جموں وکشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کی بحالی

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان محمد اکبرلون اورحسنین مسعودی نے ملکی آئین کے معمار آنجہانی بھیم رائو امبیڈکر کو132ویں سالگرہ پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آنجہانی نے ہندوستان کو ایک ایسا آئین دیا جس میں ہر ایک مذہب، طبقہ اور فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو آزادی حاصل تھی۔ اس آئین میں جمہوری اور مذہبی آزادی کیساتھ ساتھ اظہارِ رائے کی آزادی بھی حاصل تھی اور اسی آئین میں جموںوکشمیر کو دفعہ370اور 35اے کے تحت خصوصی درجہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں جموں و کشمیر کوجو حقوق اور ملک کی دیگر ریاستوں کے شہریوں کو جو آزادی فراہم کی تھی بھاجپا حکومت نے اس کی دھجیاں اُڑادیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھاجپا نے گذشتہ 8سال کے دوران حکومت میں رہ کر اُنہی روایات کو دوام بخشا جن کے خاتمے کیلئے امبیڈکر نے جدوجہد کی تھی۔ ملک میں آج پھر سے اونچ نیچ، چھوت چھات ،نابرابری ، فرقہ پرستی اور ناانصافی کا دور دورہ ہے اور یہ رجحان ہر گزرتے دن کیساتھ مرکزی حکومت کی پشت پناہی میں پھیلتا جارہا ہے۔ اراکین پارلیمان نے کہا کہ بیم رائو امبیڈکر نے جمہویت اور اظہار رائے کی آزادی کیلئے جنگ لڑی لیکن آج نہ کہیں جمہوریت ہے اور نہ ہی اظہارِ رائے کی آزادی۔ اُن کا کہنا تھا کہ امبیڈکر نے ملک کو آئین کی بالادستی اور آئین کو ہمیشہ مقدم رکھنے کا درس دیا لیکن جب سے بھاجپا کی حکومت معرض وجود آئی ہے تب سے آئین کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں اور 5اگست2019بھی اسی کی ایک بدترین کڑی تھی۔ بھاجپا نے جموں وکشمیر کے عوام سے وہ حقوق غیر آئینی طور پر چھین لئے جن کی ضمانت اُس آئین ہند میں دی تھی جس کے معمار بیم رائو امبیڈکر تھے۔ اراکین پارلیمان نے کہاکہ امبیڈکر کو سب سے بڑا خراج عقیدت آئین کو مقدم سمجھ کر جموںوکشمیر کے آئینی اور جمہوری حقوق کو بحال کرنا ہوگا۔