جموں و کشمیر میں پچھلے سال کا کیوٹ یو جی معاملہ حل کر لیا گیا امسال کمپیوٹر پر نہیں، سکولوں میں تحریری امتحانات ہونگے:چیئر مین

 عظمیٰ نیوز سروس

جموں// یونیورسٹی گرانٹس کمیشن چیئرمین جگدیش کمار نے کہا ہے کہ (یو جی سی) ایک ریگولیٹر نہیں بلکہ ایک سہولت کار بننا چاہتا ہے اور اعلی تعلیم کے شعبے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔یو جی سی سربراہ نے کہا کہ ملک بھر کی بہترین یونیورسٹیوں میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے کامن یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ-انڈر گریجویٹ (CUET-UG) میں پچھلے سال جموں و کشمیر سے سات گنا زیادہ طلبا نے شرکت کی۔انہوں نے کہا کہ پچھلے ایڈیشن میں امیدواروں کو درپیش مسائل کو اس سال حل کیا جائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے گزشتہ سال جموں و کشمیر میں CUET کے امتحانی مراکز کی کمی کا مسئلہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے ساتھ اٹھایا تھا اور کہا تھا کہ مختلف امیدواروں کو ایسے مراکز الاٹ کیے گئے ہیں جو 300 کلومیٹر سے زیادہ دور ہیں۔یہاں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ میں NEP پر کانفرنس کے موقعہ پر کمار نے نامہ نگاروں کو بتایاکہCUET کے حوالے سے طلبا کو کچھ مسائل درپیش تھے اور ان کو حل کر لیا گیا ہے۔

 

پچھلے سال، یہ کمپیوٹر پر مبنی ٹیسٹ تھا لیکن اب ہم OMR ( تحریری امتحان )متعارف کروا رہے ہیں اور CEUT کو ہائبرڈ موڈ میں کرایا جائے گا تاکہ کالجوں اور اسکولوں کو مراکز کے طور پر استعمال کیا جائے اور ہمارے طلبا ء کو قریب ہی امتحان میں شرکت کا موقع ملے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل یونیورسٹیوں میں داخلے بورڈ کے نمبروں کی بنیاد پر ہوتے تھے اور اس سے طلبا پر بہت زیادہ دبائو پڑتا تھا۔ “CUET کے متعارف ہونے سے تنا ئوکی سطح کم ہو گئی ہے اور تمام طلبا کو برابری کا میدان مل رہا ہے۔ CUET نے مکمل تبدیلی لائی ہے اور قومی یکجہتی کو مضبوط کیا ہے۔”کمار نے کہا کہ سنٹرل بورڈ آف اسکول ایجوکیشن پیشہ ورانہ تربیت کو متعارف کراتے ہوئے اصلاحات بھی متعارف کروا رہا ہے، جس کا پہلا مرحلہ کلاس 9 سے 12 تک کا احاطہ کرے گا اور اس کے بعد دوسرا مرحلہ کلاس 6 اور اس سے اوپر کا احاطہ کرے گا۔آرٹیکل 370 کی 2019 کی منسوخی کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر جس نے جموں و کشمیر کو خصوصی درجہ دیا، انہوں نے کہا کہ کتابوں، لیپ ٹاپس اور تخلیقی ذہنوں کو چمکانے پر توجہ دی گئی ہے تاکہ ملک کو “2047 تک مکمل طور پر ترقی یافتہ بنایا جا سکے۔”انہوں نے مزید کہا کہ “جموں و کشمیر میں تعلیم کے نقطہ نظر سے دیکھتے ہوئے، اب مواقع بڑھ رہے ہیں اور طلبا مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے باہر اعلی تعلیم کی تلاش کر رہے ہیں۔”