طنز و مزاح کالم نگاری کی جو روایت ہندوستان و پاکستان کے کم و بیش تمام اخبارات میں ملتی ہے، وہی تاریخی نہ سہی لیکن جاندار سطح پر جموں وکشمیر کے مختلف اخبارات میں بھی ملتی ہے بالخصوص وادی کشمیر سے شائع ہونے والے مختلف اخبارات میں۔
’’ آفتاب ‘‘کشمیر سے شائع ہونے والا مقبول اخبار ہے جس میں ثناء اللہ بٹ کا مشہور مزاحیہ اور فکاہیہ کالم’’ خضر سوچتا ہے ولر کے کنارے ‘‘ہر روز ایک نئے موضوع کے تحت چھپتا تھا جو سیاسی، نیم سیاسی، ادبی ،غیر ادبی ،سماجی ،اقتصادی، تہذیبی اور ثقافتی ناہمواریوں کو علامتی اشاروں اور کنایوں میں غیر سنجیدہ انداز بیان میں پیش کرکے اپنے قارئین تک ایک سنجیدہ پیغام پہنچاتے تھے ۔اسی اخبار سے وابستہ مختلف کالم نگاروں کی فہرست میں عمر مجید ایک اہم نام ہے جن کو بنانے میں آفتاب کا اہم رول رہا ہے۔ اس بات کا اعتراف عمر موجود یوں کرتے ہیں؛’’میں روزنامہ آفتاب کی پیداوار ہوں۔ آفتاب نے مجھے گو یائی بخشی اور پروان چڑھایا ۔اس لحاظ سے مدیر آفتاب خواجہ ثناء اللہ بٹ ناچیز کے مربی بھی ہیں اور مخدوم بھی‘‘ (بحوالہ : روزنامہ کشمیر اعظمیٰ ،15جنوری2008)
چھٹے عشرے کے وسطی دور میں عمر مجید روزنامہ آفتاب سے جڑے اور تادم مرگ مستقل کالم نگار کی حیثیت سے کئی عنوانات کے تحت کالم تحریر کرتے رہے۔ ان کا کالم’’ کشمیر نامہ‘‘ کافی مقبول ہوا، جس میں کشمیر کے سیاسی منظرنامے پر شگفتانہ انداز بیان میں گفتگو کی جاتی تھی ۔
اَسی کے عشرے میں وادی کے صحافتی منظر نامے پر مختلف کالم نویس سامنے آئے جن میں منصور احمد منصور خاص طور سے قابل ذکر ہیں ۔منصور احمد منصور کی مختلف تحریریں تاثر کے اعتبار سے کشمیر اور کشمیری کے درد و کرب سے پر ہیں۔ یہاں کے سیاسی داؤ پیچ ،شعبدہ بازی ،خود غرضی، صحافتی برادری، خودساختہ دانشور طبقے، مرکزی سیاستدانوں کے نام انہوں نے مختلف کالم تحریر کئے۔ اس حوالے سے موصوف لکھتے ہیں:’’ اس وضاحت کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ کتاب میں شامل بیشتر تحریریں ’’کشمیریوں کا عجایب خانہ ‘‘کے عنوان کے تحت سلسلہ وار لکھی گئی تھی بعض تحریریں یہاں کے موقر روزنامہ آفتاب میں شائع ہوئیں ـ‘‘ ؎۲
منصور صاحب کے کالم کتابی صورت میں موجود ہیں ۔’’آدھی رات کے دانشور کے نام ‘‘ایک ایسی تحریر ہے جس میں قوم کے ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جو عوام کے سامنے ایک بات کہتے ہیں اوران حکمرانوں کے گیت گاتے ہیں جنہوں نے وادی میں خون کی ندیاں بہائیں ، عزت و عصمت کی دھجیاں اڑائیں ،بے گناہوں کو سر عام قتل کرڈالا ،وطن عزیز پر جان نچھاور کرنے والوں کو یا تو غائب کیا یا پھر زندہ درگور کیا اور خود کو دانشور کہتے ہیں۔ایک اقتباس ملاحظہ کریں؛ ’’یعنی رت بدل گئی سماں بدل گیا ،اس بدلی بدلی فضا میں یہاں کے نام نہاد دانشور آئے دن جو تجربے، تبصرے اور روڈ میپ نازل کر رہے ہیں اسے ہم زیادہ دیر نظر انداز نہیں کر سکتے ۔یہ نام نہاد دانشور حکام کے ساتھ ڈنر کر کے اپنے ڈرائنگ روم سے آرام دہ صوفوں پر بیٹھ کر کاغذی بیانات سے جنگ لڑ رہے ہیں میں انہیں آدھی رات کے دانشور کہتا ہوں۔‘‘ ؎۳
جموں و کشمیر میں آئے روز ایسے ہزاروں حادثات ہوتے رہتے ہیں جن کا سہارا لے کر نام نہاد سیاست دان اپنی گند ی سیاست کا بازار گرم کرتے رہتے ہیں اور عوام سے دھوکہ دہی کر کے خود لاکھوں اور کروڑوں میں کھیلتے ہیں۔
