محمد تسکین
بانہال // امرناتھ یاترا 2026 کے آغاز سے قبل جموں سرینگر قومی شاہراہ پر جاری تعمیراتی کام میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیانے رام بن اور بانہال کے درمیان شاہراہ کے چند انتہائی حساس اور حادثات کے شکار حصوں کو جزوی طور پر بائی پاس کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے، جس سے یاترا کے دوران ٹریفک کی روانی بہتر ہونے اور مسافروں کو فوری راحت ملنے کی توقع ہے۔ فور لین شاہراہ منصوبے کے تحت ادھمپور سے بانہال تک بیشتر کام مکمل ہو چکا ہے، تاہم رام بن اوربانہال کے درمیان تقریباً 35 کلومیٹر سیکٹر میں ماروگ، ڈگڈول، پنتھیال، مکرکوٹ اور شیر بی بی کے مقامات پرزیر تعمیر ٹنلوں، پلوں اور وایاڈکٹس پر کام آخری مراحل میں ہے اور ان منصوبوں کے آئندہ سال کے آخر تک مکمل ہونے کی امید ہے۔
اس کے علاوہ گزشتہ برس شدید بارشوں، سیلابی ریلوں، بادل پھٹنے اور زمین کھسکنے کے واقعات سے متاثر ادھمپور ضلع کے بعض مقامات پر بھی شاہراہ کی مضبوطی اور استحکام کے لیے اضافی کام جاری ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر شبھم یادو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ یاترا کے دوران ڈگڈول اور پنتھیال کے درمیان زیر تعمیر دو سرنگوں پر مشتمل تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر طویل ایک ٹنل کو ٹریفک کے لیے کھولا جائے گا جبکہ مکرکوٹ اور شیر بی بی کے درمیان زیر تعمیر تقریباً ساڑھے پانچ کلومیٹر طویل وایاڈکٹ کے 800 میٹر حصے کو بھی گاڑیوں کی آمدورفت کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ڈگڈول، خونی نالہ، پنتھیال اور رامسو کے موم پسی سمیت شاہراہ کے متعدد حصے گزشتہ کئی دہائیوں سے لینڈ سلائیڈنگ، پتھر کھسکنے، مٹی کے تودے گرنے اور خراب موسمی حالات کے باعث بار بار ٹریفک کی بندش کا سبب بنتے رہے ہیں۔ خصوصاًخونی نالہ اور پنتھیال کا علاقہ قومی شاہراہ کے خطرناک ترین حصوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں معمولی بارش کے دوران بھی ٹریفک متاثر ہونے اور حادثات پیش آنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
شبھم یادو کے مطابق اگرچہ ڈگڈول اور پنتھیال کے درمیان دو سرنگوں پر مشتمل ٹنل منصوبہ ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا ہے تاہم یاترا کے پیش نظر اس کا ایک اہم حصہ ٹریفک کے لیے کھولا جا رہا ہے، جس سے سفر کا دورانیہ کم ہوگا، ٹریفک جام میں کمی آئے گی اور مسافروں کو زیادہ محفوظ سفری سہولت میسر آئے گی۔ شبھم یادو نے کہا کہ ادہمپور میں پچھلے سال اپریل کے مہینے میں آئے سیلابی ریلوں ، بادل پھٹنے اور پسیوں سے شاہراہ کو پہنچے نقصان کی مرمت کا نوے فیصد کام مکمل کیا گیا ہے اور جموں سرینگر قومی شاہراہ ہر لحاظ سے بہتر کی گئی ہے۔ جموں-سرینگر قومی شاہراہ کے بیشتر فور لین منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں اور باقی ماندہ کام بھی تیزی سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔ڈگڈول ۔ پنتھیال ٹنل کے جزوی افتتاح اور مکرکوٹ-شیر بی بی وایاڈکٹ کے ایک حصے کو ٹریفک کے لیے کھولنے سے نہ صرف لاکھوں امرناتھ یاتریوں بلکہ روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں مقامی مسافروں اور مال بردار گاڑیوں کو بھی نمایاں فائدہ پہنچے گا، جبکہ رام بن ضلع میں شاہراہ کے حساس ترین حصوں میں سفر پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور آسان ہو جائے گا۔