سرینگر //جموں و کشمیر سروس سیلیکشن بورڈ کی جانب سے سال 2016میں جونیئر اسسٹنٹ کی اسامیوں کی بھرتی کیلئے فارم جمع کرنے والے اُمید واروں نے الزام عائد کیا ہے کہ بورڈ جونیئر اسسٹنٹوں کی اسامیوں کو پر کرنے کیلئے بنائے گئے قواعدو ضوابط کو نظر انداز کرکے خود ہی بنائے گئے قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اُمیدواروں نے بتایا کہ سال 2016میں مشتہر کی گئی نوٹیفکیشن نمبر 1اور نوٹیفیکیشن 2 میں جونیئر اسسٹنٹوں کیلئے درکار تعلیمی قابلیت گریجویشن مقرر کی تھی جبکہ ٹائپ رائٹنگ میں فی منٹ 35الفاظ کی رفتار اور کمپوٹر میں چھ ماہ کی تریب مقرر کی تھی۔ وفد میں شامل اُمید واروں نے بتایا کہ نوٹیفیکیشن کے پیرا 7میں یہ واضح طور پر لکھا گیا تھا کہ صرف ان ہی اُمید واروں کو آگے بڑھایا جائے گا جن میں ٹائپنگ کرنے کی صلاحیت 90فیصد صحیح ہو یا جو 35الفاظ فی منٹ کی رفتار سے ٹائپ کرتے ہو۔ اُمیدواروں نے بتایا کہ سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے جاری کئے گئے لسٹ میں ایسے لوگوں کو بھی شامل کیا گیا ہے جو مقررہ معیار میں نہیں آتے جو دیگر اُمید واروں کیلئے سراسر نا انصافی ہے۔ اُمید واروں نے سروس سلیکشن بورڈ کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرکے ذہین اُمیدواروں کے ساتھ انصاف کرے۔ اس ضمن میں کشمیرعظمیٰ نے ایس ایس آر بی کے چیرمین سمرن دیپ سنگھ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم بار بار کوشش کرنے کے بائوجود بھی ان سے رائبطہ نہیں ہوسکا۔