50ہزار سے زائد امیدوار 128مراکز میں شریک، بائیومیٹرک تصدیق نمایاں خصوصیت
زہر النساء
سرینگر //جموں و کشمیر بھر میں ہزاروں طبی تعلیم کے خواہش مند طلبہ نے اتوار کو نیٹ۔یو جی 2026کے دوبارہ امتحان میں غیر معمولی سیکورٹی اور انتظامی انتظامات کے درمیان شرکت کی۔ ملک بھر میں تقریباً 23لاکھ امیدواروں نے اس امتحان میں حصہ لیا، جو بھارت کی تاریخ کے سب سے زیادہ نگرانی والے داخلہ امتحانات میں شمار کیا جا رہا ہے۔صبح سویرے ہی سرینگر، جموں اور دیگر اضلاع کے امتحانی مراکز کے باہر امیدواروں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔ فکرمند والدین کے ہمراہ طلبہ اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہے، کیونکہ ان کے پورے تعلیمی سال کا مستقبل اس امتحان سے وابستہ تھا۔ 3مئی کو منعقد ہونے والے پہلے امتحان کی منسوخی کے بعد طلبہ میں ذہنی دباؤ میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جب انہیں متعدد سطحوں پر تصدیق، تلاشی اور جانچ کے مراحل سے گزرنا پڑا۔جموں و کشمیر میں 50ہزار سے زائد امیدواروں نے دوبارہ امتحان میں شرکت کی، جس کے لیے جموں اور سرینگر سمیت مختلف اضلاع میں 128امتحانی مراکز قائم کیے گئے تھے۔متعدد امتحانی مراکز میں عملے کو صبح 8بجے ڈیوٹی پر حاضر ہونے کی ہدایت دی گئی، جبکہ معمول کے مطابق انہیں صبح 10بجے رپورٹ کرنا ہوتا ہے۔ امتحان سے ایک روز قبل بیشتر مراکز طلبہ کے لیے بند رکھے گئے تاکہ سیکورٹی اور دیگر انتظامات کو مکمل کیا جا سکے۔ امتحانی عملے نے اس دوبارہ امتحان کو ’’ایک غیر معمولی تجربہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے سخت ضابطے یو جی سی کے امتحانات میں بھی دیکھنے کو نہیں ملتے۔امتحان کے پرامن اور شفاف انعقاد کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ امتحانی مراکز پر سیکورٹی اہلکار تعینات کیے گئے، سخت تلاشی کا عمل اختیار کیا گیا اور امیدواروں کی بایومیٹرک تصدیق کے ساتھ ساتھ دستاویزات کی جانچ بھی کی گئی۔ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی(این ٹی اے) اور متعلقہ سرکاری اداروں نے امتحان کی شفافیت یقینی بنانے کے لئے سی سی ٹی وی نگرانی سمیت خصوصی مانیٹرنگ نظام نافذ کیا تھا۔یہ دوبارہ امتحان نیٹ-یو جی 2026کے اصل امتحان کی منسوخی کے بعد منعقد کیا گیا، جس پر مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات سامنے آئے تھے۔ اس صورتحال نے ملک بھر کے طلبہ کو غیر یقینی، ذہنی دباؤ اور طویل تیاری کے مرحلے سے دوچار کر دیا تھا۔ امتحان دوپہر 2بجے سے شام 5بج کر 15منٹ تک سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان منعقد ہوا۔کشمیر کے مختلف امتحانی مراکز کے باہر امیدواروں نے گھبراہٹ اور تھکن کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔ تاہم امتحان کے بعد کئی طلبہ کے چہروں پر محتاط امید بھی دکھائی دی۔ متعدد امیدواروں نے بتایا کہ انہوں نے گزشتہ کئی ہفتے دوبارہ تیاری اور گزشتہ امتحان میں کی گئی غلطیوں کی اصلاح میں صرف کیے۔دوسری جانب والدین امتحانی مراکز کے باہر بے چینی کے ساتھ اپنے بچوں کا انتظار کرتے رہے اور امید ظاہر کی کہ یہ دوبارہ امتحان ان کے بچوں کی محنت کا ثمر ثابت ہوگا۔ امتحان سے متعلق تنازعے کے باعث پیدا ہونے والا ذہنی دباؤ تقریباً ہر امیدوار اور والدین کے چہروں پر نمایاں تھا۔بعض طلبہ نے اس امتحان کو میڈیکل کالجوں میں داخلہ حاصل کرنے کا ایک دوسرا موقع قرار دیا، کیونکہ داخلے کے عمل میں غیر متوقع تاخیر نے انہیں ایک طویل اور پریشان کن تعلیمی مرحلے سے گزارا۔