جموں وکشمیر کے افسران مرکز کی گورننس اصلاحات نافذ کریں: جتیندر سنگھ ریاسی میں لیتھیم کی دریافت "بھارت کی اگلی بڑی کہانی" ثابت ہو سکتی ہے

اتراکھنڈ// لال بہادر شاستری نیشنل اکیڈمی آف ایڈمنسٹریشن (ایل بی ایس این اے اے) اتراکھنڈ میں جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس) کے سینئر افسران کے لیے فیلڈ ایڈمنسٹریشن میں صلاحیت سازی پروگرام کے ساتویں بیچ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ، جو ڈی او پی ٹی کے انچارج بھی ہیں ، نے کہا “میں آپ سے اپیل کرتا ہوں کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے ذریعہ متعارف کرائے گئے مرکز کی گورننس اصلاحات کے اتپریرک بنیں اور جموں و کشمیر میں ان کے موثر نفاذ میں مدد کریں”۔انہوں نے کہا کہ جموں اور کشمیر اور غیر دریافت شدہ شمال مشرقی خطہ (این ای آر) کے پاس بہت زیادہ قدرتی وسائل ہیں جو امرت کال کے دوران بھارت کی مستقبل کی ترقی کی کہانی کو 2047 میں وکشت بھارت کے حصول کی طرف لے جائیں گے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، جموں و کشمیر کے بھدرواہ اور گلمرگ علاقوں میں خوشبو مشن اور جامنی انقلاب کی کامیابی کے نتیجے میں 3,000 سے زیادہ سٹارٹ اپس صرف لیوینڈر کی کاشت میں مصروف ہیں۔ اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش نے لیوینڈر کی کاشت کے ماڈل کا مطالعہ کرنے کے لیے جموں و کشمیر میں وفود بھیجے ہیں اور خوشبو مشن کی تقلید میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔انہوںنے کہا کہ ضلع ریاسی میں لیتھیم کی دریافت “بھارت کی اگلی بڑی کہانی” ثابت ہو سکتی ہے، جس سے ملک کی معیشت کو کئی گنا فروغ ملے گا۔اْنہوں نے کہا،”تجزیہ سے پتہ چلتا ہے کہ ریاسی میں لیتھیم کے ذخائر کی قدر چین سے زیادہ ہو سکتی ہے”۔انہوں نے کہا کہ لیتھیم ریچارج ایبل بیٹریوں میں ایک کلیدی جز ہے اور جب دنیا قابل تجدید توانائی کی طرف متوجہ ہو رہی ہے تو لیتھیم کی بہت زیادہ مانگ ہے۔ یہ بتاتے ہوئے کہ جموں و کشمیر سے اشیاء کی بڑھتی ہوئی تعداد کو جیو ٹیگ کیا گیا ہے،ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کے افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ مقامی معیشت کو فروغ دینے کے لیے یو ٹی سے جی آئی ٹیگ شدہ مصنوعات کی فروخت کو فروغ دیں۔انہوں نے کہا کہ جب سے وزیر اعظم نریندر مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالا ہے، انہوں نے بھارت کے نظر انداز اور دور دراز علاقوں بشمول جموں و کشمیر، لداخ، جزائر اور این ای آر کو قومی دھارے میں لانے کا عہد کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ جموں و کشمیر میں آج ایک ایکسپریس کوریڈور، سب سے اونچا ریل پل ہے جو جلد ہی کشمیر وادی کو ریلوے نیٹ ورک سے جوڑ دے گا اور قومی اہمیت کے متعدد منصوبوں پر تیزی سے کام کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر GRAMS پورٹل کو CPGRAMS کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے تاکہ سنٹرل اور یوٹی انتظامیہ کے درمیان بغیر کسی رکاوٹ کے شکایات کا ازالہ کیا جا سکے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈی اے آر پی جی کے سکریٹری وی سرینواس نے کہا کہ جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس کے 280 سے زیادہ افسران نے این سی جی جی کا دورہ کیا ہے۔ یہ ورکشاپ 2019 میں جموں و کشمیر انتظامیہ اور NCGG کے درمیان 5 سال کی مدت میں جموں و کشمیر کیڈر کے 500 افسران کو تربیت دینے کے لیے دستخط کیے گئے مفاہمت نامے کا حصہ ہے۔7واں صلاحیت سازی پروگرام 27 نومبر 2023 سے 8 دسمبر 2023 تک این سی سی جی، میسور میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام میں سکریٹریز، اسپیشل سیکریٹریز، ایڈیشنل سیکریٹریز، سی ای اوز، ڈائرکٹرس، جوائنٹ ڈائرکٹرس، ڈیولپمنٹ آفیسرس کے علاوہ دیگر کی صفوں میں کام کرنے والے جے کے اے ایس کے 26 افراد شرکت کر رہے ہیں۔