غلام مصطفیٰ رفیق
حج اسلام کے بنیادی پانچ ارکان میں سے آخری رکن ہے،نیزیہ فرض عین ہے،اوراس کی فرضیت کامنکرکافرہےاورعمل نہ کرنے والاسخت گناہ گارہے۔حج کیاہے؟ایک معین اورمقررہ وقت پراللہ کے عشاق کی طرح اس کے دربارمیں حاضرہونے اوراس کے خلیل حضرت ابراہیمؑ کی اداؤں اورطورطریقوں کی نقل کرکے ان کے مبارک سلسلے سے اپنی وابستگی اوروفاداری کاثبوت دینے اوراپنی استعداد کے بقدر ابراہیمی جذبات وکیفیات سے حصہ لینے اوراپنے کوان کے رنگ میں رنگنے کے عمل کانام ہے۔اسلام کے دورکن نمازاورزکوٰۃ میں اللہ تعالیٰ کی شان حاکمانہ وشاہانہ کارنگ غالب ہے اورحج میں اللہ تعالیٰ کی صفت کمال وجمال اورشانِ محبوبیت کارنگ نمایاں ہے، بندے اپنے رب کے سامنے محبت اوردیوانگی کے مناظر پیش کرتے ہیں۔
دنیاکی تاریخ میں حج کاشماراہم ترین عبادات میں ہواہے اوریہ شعائراسلام میں سے ہے،حج جانی ومالی دونوں عبادتوں کا مجموعہ ہے،حج بے شمارسفری مشقتوں اورصعوبتوں کاحامل ہے، اسی لئے اس کوجہادکامماثل قراردیاگیاہے۔موسم حج کے شروع ہوتے ہی جن عشّاق کوبارگاہ الٰہی میں حاضری کا اذن ملااورجن خوش بختوں کے حق میں یہ سعادت مقدر ہے ،ان کے قافلے رواں دواں ہیںاوراطراف عالم سے دیارِمحبوب کی جانب لپکے جارہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے یوں توہرعبادت کے لئے قدم قدم پررحمت وعنایت اور اجروثواب کے وعدے فرمائے ہیں،لیکن تمام عبادات میں حج بیت اللہ کی شان سب سے نرالی ہے۔احادیث مبارکہ میں حج کرنے پربڑی فضیلتیں اوراس فریضہ کی ادائیگی میں بلاعذر تاخیر کرنے یا اسے ترک کرنے والے کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔فضیلت اس قدرہے کہ ایک ایک قدم پرنیکیوں کے انبارلگتے ہیں اورگناہوں کے مٹانے اوردرجات کی بلندی کاسامان ہوتاہے۔چنانچہ ایک روایت میں ہے:جوشخص اللہ کے لئے حج کرے اس طرح کہ اس حج میں نہ فحش کلامی ہواورنہ ہی حکم عدولی، وہ حج کے سفرسے ایساواپس ہوتاہے جیسے اس دن تھاجس دن پیداہواتھا۔(مشکوٰۃ)یعنی جس طرح پیدائش کے وقت معصوم بچے پرگناہ یالغزش کاکوئی اثرنہیں ہوتا،اسی طرح رضائے الٰہی کے لئے حج کرنے والے کوتمام برائیوں سے پاک کردیاجاتاہے۔حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشادفرمایا:حاجی کی سفارش اپنے اقرباء میں سے چارسوآدمیوں کے حق میں مقبول ہوگی۔(بزار،ترغیب)
حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:حج وعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں،وہ جوسوال کرتے ہیں،ملتاہے،جودعاکرتے ہیں، قبول ہوتی ہے،جوخرچ کرتے ہیں، اس کابدل پاتے ہیںاورایک درہم خرچ کرنے کاثواب دس لاکھ ملتاہے۔ (مسندبزار،ترغیب) اگرکسی کے پاس استطاعت موجودہو،یعنی مکّہ تک آنے جانے کے سفرکاخرچ اورکھانے پینے کاانتظام کرسکتا ہو،پھر بھی وہ اس فریضے میں کوتاہی کرے تواس کے لئے قرآن وحدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
ایک حدیث میں نبی کریم ؐ فرماتے ہیں:جس شخص کے پاس اتناخرچ ہواورسواری کاانتظام ہوکہ وہ بیت اللہ شریف جاسکے اورپھر وہ حج نہ کرے توکوئی فرق نہیں، اس بات میں کہ وہ یہودی ہوکرمرے یانصرانی ہوکر۔(بیہقی)کس قدرسخت تنبیہ ہے کہ حج نہ کرنے پریہودی یاعیسائی ہونے کی حالت میں مرجانے کی وعیدسنائی گئی ہے۔
بہت سے مردوں اور عورتوں پرحج فرض ہوتاہے، لیکن وہ دنیا کے دھندوں، مصروفیات اور اولاد کی شادی کابہانہ بنائے رہتے ہیں اورحج کاارادہ ہی نہیں کرتے،پھربسااوقات رقم ختم ہوجاتی ہے یاموت آجاتی ہے اور زندگی بھرحج نصیب نہیں ہوتااوروہ سخت گناہ گار ہو کر دنیا سے جاتے ہیں۔اس لئے حج فرض ہوجانے کی صورت میں اس کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے، کیونکہ موت کاکوئی بھروسہ نہیں کہ کس لمحے آجائے اورمہلت ختم ہوجائے۔