منصور کی تحریروں میں ایک الگ چاشنی ملتی ہے۔ اگر کشمیر کی تاریخ کو جاننا ہو تو تاریخی کتابیں نہ پڑھئے بلکہ منصور احمد منصور کی تصنیف ’’کشمیر خواب سراب گرداب ‘‘کی تمام تخلیقات کا مطالعہ باذوق قاری کی طرح کیجئے جہاں ہر اس چیز کو بے نقاب کیا گیا جس نے کشمیر اور کشمیری دونوں کو تباہی کی طرف دھکیل دیا ۔لوگوں کو سرعام کچل ڈالا، ماؤں کی گودیں سوہنی کردی، جوانوں کو مار مار کے بے دردی کے ساتھ قتل کیا، غازیانہ وطن کو پابند سلاسل کیا۔
طنزومزاح کا ایسا عنصر منصور کے علاوہ کسی اور ادیب کے یہاں نہیں ملے گا جس میں مسکراہٹ /تبسم کے لالے پھوٹ پڑتے ہیں جہاں نہ صرف مزاح کی لہریں نکل پڑتی ہیں بلکہ چیر دینے والے نشتروں کے ساتھ باذوق قاری قیمتی آنسو بہا کر خون کے آنسو رونے کو بھی تیار ہو جاتا ہے جب وہ کشمیر کی عصری زندگی کے نشیب افرازاور تباہی کی تاریخ کو طنز و مزاح کے آئینے میں موصوف کے ساتھ بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ان کی مزاحیہ نگاری کا ڈکشن بھی اپنے آپ میں ایک نرالا ہنر رکھتا ہے جو صاف اور سادہ ہونے کے ساتھ منطقی اثرورسوخ کا بھی مالک ہے۔ ان کی تخلیق ’’جوتوں کی جمالیات‘‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے؛’’ آدمی آم کھاتا ہے اور گٹھلی پھینک دیتا ہے لیکن جوتا کھانے کے بعد بھی کام کا ہوتا ہے۔۔۔ اسی لیے تو میں کہتا ہوں کہ جوتوں کی اپنی ایک جمالیات ہے۔ کشمیری جوتوں کی جمالیات تو سب سے انوکھی اور نرالی ہے میں نے جب بھی اس پر غور کیا اسے اپنے سیاسی و تاریخ پس منظر میں رکھ کے دیکھ لیا تو یہ نتیجہ اخذ ہوا کہ جوتے ہمیں بہت مرغوب رہے۔ ۔۔ جوتے جمال سے زیادہ جلال سے تعلق رکھتے ہیں یہ بڑے جلالی ہوتے ہیں چنانچہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہ مانیںجوتوں سے ضرورمان جاتے ہیں ۔۔۔ ہم بھی جوتے کھانے سے کبھی بھی بد مزہ نہ ہوئے اس لئے ہم بار بار جوتا کھائے گئے۔ مغلوں، سکھوں ،پٹھانوں، ڈوگروں اور عوامی حکومت کے ہاتھوں بس کھائے گئے۔ ایک ہم نے ہی تھوڑے کھائے۔ رائے شماری نے بھی انیس سو پچاس میں کھائے انیس سو ستاسی کے انتخابات میں جمہوریت نے بھی رج کر اور جی بھر کر کھائے۔غرض سو پشت سے آبا کا پیشہ ہے ۔۔۔‘‘ ؎۴
اس طرح یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ مزاحیہ کالم نگاری کی تاریخ میں وادی کشمیر کے جتنے بھی ادیب تعلق رکھتے ہیں، ان میں منصور احمد منصور واقعتا ایک باب کی حیثیت رکھتے ہیں جنہوں نے اگرچہ بہت ہی کم وقت تک اپنے کالم اخبارات میں شائع کیے لیکن اسے ان کی تحریر پر کوئی فرق نہیں پڑ تا؛’’دو سال یہ سلسلہ جاری رہنے کے بعد انیس سو اٹھاسی عیسوی میں اس وقت ٹوٹ گیا جب میرے قارئین کا وہ حلقہ بھی بکھر گیا جن کے ساتھ مختلف اخباروں آفتاب، وادی کی آواز، دبستان ،دہکان میں کام کرتے رہنے سے ایک خاص تعلق خاطر پیدا ہوا تھا ‘ ‘ ( بحوالہ : کشمیر ۔۔۔خواب ، سراب ، گرد آب،ص7)
( مقالہ نگار ڈگری کالج حاجن کے شعبہ اردو میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر تعینات ہیں۔زیر نظر مقالہ جاری ہے اور ایک نئے پہلو کے ساتھ اگلی قسط انشاء اللہ اگلے ہفتہ شائع کی جائے گی )
ای میل۔m [email protected]
فون نمبر۔8082706051