یو این آئی
پنجی// ملک میں مارشل آرٹس میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کے درمیان جموں و کشمیر میں مارشل آرٹ کی دو شکلیں پینکاک سیلاٹ اور اسکوے نیشنل گیمز میں اپنا ڈیبیو کرنے کیلئے تیار ہیں۔گوا میں 37ویں قومی کھیلوں میں منعقدہ پروگراموں میں بھی یہ نظر آتا ہے۔ اسکوے کو کشمیری روایتی مارشل آرٹ کے طور پر جانا جاتا ہے اور اس وقت سے اس پر عمل کیا جاتا ہے جب سے انسانوں کو جنگلی جانوروں سے مستقل طور پر خود کو بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بہت پہلے دیا دیو نامی بادشاہ نے ایک فوج قائم کرنے کی ہدایت دی تھی جو خاص طور پر اسکوے میں ماہر ہو۔مارشل آرٹس گوا اسکائی ایسوسی ایشن کے صدر سدھیش شری پد نائک نے کہا ’’یہ ہم سب کے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہ اسکائی کو پہلی بار قومی کھیلوں میں شامل کیا گیا ہے۔ ہماری فیڈریشن تقریباً 23 ریاستوں کے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے، یہ سبھی اس میں حصہ لے رہے ہیں‘‘۔37 ویں قومی کھیلوں میں گوا کے تمغہ جیتنے کے امکانات پر انہوں نے کہا’’یہ کھیل گوا میں گزشتہ 20 برسوں سے کھیلا جا رہا ہے۔ ہمارے کھلاڑی اور کوچ بھی طویل عرصے سے اس سے وابستہ ہیں‘‘۔ مارشل آرٹس ایونٹ پینکاک سیلاٹ کا آغاز انڈونیشیا سے ہوا لیکن جموں و کشمیر میں بہت مقبول ہوگیا ہے۔