو سکے لیکن تتہ پانی کے نزدیکی گائوں حیلہ جانے والی سڑک کی تعمیر کے دوران وہ کمرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔ سڑک کا تمام ملبہ اِن کمروں پر ا گرا اور ٹرسٹ ہذا کی جانب سے تعمیر کئے گئے کمرے کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے،لیکن افسوس کا مقام ہے کہ ابھی تک اِن کمروں کی نئے سرے سے تعمیر کے بارے میں حکام نے کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں کیا۔مقامی لوگوں کا ضلع انتظامیہ سے یہ بھی مطالبہ ہے کہ تتہ پانی کے مقام پر جن لوگوں نے غیر قانونی طور اپنی تجاوزات کھڑی کر رکھی ہیں اْنہیں فوری طور سے ہٹا یا جائے اور ایسے افراد کے خلاف کڑی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے جو اثر رسوخ کی بنیاد پر اِس شفا بخش مقام پر اپنا قبضہ جما کر اِس بیش قیمتی اثاثہ کو تباہ و برباد کر نے کے در پر ہیں۔